کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ ڈنمارک میں اسلامی اقدار کے منانی کارٹونوں کی اشاعت پر سفارتی بحران اتنی تیز رفتاری سے تو سامنے نہیں آیا تاہم آہستہ آہستہ یہ مسئلہ زور پکڑگیا ہے اور اس کے اثرات بھی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ سلسلہ ڈنمارک کے ایک اخبار میں پیغمبر اسلام کے بارے میں شائع ہونے والے کارٹون سے شروع ہوا۔ جس پر شاید کچھ لوگ شروع میں ہنسے ہوں گے تاہم اب یہ معاملہ کافی سنجیدگی اختیار کرگیا ہے۔ عالمی رد عمل کے طور پر کئی مالک نے اپنے سفیروں کو ڈنمارک سے واپس بلالیا ہے اور سعودی عرب اور فلسطین میں مقیم ڈنمارک کے باشندوں کو موت کی دھمکیوں کے بعد یہ ممالک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ مختلف کاروبار سے منسلک سینکڑوں ڈنمارک کے شہری کارکنان کو مسلم دنیا کے بائی کاٹ کی وجہ سے اپنے کام میں تعطل اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اگرچہ اخبار نے اپنے کیے پر معافی مانگی ہے تاہم یہ بحران فی الحال ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ڈنمارک کے نوجوان حیران ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ ایسا اقدام تو نہ تھا جس پر اتنا اشتعال سامنے آتا۔ ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ ایسا کارٹون بنانا بے وقوفی ہے کیونکہ آزادی اظہار صرف ایک حق ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ متنازعہ کارٹون شائع کرنے والے اخبار جے لینڈز پوسٹن کے دفاتر کوپن ہیگن میں واقع ہیں۔ منگل کو بم رکھے جانے کی افواہ پر پولیس نے یہ دفاتر خالی کرالیے تھے۔ اخبار کے صدر دفتر میں بھی ایسی ہی دھمکی دی گئی تھی تاہم اخبار کا اصرار ہے کہ یہ کارٹون شائع کرنا اس کا حق تھا۔ اخبار کے مدیر فلیمنگ روز کا کہنا ہے کہ وہ کارٹونوں کی اشاعت کے فیصلے کے حق میں ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر فلیمنگ کو اس اشاعت کے رد عمل کا اندازہ ہوتا تو کیا تب بھی وہ اس کے حق میں ہوتے۔ اس پر وہ کہتے ہیں کہ ’یہ تو فرضی سوال ہے۔ مجھے ان کارٹونوں کے کمیشن کرنے پر افسوس نہیں ہے‘۔ ڈنمارک کے وزیراعظم اینڈرز فو راسمسان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں آزادی اظہار کی روایت پرانی ہے تاہم اس حالیہ معاملے پر لوگوں کی دل آزاری پر انہیں افسوس ہے۔ سعودی عرب میں خریداروں پر زور دیا جارہا ہے کہ ڈنمارک کی اشیا نہ خریدیں۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اخبار کی جانب سے مانگی گئی معافی سے شاید کچھ ازالہ ہوسکے۔ تاہم ڈنمارک کے کئی افراد کے لیے اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ ڈنمارک کے کاروباری حلقے اب تک مسائل کا شکار ہوچکے ہیں کیونکہ مشرق وسطٰی کے کئی ممالک نے ان کی اشیا کا بائی کاٹ کردیا ہے۔ اس وقت ڈنمارک کے لیے اہم بات یہ ہے کہ کوپن ہیگن میں اسلامک فیڈریشن کے صدر دفاتر میں کیا فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ڈنمارک کے مسلمان بھی اسی غم و غصہ کے ساتھ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جیسا کہ مشرق وسطٰی کے دیگر ممالک کے لوگ۔ گزشتہ چند روز کے دوران ڈنمارک کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے جسے پہلے پرامن اور دوسروں کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے والا ملک سمجھا جاتا تھا۔ | اسی بارے میں کارٹون تنازع: فرانس میں ایڈیٹر برطرف02 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازع: مقرر اشاعت پر موقف 01 February, 2006 | آس پاس توہین آمیز کارٹون پر معذرت31 January, 2006 | آس پاس ’مذہب کی توہین، سفارتخانہ بند’ 30 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||