BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 January, 2006, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذہب کی توہین، سفارتخانہ بند’
اس اقدام پر دنیا بھر کے مسلمان مشتعل ہیں
اس اقدام پر دنیا بھر کے مسلمان مشتعل ہیں
لیبیا نے کہا ہے کہ ڈنمارک کے ایک اخبار میں کارٹونوں کے ایک سلسلے کی اشاعت پر وہ احتجاج کے طور پر وہاں اپنا سفارتخانہ بند کررہا ہے۔ان کارٹونوں کو پیغمبر اسلام سے منسوب کیا جارہا ہے۔

لیبیا کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی حکومت ایولینڈز پوسٹنز کے بنائے گئے ان کارٹونوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ مسلم دنیا کے اشتعال کے باوجود ڈنمارک کی حکومت نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ڈنمارک کے اس اخبار کا موقف ہے کہ اس کامقصد مذہب اسلام کی تضحیک نہیں تھا۔ اسلام میں ایسی کوئی بھی شبیہ بنانا جائز نہیں سمجھا جاتا جسے پیغمبر اسلام یا اللہ سے منسوب کیا جائے۔

لیبیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے ’چونکہ ڈنمارک کا یہ اخبار پیغمبر اسلام کی توہین کا مرتکب ہوا ہے اور حکومت اس کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے اس لیے ہم نے کوپن ہیگن میں اپنا سفارتخانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

لیبیا کے حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ڈنمارک کے خلاف اقتصادی اقدامات بھی کرے گا تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اقدامات کیا ہوں گے۔

کئی مسلمان ممالک کے سفیروں نے اس معاملے کی شکایت ڈنمارک کے وزیر اعظم سے کی ہے اوراحتجاجاً ڈنمارک برآمد کی جانے والی اشیاء روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے ڈنمارک سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا تھا۔

ڈنمارک کی حکومت نے ان بارہ کارٹونوں کی اشاعت پر افسوس کا اظہار تو کیا ہے لیکن یہ کہہ کر اس معاملے میں مداخلت کرنےسے انکار کردیا ہے کہ یہ آزادی اظہار کے خلاف ہے۔

ڈنمارک کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت کسی بھی طرح میڈیا پر اثر انداز نہیں ہوسکتی اور نہ ہی وہ ایک آزاد اخبار میں شائع ہونے والی چیزوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرائی جاسکتی ہے۔

یہ بیان انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی کے دورے کے دوران دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کارٹونوں کی اشاعت ایک غلطی تھی۔

کارٹونسٹ ایولینڈ نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ کارٹون اسلام میں اظہار کی حدود آزمانے کے لیے شائع کیے تھے۔

اسی بارے میں
قبرستان سے باہر تدفین
05 December, 2004 | پاکستان
جعلی’امام مہدی‘ گرفتار
15 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد