جعلی’امام مہدی‘ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد پولیس نے امام مہدی کا دعوی کرنے والے شخص اور اس کے پچیس پیرو کاروں کے خلاف توہین رسالت اور انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت تعزیرات پاکستان کی مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، بارہ خود کار رائفلیں، اور سولہ پستول برآمد ہوئے ہیں جبکہ ان کے پاس سے چند ایسے خطوط بھی برآمد ہوئے ہیں جو انہوں نے صدر پرویز مشرف کو لکھے تھے۔ تھانہ نشاط آباد فیصل آباد کے انسپکٹر عصمت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انسپکٹر نے ان خطوط کے مندرجات بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت ان کے حوالے کر دی جائے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کا کہنا تھا کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو جمعرات کی شام چار بجے تک قیامت آجائے گی۔ تھانہ نشاط آباد کے سٹیشن ہاؤس آفیسر کا کہنا ہے کہ یہ انتیس افراد تھے اور ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی آتشیں اسلحہ تھا۔ ان تمام کے خلاف ناجائز اسلحہ کی برآمدگی کا مقدمہ بھی درج ہوا ہے۔ پولیس افسر کے بقول انہوں نے یہ اسلحہ علاقہ غیر سے حاصل کیا تھا اور انہوں نے اپنی باقاعدہ انتیس رکنی فوج بنا رکھی تھی انہوں نے اپنی نارنجی رنگ کی وردی پر پٹیاں بھی باندھ رکھیں تھیں جن پر دین یونس لکھا ہے۔ رات گئے تک دین یونس کے ان پیروکاروں کو تھانہ کی حوالات میں بند نہیں کیا گیا تھا اور کسی نامعلوم مقام پر پولیس اور مخلتف سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔ ان افراد کو پولیس نے طویل مقابلے اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد فیصل آباد موٹر وے سے گرفتار کر لیا تھا۔ ان افراد نے ایک بس کے مسافروں کو یرغمال بنائے رکھنے کے علاوہ کئی گھنٹے تک موٹر وے پر ٹریفک بھی بلاک کیے رکھی تھی۔ | اسی بارے میں توہین رسالت پرسزائےموت27.07.2002 | صفحۂ اول پیغمبرِ اسلام کی خیالی تصویر شائع20 July, 2005 | انڈیا نعلین مبارک چوری01.08.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||