صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 |  اسلام میں پیغمبر کی تصویر ممنوع ہے |
ریاست اتر پردیش میں پولیس نے پیغمبر اسلام حضرت محمد کی ایک خیالی تصویر شائع کرنے پر ایک پبلشر کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کہنا ہے کہ اس واقعے سے مسلم برادری میں غم وغصے کی لہر دوڑ سکتی ہے۔ دلی سے تقریبا پینسٹھ کلومیٹر دور واقع میرٹھ شہر کے ایک چھاپے خانے ’ہیوینز پبلیکیشن ہاؤس‘ نے ’گیان گنگا‘ یعنی علم کا دریا نام سے ایک کتاب شائع کی ہے۔اس میں پیغبر اسلام کا ایک تصویری خاکہ بھی شائع کیا گيا ہے۔ اسلام میں پیغمبر کی تصویر بنانا ممنوع ہے۔ اس سے قبل کہ اس پر زیادہ ہنگامہ آرائی ہوتی پولیس نے فوری کارروائی کی ہے۔ ناشرامت اگروال کو پولیس نے گرفتار کیا ہے اور اسے چودہ روز کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ چندرا بھانو کا کہنا ہے کہ اس کتاب کی کچھ نقول بھی ضبط کی گئیں ہیں۔ علاقے کےایک مسلم باشندے نے پولیس سے شکایت کی تھی کہ کتاب میں پیغمبر اسلام کی تصویر شائع کرنے سے مسلم برادری کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ بقول ان کے اسلامی عقیدے کے قطعی منافی ہے۔ اس شکایت کے فورا بعد پولیس نے پبلشر کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے پیغمبر اسلام کا یہ خاکہ ریاست ہماچل پردیش کےضلع اونا سے شائع ایک کتاب میں بھی شامل کیا گيا تھا۔ لیکن چونکہ وہ ایک پرائیویٹ اور بہت چھوٹی کمپنی تھی اسی لیے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پبلشر کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ پیغمبر اسلام کی کسی طرح کی تصویر شائع کرنا ممنوع ہے۔ |