کارٹون پر پاکستان کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں تعینات ڈنمارک کے سفیر کو دفتر خارجہ بلا کر ایک ڈینش اخبار میں پیغمبر اسلام کے بارے میں چھپنے والے کیری کیچرز کی اشاعت پر احتجاج کیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج آج ریکارڈ نہیں کروایا گیا اور سفیر کی طلبی ڈینش اخبار میں چھپنے والے کیری کیچرز کے فورا بعد کی گئی تھی۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اشاعت کا اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے نوٹس لیا ہے اور پاکستان اس مسئلے پر ڈنمارک کی حکومت سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈنمارک کی حکومت اس بات پر غور کرے گی کہ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اربوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ناروے کی حکومت نے ان کیری کیچرز کی ایک نارویجن اخبار میں دوبارہ اشاعت کے بعد ان کی اشاعت پر معافی مانگ لی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اب یہ کیری کیچر یورپ کے کئی دوسرے ممالک کے اخبارات میں بھی شائع کیے گئے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں دفتر خارجہ اپنا رد عمل بعد میں دے گی۔
پاکستان میں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کی طرح تو ان کیری کیچرز کی اشاعت پر احتجاج نہیں کیا گیا تاہم متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ کل یعنی جمعہ کو ان کیری کیچرز کی اشاعت پر دینی جماعتیں احتجاجی جلسے کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو ڈنمارک سے سفارتی تعلقات منقطع کر لینے چاہئیں۔ پاکستانی اخبارات میں بھی ان کیری کیچرز کی اشاعت کی خبریں نمایاں طور پر شائع ہوئی تھیں۔ |
اسی بارے میں کارٹون تنازع: مکرر اشاعت پر موقف 01 February, 2006 | آس پاس مسلم دنیا میں شدید ردِ عمل02 February, 2006 | آس پاس کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر02 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||