BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 February, 2006, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیغمبرِ اسلام کا کارٹون: آپ کا مؤقف
فرانس کے اخبار فرانسوا سواغ نے پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر کو برطرف کر دیا ہے۔

اخبار کے مالک نے کہا ہے کہ ’انہوں نے اخبار کے ایڈیٹر کو پیغمبرِ اسلام کا کارٹون شائع کرنے پر ملازمت سے برطرف کیا ہے اور ان کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اخبار کے مالک لوگوں کے ذاتی اعتقادات اور مذہبی شخصیات کا دل سے احترام کرتے ہیں‘۔

یہ کارٹون سب سے پہلے ڈنمارک میں شائع کیا گیا تھا جسے بعد میں فرانس کے علاوہ اٹلی، جرمنی اور سپین کے اخباروں نے بھی شائع کیا۔ ان اخباروں نے کارٹون کی اشاعت کا بنیادی مقصد ڈینش اخبار کے ساتھ اظہار یکجہتی کو قرار دیا تھا۔ تاہم مسلمان ممالک میں اس پر سخت احتجاج جاری ہے۔

آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ اس کارٹون کو کیوں چھاپا گیا؟ اس کارٹون پر کئے جانے والے احتجاج پر ڈینش حکومت اور اسے بعد میں پورپ میں شائع کرنے والے ممالک کے مؤقف کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرانسیسی اخبار کے ایڈیٹر کی برطرفی پر آپ کا کیا ردِ عمل ہے؟

آپ کی رائے: حصہ دوئم

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

اشتیاق الدین روشن، پٹنہ:
ایسے لوگوں سے کیا امیدیں رکھ سکتے ہیں جنہوں نے خود حضرت عیسیٰ کے متعلق جنسی فلمیں بنائی ہیں۔ اصل میں یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کو بھی غیر ضروری قسم کے احتجاج سے بچنا چاہیے اپنے ہی ملک میں آگ لگانے سے کیا فائدہ ۔

محمد دانش، کراچی:
قرآن کہتا ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے اور یہ کارٹون ثبوت ہے قرآن کی بات کا۔ اگر اپنے آپ کو ماڈرن اور تعلیم یافتہ کہنے والے لوگ ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں تو ہم ان پڑھ لوگ ان سے بہتر ہیں۔

شاہ والی اللہ، سوات:
ڈینمارک، فرانس اور جرمنی کے اخباوں نے توہین آمیز کارٹون شائع کر کے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔ کیا یہ مغرب والوں کی وسعت نظری ہے؟

طاہر چوھدری، جاپان:
جو ہماری ہاں میں ہاں ملائے وہ دوست اور باقی سارے دشمن۔ کارٹون والا شوشہ بھی بش اور بلئیر کی پالیسی ہے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ۔ یہ کوئی اور بڑا شیطانی کھیل کھیلنے والے ہیں۔

عامر، اسلام آباد:
گیارہ ستمبر کے بعد یہ لوگ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اب انہوں نے بہت حساس مسئلہ چھیڑ دیا ہے۔

سید احمد سومرو، پاکستان:
ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ہم اس ملک کی ہر چیز کا بائیکاٹ کریں اور دنیا کو یہ سمجھائیں کہ ہم مسلمان ایک ہیں۔ ہماری حکومت تو ہے ہی غلام اگر غلام نہ ہوتی تو ضرور ان ملکو ں کےلوگوں کو ملک سے نکال باہر کرتی۔ ابھی بھی ہم مسلمانوں کے پاس وقت ہے کہ ایک ہو جائیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیں کیونکہ خاموش رہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

ربینو خان سومرو، پاکستان:
مسلمانوں کو ایک ہو کر اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ صرف ہمارے مذہب کا کیوں مذاق بنا رہے ہیں۔ کیا اب ہم مسلمان اتنے کمزور ہو گئے ہیں؟ کہ اپنے مذہب کی بھی حفاظت نہیں کر سکتے ہیں؟ افسوس ہے اپنے حکمرانوں پر وہ دعوے تو بہت بڑے بڑے کرتے ہیں۔

شاہد علی، ہنگو:
ا س کے لیے مسلمانوں کے دشمنوں نے پہلے ہی پلین بنا رکھا تھا۔ مسلم امہ کو ڈینمارک اور اس طرح کے دوسرے ممالک سے اپنے سفیروں کو بلا لینا چاہیے۔

اکبر ہارون، ملیشیا:
پوری دنیا جانتی ہے کہ مسلمان یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ ا س لیے کیا گیا ہے تا کہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جا سکے۔

زاہد اقبال، فرانس:
اس طرح کے واقعات اور زیادہ خود کش حملہ آور پیدا کریں گے اگر ہم اس دنیامیں امن چاہتے ہیں تو ہمیں احتیاط کے ساتھ کام لینا ہو گا۔

ناصر محمود، گوجرانوالہ:
ان کے سفیروں کو ملک سے نکال دینا چاہیے۔ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کو سزا دینی چاہیے۔

نیاز وفا، پاکستان:
خواہ کتنی معافی مانگ لی جائے، جو دکھ مسلم امہ کو پہنچا ہے اس کا ازالہ کون کرے گا؟ جو آج کل ہمارے وزریرستان میں ہو رہا ہے وہ بھی کارٹون سے کم نہیں۔ کوئی بے گناہ مارنا بھی رسولِ خدا اور ان کی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بےگناہ کو مارنا بھی گستاخی ہے
 خواہ کتنی معافی مانگ لی جائے، جو دکھ مسلم امہ کو پہنچا ہے اس کا ازالہ کون کرے گا؟ کسی بےگناہ کو مارنا بھی رسولِ خدا اور ان کی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
نیاز وفا، پاکستان

یاور جسکانی، حیدرآباد:
اگر ہم مسلمان اب بھی خاموش رہیں گے تو ان کی حماقت اور بڑھ جائے گی۔ اگر ہم اب بھی چپ رہیں گے تو ہمیں مسلمان کہلوانے کا کوئی حق نہیں۔ یہ ساری دنیا کےلیے شرم کی بات ہے۔

عامر حمزہ ملک، لاہور:
ایک آزاد معاشرے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو بھی آزادی ہے کہ مذہب اور محترم شخصیات جیسا کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد (صلعم) ہیں ان کے بارے میں غلط کلمات کہہ سکیں، لیکن کسی کو آزادی نہیں کہ وہ ان کا احترام کرسکیں۔ اگر مغرب اس طرح کی حرکت کر سکتا ہے تو مسلمانوں کے پاس بھی حق ہے کہ وہ ان کا احترام کر یں اور ان کی عزت کی حفاظت کریں۔

عبدالرحمان پٹھان، کراچی:
جس وقت یہ کہا گیا کہ افغانستان میں جو مسلمان جہاد کر رہے ہیں وہ دہشت گرد ہیں ہم نے کہا ہیں۔ شروع سے ہی اگر مسلمان لیڈر سختی دکھاتے تو یہ وقت کبھی نہ آتا۔

رانا نعیم، سیالکوٹ:
ہم اسے برداشت کیسے کریں کہ کوئی ہمارے حضور کے کارٹون بنائے۔

ناصر، کویت:
اس کارٹون کے چھپنے کا مقصد مسلمانوں کے خلاف کوئی نئی سازش ہے۔ جیسی ان لوگوں نے حرکت کی ہے اس پر معافی بھی مانگیں تو مسلم ممالک معاف نہ کریں۔ ڈینمارک کی تمام مصنوعات کو بین کرنا چاہیے۔ سفارتی تعلقات ختم کر دینے چاہیں۔ مسلمانوں کویہ بات قبول نہیں کہ اسلام کے بارے میں کوئی بھی گستاخی کرے۔

چوھدری، سعودی عرب:
ہم اپنے نبی کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم تو ان کا چہرہ مبارک تصور بھی نہیں کر سکتے انہوں نےکارٹون کس طرح بنا لیا۔ یہ لوگ صرف اورصرف دشمنی اور لڑائی کو بڑہاؤ دینا چاہتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس کا احتجاج کرتا رہوں گا یورپ نے اس کو مذاق سمجھا ہوا ہے۔

افسر یاب خان، افغانستان:
ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے اگر آزادیِ صحافت یہاں سے شروع ہوتی ہے تو یہ ختم کہاں ہوگی۔ دو انسانوں میں نفرت پھیلانا یا کسی کی دل آزاری کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اچھی بات ہے مسلمانوں کے ہاتھ یہ موقع آیا کہ غیروں کو پہچانیں۔

نزاکت علی، پاکستان:
آزادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی کی دل آزاری کی جائے۔ یورپ کے اڈیٹر تو خود ہم سے زیادہ جانتے ہیں پھر انہوں نے یہ حرکت کیوں کی؟ کیا یہ عالمی امن کے خلاف کوئی سازش ہے؟ یا یہودی لابی نے مسلمانوں کی توجہ ہٹانے کی لیے کوئی نئی حرکت کی ہے۔

خالد سعید، نامعلوم:
اللہ کا شکر ہے کہ مسلمانوں کی اس پستی کے دور میں خود کافروں نے مسلمانوں کو جگایا ہے۔

مسعود بن فرید، کراچی:
ہم اسلام کی توہین نہیں ہونے دیں گے جں نے بھی حرکت کی اس کو سزہ ملنی چاہیے۔

ذیشان نصیر، کراچی:
حضرت محمد (صلعم) کے لیے یہ ساری دنیا بنائی اور ان کے وسیلے کی وجہ سے ہی ہم سب لوگ اس دنیا میں آئے۔ یہ سب لوگ ہم مسلمانوں سے حسد کرتے ہیں تبہی یہ کوئی نہ کوئی حرکت کرتے رہتے ہیں۔

صرف اسامہ ہی دہشتگرد نہیں
 ہم یہ سمجھتے تھے کہ اسامہ سب سے بڑا دہشت گرد ہے لیکن یورپ نے یہ ثابت کر دیا کہ اسامہ سے بھی بڑے دہشت گرد ان کے صحافی ہیں۔
نعمان حسن، پاکستان

فرحت ہاشمی، پاکستان:
ہم سب مسلمانوں کو یکجا ہو کر ان غیر ذمہ دار اور مسلمانوں کے خلاف اقدام کا سامنا کرنا ہو گا۔

نعمان حسن، پاکستان:
ہم یہ سمجھتے تھے کہ اسامہ سب سے بڑا دہشت گرد ہے لیکن یورپ نے یہ ثابت کر دیا کہ اسامہ سے بھی بڑے دہشت گرد ان کے صحافی ہیں۔

عزیزی فاطمہ خان، راولپنڈی:
کفار نے اپنی گھٹیا ذہنیت سے تمام مسلمانوں کو سوچنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے کہ سب ایک ہو کر کفار کے مقابلے میں ڈٹ جائیں جس طرح کفار ہمارے مقابلے میں سینہ سپر ہیں۔ تا کہ دوبارہ ان کافروں کو اس طرح کی حرکت کرنے کا یا سوچنے کا موقع ہی نہ ملے۔

سعود الرحمان، کشمیر:
اس بارے میں شدید احتجاج ہونے چاہیں اور تمام مسلمانوں کو بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

نواز بلوچ، بلوچستان:
میرے خیال میں ہم مسلمان بہت کمزور ہو گئے ہیں۔

وسیم اسلم، پاکستان:
تمام مسلم ممالک کو ڈینمارک سے اپنے سفیر واپسں بلا لینے چاہیں۔

نامعلوم:
حضور مسلم امہ کے لیے سب سے زیادہ محترم شخصیت ہیں۔ آزادی رائے کی بھی حد مقرر ہونی چاہیے۔

رشید علی، اسلام آباد:
یہ اسلام کے خلاف سازش ہے۔ امریکہ ایسے لوگوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے تا کہ مسلم امہ کو نقصان پہنچے۔ امریکہ مسلم امہ کے اثر سے خوف زدہ ہے اور اس طرح کی حرکتوں سے مسلمانوں کو غیر ضروری باتوں کی طرف متوجہ کروانہ چاہتے ہیں۔

اقداس خانم، پاکستان:
ہم سختی سے اس کارٹون کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم دوسرے مذہبوں کی عزت کرتے ہیں ان کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ کہ وہ ہمارے احساسات کو مجروح کریں۔

محمد اسماعیل، سعودی عرب:
یہ سب مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لیے ہے۔ ڈینمارک کے اخبار کے مدیر نے معافی مانگی لیکن اس وقت جب ان کے ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ یعنی وہ لوگ دل سے معافی نہیں مانگتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا بائیکاٹ ہمیشہ کے لیے جاری رکھیں تا کہ تمام دشمنانِ رسول کو یہ پیغام ملے کہ مسلمان کسی بھی قیمت پر ناموسِ رسول سے کھیلنے والوں کو معاف نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کی طاقت دیکھو کہ آج امریکہ اور برٹش حکومتیں بھی معافی مانگ رہی ہیں۔

فرخ عزیز، اسلام آباد:
میری نظر میں اس کارٹوں کا چھاپنے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کہ مسلمانوں کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔

وقاص میر، لاہور:
غیر مسلموں کی ہمارے ساتھ دشمنی چودہ سو سال پرانی ہے۔ ان کے دلوں میں جو ہوتا ہے وہ اکثر باہر آتا رہتا ہے۔ جس طرح یہ کارٹون۔ جو لوگ ان کو دوست سمجھتےہیں وہ جان لیں کہ یہ لوگ ہمارے کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتے۔

عاصم ریاض، پاکستان:
اس موقع پر ہم مسلمانوں کو ایک آواز میں سختی کے ساتھ احتجاج کرنا چاہیے۔ خدا ہمیں ہر مرتبہ یکجہ ہونے کا موقع دیتا ہے اور ہم ہر مرتبہ ناکام ہو جاتے ہیں۔

عمیر سجاد، چین:
او آئی سی کا کیا مقصد ہے؟ تمام مسلمان ملکوں کو یکجہتی سے ڈینمارک، اٹلی، سپین اور فرانس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

رحیم اللہ، این ڈبلیو ایف پی:
ہم نے آج تک اپنے آپ کو نہیں پہچانا۔ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں اس پر یہ تو ہونا تھا۔ یہود اور نصاریٰ کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے۔

او آئی سی کا کیا مقصد ہے؟
 او آئی سی کا کیا مقصد ہے؟ تمام مسلمان ملکوں کو یکجہتی سے ڈینمارک، اٹلی، سپین اور فرانس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
عمر سجاد، چین

عدالت خان، سوات:
میں انور سن رائے کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا۔ یہ محض مزا کے لیے نہیں چھاپا گیا۔ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کو ذلیل ورسوا کرنا ہے۔ ا س کارٹون کے علاوہ بھی ان کی ویب سائیٹ پر اور بہت سے کارٹون اور باتیں ہیں جن کا مقصد مسلمانوں اور اسلام کی بےعزتی کرنا ہے۔ ایسے تمام لوگ جو ایسے شرمناک کام کرتے ہیں سخت سزا کے مستحق ہیں۔ اظہار آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دینِ اسلام اور مسلمانوں کی بے عزتی کی جائے۔

فیصل انعام، دبئی:
یورپ کچھ بھی کر لے اسلام کے پھلنے پھولنے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کسی احتجاج کا کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔

اضرام جاوید، راولپنڈی:
ہمیں اپنے مذہب کے اقدار کی قدر کرنی چاہیے۔ ہم مسلمانوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر غیر مسلمان اسلام کی قدروں کو جانیں گے تو وہ اس طرح کی حرکتیں کبھی نہیں کریں گے۔

سلطان صلاح الدین، شارجہ:
سب سے مناسب طریقہ یہ ہے کہ ٹوٹل بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

انور احمد، پاکستان:
اس سے غیر مہذب رویہ اور سوچ ظاہر ہوتی ہے۔ ہر مہذب شہری کو دوسروں کے عقیدے اور احساسات کی عزت کرنی چاہیے۔ یہا ں ایسی کوئی بات نظر نہں آتی۔

حسن عسکری، پاکستان:
مسلمان بے بسی سے ظلم سہ رہے تھے اس کارٹون نے معرب کے خلاف اندرونی غصہ کو شدت میں بدل دیا۔ یہ مغربی دنیا کی انتہا پسندی کی ردِ عمل ہے۔

فہیم خان، پاکستان:
ہمارے مذہب میں تصویر کی اجازت نہیں، ہم اپنے رسول کی توہیں کیسے براشت کر سکتے ہیں۔ میں ان کارٹونوں کی مذمت کرتا ہوں اور مسلمان ملکوں کو حضور کی گستاخی پر باییکاٹ کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

محمد، ایبٹ آباد:
ہم اسلام کی توہین نہیں ہونے دیں گے۔

سندھی سعید سومرو، جیکب آباد:
مسلمان ایک ہو کر اس واقعہ کا منہ توڑ جواب دیں۔ ہمارے صدر مشرف امریکہ کی غلامی میں مصروف ہیں۔ مسلمان ہر چیزکا بائیکاٹ کریں۔

محمد اجمل بنگش، اسلام آباد:
افسوس کہ کچھ نا سمجھ لوگ ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں جن کے انجام کا ان کو کچھ علم نہیں ہوتا۔ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہوا اگر ایک شخص کا کارٹوں چھپ کیا۔ اس نامعلوم کو کیا معلوم حضرت محمد کون ہیں، ان کی کیا شان ہے؟ ہمارے صدر صاحب کو مذمت کے دو الفاظ کہنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔ اگر بش کا کارٹون ہوتا تو ضرور کچھ بول لیتے۔ بلکہ ابھی تک پکڑ کر ان کے حوالے کر چکے ہوتے۔

عائشہ چوھدری، لاہور:
ڈینمارک ایک غیر مسلم ملک ہے ان کے بنیادی مقاصد ہی یہ ہے۔ دراصل یہ نئی نسل کے مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس اپنے میڈیا کے استعمال کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو بد گمان کر سکیں۔

اسد اللہ چاند، وزیرستان:
میں اس کی شدید مزمت کرتا ہوں ڈینش حکومت کو مسلمانوں سے معافی مانگنی ہو گی۔

زبیر عزیز، کشمیر:
اس کارٹون کی اشاعت کا دکھ تو ہر مسلمان کو ہوا ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن صرف اس پر ہی بس نہیں کرنی چاہیے۔ جس نے یہ شان رسول میں گستاخی کی ہے اس کو اس گستاخی پر سخت سے سخت سزا دینی چاہیے۔ میں اسے ایک سازش اور اسلام دشمن کی ایک چال سمجھتا ہوں۔ اس سے نہ صرف عالم اسلام کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ مسلمانوں کو ایک کھلا چیلنج بھی ملتا ہے کہ مسلمانوں کااس پر کیا ردِ عمل ہوتا ہے۔ پیغمبر کی شان میں اس طرح کی گستاخی کرنا اور دھرانا اور اس پر یہ کہنا کہ یہ صحافت کی آزادی ہے ناقابلِ قبول ہے۔

نواز شاہد، اٹلی:
میرے خیال میں آزادی رائے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے اور جو بھی کسی کے دماغ میں آئے۔ اس سے پہلے کچھ کہا جائے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہو رہی۔ کسی کو تکلیف تو نہیں ہو رہی۔ سچ جو ہو وہ ضرور کہنا چاہیے۔ ان خاکوں سے ہزاروں لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں اعلیٰ سطح پر نوٹس لینا چاہیے۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد:
بی بی سی نے بھی اپنی اصلیت کو عیاں کرتے ہوئے ان کارٹونوں کو اپنی نشریات کی زینت بنایا اور دلیل یہ دی کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات کو سلجھانے میں مدد ملے گی۔

کامران ڈوگر، پاکستان:
یہ انسانیت کی توہین ہے اور تہذیبوں کے درمیان تصادم پیدا کر سکتا ہے۔

سودیش لنجھارا، کوئٹہ:
اس کو حکومت کی نااہلی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر مشرف کے خلاف کچھ کہتا ہے تو وہاں بمباری کی جاتی ہے۔ اگر کوئی ملک آپ کے مذہب کو بدنام کرے تو حکومت خاموش ہو جاتی ہے۔

میر احمد اخنزادہ، پاکستان:
ایک اسماعیلی مسلمان کی حیثیت سے میرا یہ موقف ہے کہ دوسرے ہماری کمزوری کا مذاق اڑاتے ہیں۔ علامہ نے کیا خوب کہا ہے کہ
تقدیر کے قاضی کا یہ نعرہ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

ایسا کرنے والے حقیقت سے ناآشنا ہیں
 جس شخص نے یہ کارٹون بنایا اس کو حقیقت کے بارے میں بہت کم معلومات اور تجربہ ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔
ظفر اقبال، گلاسگو

ظفر اقبال، گلاسگو:
جس شخص نے یہ کارٹون بنایا اس کو حقیقت کے بارے میں بہت کم معلومات اور تجربہ ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔

عظمیٰ، کینیڈا:
جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اس کو ایسی سزا دینی چاہیے جیسے بش نے عراق کو دی ہے۔ تمام مسلمانوں کو ان تمام ملکوں کا ہر طرح سے بائیکاٹ کرنا ہو گا۔

علی اطہر نقوی، لاہور:
ایسے کارٹون پہلے بھی چھپتے رہتے ہیں۔ اس بار اتنا شور کیوں ہو رہا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے یہ سب یہودی سازش ہے۔

عمران کھوسہ، لاہور:
بنیادی طور پر اس کارٹون کا مقصد مسلمانوں کو نیچا دکھانا اور ٹھیس پہنچانا تھا۔ یہ بہت غلط حکمت عملی ہے۔

تنویر کاظمی، واہ کینٹ:
اپنے آپ کو روشن خیال کہنے والے کتنے گرے ہوئے ہیں۔ اس کارٹون کی اشاعت سے ان کا چہرہ بےنقاب ہو گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

طارق ایاز، ملتان:
یہ یورپ کی مہذب تہذیبوں کےلیے شرم کا مقام ہے۔

محمد اسد لودھی، کراچی:
مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ اب پیغمبر کے بھی کارٹون بنائے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ لوگ مسلمانوں سے حسد کرتے ہیں یا اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ احتجاج کرنے سے کچھ نہیں ہوتا مسلم جب بھی احتجاج کرتے ہیں تو کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ جبھی تو یہ کارٹون دوسری دفعہ شائع ہوا ہے۔

وقار احمد، لاہور:
ڈینمارک کاجھنڈا یا پتلا جلانے سے کچھ نہیں ہو گا سب مسلم ممالک کو ڈینمارک سے مکمل طور پر بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ سب کو اپنے سفارت خانے بند کر دینے چاہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مستقبل میں ایسے حالات پھر سے پیدا ہوتے رہیں گے اور ہم کچھ نہیں کر سکیں گی۔

محمد احمد مفتی، کینیڈا:
میرے خیال میں اخبارات اور جریدے وہ کچھ شائع کرتے ہیں جو عوام کو پسند اور مقبول ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کارٹون یورپی عوام کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم سے پہلے یورپی عوام اس پر احتجاج کرتے یا مذمت کرتے۔

رفیق شاکر، بلوچستان:
اس طرح کے کارٹون شائع کرنے کا مطلب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ اس بات کا اندازہ لگانا ہے کہ مسلمان کس حد تک احتجاج کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق اور اتحاد کرتے ہیں؟

عبدالرزاق مغل، جرمنی:
یہ ایک بہت ہی بری بات ہے کسی بھی مذہب کو اس طرح برا بھلا کہنا۔ میں یہ ہی کہوں گا اللہ تعالیٰ اس طرح کے لوگوں کو ہدایت دے۔

ریحان سرحدی، پاکستان:
اس سے خود کش حملے بڑھیں گے۔ یہ صرف یہودی چال ہے۔

ناصر جاوید، اسلام آباد:
ہم ایسے شخص اور ایسی حکومت سے نفرت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے شخص کو سزا دی جائے۔

سید احمد صدیقی، سعودی عرب:
اسلام تو کسی کے مذہب کو برا کہنے سے بھی منع کرتا ہے۔ مسلم امہ اس وقت کھلی دہشت گردی کی زد میں ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ معصوم انسان کا قتلِ عام کرنے والے کتنے انصاف پسند ہیں اور وہ اس دہشت گردی کرنے والوں پر اپنے کتنے مزائل برساتے ہیں۔ مسلمان تو اس وقت مجبور ہیں۔ وہ تو صرف اپنے اللہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہی ہے جو مسلمانوں کی مدد کرنے والا ہےتا کہ ان دہشت گردوں کو ان ہی کی زبان میں جواب دیا جا سکے۔

یہ صحافت کی بد نامی ہے
 مغرب اپنے آپ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ گردانتا ہے مگر ایسی حرکتیں ان کی کم عقلی اور ان کی کم ظرفی کا واضح ثبوت ہیں۔ ایسی حرکتوں کو آزادی صحافت کہنا صحافت کی بدنامی ہے۔ اگر آزادی صحافت ان کا حق ہے تو عالم اسلام دفاع سے کیسے دستبردار ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں مغرب مسلمانوں کو دہشست گرد کہنے کا حق نہیں رکھتا۔
اعجاز کریم، ہنزہ

آصف قاضی، لاہور:
ہمیں ڈینمارک کی ہر چیز کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے اور ڈینمارک کی حکومت کو بتانا چاہیے کہ وہ امتِ مسلمہ سے اس ناپاک جسارت کی معافی مانگے اور آئندہ ایسی کسی حرکت کے نہ ہونے کا یقین دلائے۔

اقبال احمد، کراچی:
حکومتِ پاکستان اس مسئلے پر خاموش کیوں بیٹھی ہے؟ مشرف صاحب کو اس مسئلے پر پاکستانی حکومت کا موقف واضح کرنا چاہیے۔ پاکستانی عوام پوری طرح عرب ممالک کے شانہ بشانہ ہیں۔

محمد عمران، راجن پور:
کارٹون پہلے بھی بہت شائع ہوئے ہیں۔ آخر غیر مسلم کیا چاہتے ہیں؟ وہ ہماری توہین کیوں کرتے ہیں؟ میرے خیال میں تمام مسلمان ممالک کو تیل بند کر دینا چاہیے۔

امین اللہ، کوئٹہ:
یہ صرف اور صرف دینِ اسلام کے چاہنے والوں یعنی مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے ہے۔

طیب محمود خان، جاپان:
دکھ تو بہت ہوا ہے اورغصہ بھی آ رہا ہے۔ اس سے زیادہ غصہ اس بات کا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ابھی تک کوئی مذمت نہیں کی۔ ہمارے مشرف صاحب کیا صرف امریکہ کی خوشامد کے لیے ہیں؟ ہم اپنے آپ کو مسلمان اور پاکستانی کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔۔۔ لیکن اب صرف دکھ ہی ہوتا ہے۔

منصور احمد یوسف زئی، پاکستان:
یہ مسلمانوں کےلیے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ فرنگیوں نے تو حد کر دی ہے۔ روز مسلمانوں پر ٹیکس لگانا، پابندیاں لگانا اور اب تو پیغمبر کے خلاف غلط پراپیگنڈہ کرنا۔ اس موقع پر ہم سب مسلمانوں کو فرنگی کی ہر چیز کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمارے دین کے خلاف کوئی بات کریں۔

ریحان جعفری، کراچی:
آزادی اظہار کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی بھی مذہبی شخصیات یا عقائد کا مذاق اڑائیں اور ان کے جذبات مجروح کریں۔ کیا کسی مغربی ملک میں اس بات کی اجازت ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر اپنے پڑوسی کا مذاق اڑائیں اور ان کے جذبات مجروح کر سکے؟ آپ کسی کو یہ اختیار کیسے دے سکتے ہیں کہ وہ کسی مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری کرے۔

سید مجتبیٰ، لندن:
یہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے ایک کوشش ہے۔ اس کے جواب میں مغربی دنیا کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ میں بی بی سی کو بھی مشورہ دوں گا کہ وہ ان تصاویر کو ٹی وی پر دکھانے کی کوشش نہ کریں۔ ورنہ یہاں کے حالات بہت زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

عامر ندیم انصاری، سیالکوٹ:
پرویز مشرف کو اب شرم آنی چاہیے اور امریکہ اور یورپ کے ایجنڈے پر کام کرنا بند کرنا چاہیے۔

نازیہ فردوس، جموں و کشمیر:
غیر مسلم ہر دور میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے آئے ہیں۔ عالم اسلام یکجہ ہیں اور ایسی کسی بھی کوشش کو مسلمان دنیا برداشت نہیں کرے گی۔

اعجاز کریم، ہنزہ:
مغرب اپنے آپ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ گردانتا ہے مگر ایسی حرکتیں ان کی کم عقلی اور ان کی کم ظرفی کا واضح ثبوت ہیں۔ ایسی حرکتوں کو آزادی صحافت کہنا صحافت کی بدنامی ہے۔ اگر آزادی صحافت ان کا حق ہے تو عالم اسلام دفاع سے کیسے دستبردار ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں مغرب مسلمانوں کو دہشست گرد کہنے کا حق نہیں رکھتا۔

مسعود حاکم، جاپان:
آزادی رائے کے نام پر کسی مذہب کے ماننے والے 1.5 عرب لوگوں کے جذبات مجروح کرنا، پیغمبر کی توہین کرنا یا پیغمبرِ اسلام کو دہشت گرد دکھانا کہاں کا انصاف ہے۔ مجھے تو ایسے افراد بےضمیر لگتے ہیں۔ مسلمانوں کی توہین سے یہ لوگ خوش ہوتے ہیں۔ اس واقعے کے پس منظر میں ایک لمبے عرصے تک ایک نئی بحث شروع ہوگی جس میں مسلمانوں کو تنگ نظر، بنیاد پرست، غیر تعلیم یافتہ وغیرہ وغیرہ کہا جائے گا۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔

جاوید، لاہور:
مسلمان ملکوں کو اس موقع پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اور ایسے ممالک کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے تا کہ آئندہ کے لیے ایک مثال ہو اور پھر کبھی کوئی ایسی شرمناک حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔

مغربی لوگ لبرل نہیں بےانصاف ہیں
 لبرل کا کیا مطلب ہے؟ جس کے پاس طاقت ہے وہ جو کرے وہ ٹھیک ہے۔ مغربی لوگ لبرل نہیں بےانصاف ہیں۔ ان کے پاس طاقت ہے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔
محمد ظفر، دبئی

نسیم احمد، کراچی:
سب سے پہلے تو پاکستان کی حکومت نے اس پر کوئی خاص ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ پاکستان کو چاہیے کہ ڈینمارک سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دے اور ڈینمارک کی مصنوعات پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمیں کم سےکم یہ کام کرنا چاہیے۔

محمد ظفر، دبئی:
لبرل کا کیا مطلب ہے؟ جس کے پاس طاقت ہے وہ جو کرے وہ ٹھیک ہے۔ مغربی لوگ لبرل نہیں بےانصاف ہیں۔ ان کے پاس طاقت ہے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ ذرا سوچیں کیا مسلمان ملکوں نے یا کسی فرد نے کبھی عسائیوں کے بارے میں یا ان کے پیغمبر کے بارے میں کبھی کوئی ایسی چیز کہی؟

عرفان علی خان، اسلام آباد:
یہ بش اور بلئیر کا ایجنڈا معلوم ہوتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ مسلمان حکمران امریکہ اور مغرب کے لیے اپنی پالیسیوں کو بدلیں۔ ڈینمارک سے ساتھ سفارتی تعلقات فوارً ختم کر دینے چاہیں اوران کی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری رکھنا چاہیے۔

عارف میحان، کوئٹہ:
ایسے لوگوں کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ ان لوگوں نے جس طرح سے حضور کی شان میں گستاخی کی ہے ا س کی انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ جن ملکوں میں یہ کارٹون چھپے ہیں ان کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کا انجام بہت ہی خطرناک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بےآواز ہے۔

محسن مرتضی، اسلام آباد:
یہ صرف اور صرف اسلامی دنیا کے خلاف سازش ہے ان کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے۔ اگر یہ میڈیا کی آزادی کی بات ہوتی تو وہ اپنے مذہبی پیشواؤں کے کارٹون کیوں نہیں چھاپتے؟

فواد، امریکہ:
پہلی بات او آئی سی نے اس موقع پر بھی مایوس کیا۔ دوسری بات ڈینمارک کے وزیراعظم نے معافی مانگ لی ہے اور اس اڈیٹر کو بھی برطرف کر دیا ہے۔ بائیکاٹ تو ان دوسرے ملکوں کا کرنا ہے جنہوں نے جان بوجھ کر وہی حرکت دوبارہ کی مثلاً فرانس، اٹلی، سپین اور جرمنی۔

اسحاق ملک، ملتان:
ان عقل کے اندھوں کو اسلام کی فطرت کا پتا ہی نہیں۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے جتنا دبائیں گے اتنا ہی ابھرے گا۔


ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

ڈنمارک کارٹون، بحران
ڈنمارک: کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد