BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 03 February, 2006, 16:07 GMT 21:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیغمبر اسلام کا کارٹون
فرانس کے اخبار فرانسوا سواغ نے پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر کو برطرف کر دیا ہے۔

اخبار کے مالک نے کہا ہے کہ ’انہوں نے اخبار کے ایڈیٹر کو پیغمبرِ اسلام کا کارٹون شائع کرنے پر ملازمت سے برطرف کیا ہے اور ان کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اخبار کے مالک لوگوں کے ذاتی اعتقادات اور مذہبی شخصیات کا دل سے احترام کرتے ہیں‘۔

یہ کارٹون سب سے پہلے ڈنمارک میں شائع کیا گیا تھا جسے بعد میں فرانس کے علاوہ اٹلی، جرمنی اور سپین کے اخباروں نے بھی شائع کیا۔ ان اخباروں نے کارٹون کی اشاعت کا بنیادی مقصد ڈینش اخبار کے ساتھ اظہار یکجہتی کو قرار دیا تھا۔ تاہم مسلمان ممالک میں اس پر سخت احتجاج جاری ہے۔


آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ اس کارٹون کو کیوں چھاپا گیا؟ اس کارٹون پر کئے جانے والے احتجاج پر ڈینش حکومت اور اسے بعد میں پورپ میں شائع کرنے والے ممالک کے مؤقف کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرانسیسی اخبار کے ایڈیٹر کی برطرفی پر آپ کا کیا ردِ عمل ہے؟
آپ کی رائے: حصہ اول


بابر ملک، لاہور:
اس بات کا اظہار کیا گیاہے کہ ان لوگوں میں مسلمانوں کے احساسات کی کوئی قدر نہیں۔ آزادیِ خیالات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو دوسروں کی بےعزتی کریں اور تکلیف پہنچائیں۔ اس بات پر حیرانگی نہیں ہونی چاہیے اگر شدت پسند لوگوں نے ڈینمارک پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

مرتضی جاوید، کویت:
جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے مذہبی جذبات سے کھیلا جائے۔

یاسمین، لاہور:
ڈینمارک کے وزیراعظم نے کارٹون کی اشاعت کے پہلے روز کہا تھا کہ میں مسلمان دنیا سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ اب انہوں نے دیکھا کہ ان کی معیشیت کو نقصان ہو رہا ہے تو معافی مانگ لی۔ گویا وہ مسلمان ملکوں سے معافی نہیں بلکہ اپنی معیشیت بچانے کیلیے معافی مانگ رہے ہیں۔ ان نام نہاد روشن خیال لوگوں کا کیا دوہرا معیار ہے۔

اسلام کو دبائیں گے تو ابھرے گا
 ان عقل کے اندھوں کو اسلام کی فطرت کا پتا ہی نہیں۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے جتنا دبائیں گے اتنا ہی ابھرے گا۔
اسحاق ملک، ملتان

فریدالحسن، لاہور:
یہ بات بہت ہی افسوس ناک ہے کہ اس پر احتجاج کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ہم سب مسلمان ملکوں کو چاہیے او ائی سی کانفرنس کی جائے اور ا س پرایک انٹرنیشنل قرارداد منظور کرنی چاہیے۔ تاکہ اس طرح کی حرکت کرنے والوں کو سبق سکھایا جا سکے۔ تنگ یہ مسلمانوں کو کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتے۔

محمد ثاقب احمد، شیخوپورہ:
یہ کارٹون صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑانے کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ اس ناقابلِ برداشت حرکت کرنے کی ہمت انہیں مسلمان حکومتوں کی غلامی اور پسماندگی کی وجہ سے ہوئی۔ ورنہ کسی صحافی کی کیا مثال کہ اتنی بڑی غلطی کرے۔ کسی سربراہ کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔

عبدالو سہیل، اسلام آباد:
یہ اسلام کے خلاف انتہا کی دہشت گردی ہے اور انتہا کی شدّت پسندی ہے۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے ان کو سزائے موت ہونی چاہیے۔

محمد اصغر دورانی، پاکستان:
اس سے مغرب کی دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی تنگ نظری ظاہر ہوتی ہے۔ در حقیقت وہ اسلام سے خوفزدہ ہیں۔ ان میں خاص طور پر اسلام کے لیے برداشت نہیں ہے۔ اسلام واحد مذہب ہے جو ہر ایک کو حفاظت فراہم کرتاہے۔ میرے خیال میں یہ اسلام کے خلاف میڈیا وار ہے لیکن مسلمان کمیونٹی کو اس طرح کا رویہ دکھانا چاہیے جس سے اسلام پر یقین مضبوط ہو۔

محمد عرفان، پاکستان:
پاکستان کو ڈینمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لینا چاہیے جب تک ڈینمارک کی حکومت اس اخبار کو بند نہیں کرتی۔ احتجاج سے اس بات کا اندازہ تو ہو گیا ہے کہ مسلمانوں ابھی بھی زندہ ہیں اور ایک ہیں۔ کفار کی سازش ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

عمران محمد، پشاور:
یہ نہایت ہی شرم ناک بات ہے کہ حضرت محمد کا کارٹون بنایا کیا۔ یہ ایک سازش ہے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی اور مسلمانوں کے دلوں میں غیر مسلمانوں کے لیے نفرت بھرنے کی۔ اس کارٹون کی وجہ سے مسلم دنیا میں غیرمسلمان دنیا میں شدید نفرت پیدا ہو گئی ہے۔

عرفان، سرگودھا:
ایک مسلم کی حیثیت سے ہمیں ان کی تمام چیزوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

جاوید اقبال چوھدری، کویت:
ہم چاہتے ہیں کہ ڈینمارک کی حکومت تمام مسلمانوں سے معافی مانگے اور کسی کو اجازت نہ دے کہ وہ مسلمانوں یا کسی اور مذہب کے خلاف بات کریں۔

عزیز خان شنواری، پاکستان:
امریکہ اور یورپ اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھتے ہیں۔ بہت غرور اور تکبر کی وجہ سے ڈینمارک نے کارٹون شائع کیا۔

محمد شکیل، فرانس:
یہ صرف دیکھنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں کتنا اتحاد ہے۔

شکیل فیصل، پاکستان:
یہ رائے دینے کا نہیں عمل کرنے کا وقت ہے۔ ان حرکتوں سے مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہوگا اور مغرب اور امریکہ کے خلاف نفرت اور بڑھے گی۔

وقار احمد، لاہور:
ایسی باتیں امریکہ اور یورپ کا مشترکہ پرپیگنڈہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ملک اس پر غصہ کریں اور جو الزام ہم پر دہشت گردی کا لگتا ہے اسے برقرار رکھ سکیں۔

رفعی، جرمنی:
یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ ایسے اخبار ان طریقوں سے شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ اس کو سخت سزا ملنی چاہیے۔

فاروق احمد چوھدری، ناروے:
یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ ہمیں ا س پر احتجاج تو کرنا چاہیے لیکن اس کے جواب میں معصوم شہریوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ یہ روحِ اسلام کے خلاف ہے۔ ہمارے علماء نے بھی بہت زیادہ بد زبانی کی ہوئی ہے۔ اس کی مثال سلمان رشدی کی ہے، جس کی کتاب ’سٹینک ورسز‘ میں زیادہ تر مواد مسلم علماء کی کتابوں سے ہے۔

عمر، اسلام آباد:
یہ سب اسلامی ملکوں کی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اس مسئلے پر او آئی سی کا اجلاس طلب کرنا چاہیے۔ اسلامی ملکوں کو چاہیے کہ وہ ڈینمارک سے تمام تعلقات توڑ دیں۔

امینہ سید، چین:
میرا خیال ہے کارٹونوں کی اشاعت کا اتنا بڑا مسئلہ بننا مسلمانوں کی اپنی غلطی ہے۔ اگر آپ ہم اس بات سے بے پرواہ ہو جائیں کے کہ مغربی ذرائع ابلاغ ہمارے یا ہمارے مذہب کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو کوئی بھی اخبار اس قسم کی چیزیں شائع نہیں کرے گا۔ کسی بھی آرٹسٹ یا لکھنے والے کو مشہور ہونا ہوتا ہے تو وہ اسلام کے بارے میں کچھ بھی کہہ دیتا اور پھر ہم مسلمان خود ہی اسے مشہور کر دیتے ہیں۔ سلمان رشدی کی ہی مثال لے لیجیے۔

لوگ شہرت کےلیے کرتے ہیں
 میرا خیال ہے کارٹونوں کی اشاعت کا اتنا بڑا مسئلہ بننا مسلمانوں کی اپنی غلطی ہے۔ کسی بھی آرٹسٹ یا لکھنے والے کو مشہور ہونا ہوتا ہے تو وہ اسلام کے بارے میں کچھ بھی کہہ دیتا اور پھر ہم مسلمان خود ہی اسے مشہور کر دیتے ہیں۔ سلمان رشدی کی ہی مثال لے لیجیے۔
امینہ سید، چین

عبدا الوحید، میری لینڈ، امریکہ:
مسئلہ یہ ہے کہ مغرب میں لوگ دو قسم کے خیالات رکھتے ہیں ایک وہ جو لبرل ہیں۔ وہ اپنے مذہب کے بارے میں بھی کچھ بھی کہہ دیتے ہیں اور دوسرے ہیں رجعت پسند۔ ان کا حال وہی ہے جو ہمارے ہاں شدت پسند ملاؤں کا۔ مظلوم تو عام مسلاموں ہیں جو ان دونوں انتہا کے رویوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

ایل ھیرلڈ، ہالینڈ:
میرے خیال میں یہ دو تہذیبوں کا ٹکراؤ ہے۔ ہمیں اس مسئلہ کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کیونکہ مبینہ بےحرمتی کے واقعات آئے دن ہو رہے ہیں۔ کبھی ہالینڈ کے فلسماز کے قتل کیے جانے کی بات ہے، کبھی فرانس میں فسادات کی تو کبھی ڈنمارک کے اخبار کی۔ میرے خیال میں یہ ان سارے واقعات میں کوئی بات مشترک ضرور ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا حل تلاش کیا جائے۔


اکرام، انڈیانا، امریکہ:
میرے خیال میں اس بحث سے اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی ہے۔ کیا ہم اتنے نازک ہو گئے ہیں کہ ایک شخص کے کارٹون سے ہم خود کو غیر محفوظ سمجھے لگے گئے ہیں؟ ہمیں چاہیےکہ ہم برداشت اور درگزر سے کام لیں۔ اسی سے ہماری عزت بڑھے گی نہ کہ جہالت اور نفرت پر مبنی ہر بات کا جواب دینے سے۔

احمد لطیف، کینیڈا:
مجھے اس بات سے تشویش نہیں کہ یورپی ملکوں نے مل کر اسلام کے خلاف قدم اٹھایا بلکہ تشویش اس بات پر ہےکہ پاکستان نے اس پر کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا۔ کیا یہ صرف عرب ممالک کا مسئلہ ہے؟

محمد خان، نامعلوم:
ہم کو مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ان کو سزا دینی چاہیے تا کہ پھر کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔

فرخ عادل، زیمبیا:
یورپ جو نام نہاد مذہبی اور شخصی آزادی پر یقین رکھتے ہیں کیا انہیں نہیں پتا کہ آپ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو:
یہ ایک انتہائی قابلِ مذمت فعل ہے۔ مگر ساتھ ساتھ اس حقیقت کا بھی اعتراف کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ پیغمبر اسلام کے ماننے والے ہم جیسے مسلمانوں نے کون سا ان کی ہتک کرنے میں کسر چھوڑی ہے۔ وہ تو غیر مسلم ہیں ہم تو مسلمان ہونے کے باوجود ہر کام اسلام کے خلاف کر رہے ہیں۔ کیا یہ توہین نہیں ہماری سزا ان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔

نامعلوم:
مغربی دنیا عقل کی اندھی ہو گئی ہے اس لیے ان کو جہنم یا جنت کا کوئی یقین نہیں ہے۔

سجاد صادق، اسلام آباد:
یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس سے وہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اللہ ایسے کافروں کو سخت سزا دے اور ہمارا فرض ہے کہ سخت نوٹس لیں۔

معتدل مسلمانوں کے لیے بھی مسئلہ ہے
 اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ مگر ایسے کارٹون شائع کرنے والے بیمار ذہنیت رکھتے ہیں۔ وہ لبرل اور معتدل مسلمانوں کو بھی مجبور کر رہے ہیں کہ وہ بھی انتہا پسند مسلمانوں کی طرح یورپ اور امریکہ سے نفرت کرنا شروع کر دیں۔
ارمغان رفیق، دبئی
محمد نواز، ڈینمارک:
ڈینمارک میں نسل پرستی گذشتہ کچھ سالوں سے عروج پر ہے۔ توہینِ رسالت کی سزا ہے تو زنا یا نفسیاتی تشدد کی کیوں نہیں۔ اسلام دشمنی ہے، نفسیاتی تشدد کو آزادیِ اظہار کا نام دیا جاتا ہے۔

نامعلوم:
مغرب کو ساری باتوں کا پتا ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا ردِعمل کیا ہو گا۔ وہ صرف مزا لینا چاہتے ہیں۔

ارمغان رفیق، دبئی:
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ مگر ایسے کارٹون شائع کرنے والے بیمار ذہنیت رکھتے ہیں۔ وہ لبرل اور معتدل مسلمانوں کو بھی مجبور کر ر ہے ہیں کہ وہ بھی انتہا پسند مسلمانوں کی طرح یورپ اور امریکہ سے نفرت کرنا شروع کر دیں۔

مظہر حسین، ایبٹ آباد:
ہمارے مذہب میں ہم صرف اس وقت ہی مطمئن ہوں گے جب اس ملک کی حکومت اس کو سزائے موت دے گی۔ ورنہ ہم یہی سوچیں گے کہ ان کی حکومت بھی اس میں شامل ہے۔

فاطمہ، راولپنڈی:
آپ لوگ ہماری رائے پوچھ کر زخم پر نمک چھڑکتے ہیں۔

عبدالغنی، سپین:
حیرت کی بات ہے کہ ڈینمارک کے اخبار میں کارٹون کی اشاعت کے بعد مسلم دنیامیں غم و غصے کو دیکھتے ہوئے بھی فرانس، سپین، اٹلی کے اخبارات نے بھی کارٹون کی اشاعت کی۔ اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے جذبات اور ان کو پہنچنے والے دکھ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آج کے تازہ اخبار پڑھ کر میرا دل روتا ہے۔

سہیل احمد، دبئی:
اس کارٹون کے شائع کرنے کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا ہے۔ مغربی میڈیا یہ جانتا ہے بھی کہ ڈینمارک میں اس کی اشاعت سے مسلمان ممالک بھڑک گئے ہیں پھر بھی فرانس نے کارٹون شائع کیا تا کہ وہاں بھی مسلمان بھڑک جائیں او ران کواپنے ملک سے مسلمانوں کو بھگانے کا بہانہ مل جائے۔

نسیم، پاکستان:
میرے خیال میں وہ صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اتنے حساس مسئلے پر مسلمان ممالک کا کیا ردِعمل ہوتا ہے اور وہ کامیاب رہے۔ کیونکہ بہت سارے ممالک نے اس پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اسلام کے نام پر بننے والا ملک پاکستان بھی چپ ہے۔

ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں
 یہ ہر طرح سے مسلمانوں کامزاق اڑاتے رہے ہیں لیکن ہم مسلمان ایک نہیں تو ان کا مقابلہ کیا کریں گے۔ ہمیں احتجاج ضرور کرنا چاہیے اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی۔
طاہر جمیل محمد، قطر
شبنم علی، پشاور:
برطرفی تو الگ بات ہے اسے مار دینا چاہیے۔ اگر اسلامی ممالک میں حضرت موسیٰ کا کارٹون شائع کیا جائے تو ان کو کیسا لگے گا؟ آزادی بیان اپنی جگہ پر اور کسی کے مذہب اور دین کا مزاق اڑانا یقینی جرم ہے اور دنیامیں ہر جرم کی سزا ہوتی ہے۔

صابر شاہ، سوات:
یہ بہت غلط ہے کوئی بھی مسلمان اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔

طاہر جمیل محمد، قطر:
یہ ہر طرح سے مسلمانوں کامذاق اڑاتے رہے ہیں لیکن ہم مسلمان ایک نہیں تو ان کا مقابلہ کیا کریں گے۔ ہمیں احتجاج ضرور کرنا چاہیے اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی۔

حماد جہانگیر، ہالینڈ:
پہلے کارٹون کے بارے میں میں کوئی خاص رائے نہیں دے سکتا۔ لیکن باقی اخباروں نے صرف اور صرف اسلام کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی انتہا پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ ان کے اس اقدام سے پوری مسلم دنیا میں غیرمسلموں کے خلاف نفرت پیدا ہو گی۔

بخاری شمشیر، یو کے:
یہ محض بےوقوف لوگوں کی حرکتیں ہیں۔ اس طرح کی حرکتیں ہر زمانے میں ہوئی ہیں۔ اسلام کو پہلے بھی ایسی حرکتوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی اب پہنچے گا۔ ان لوگوں کا مقصد محض ہمارے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔

شاہد خٹک، کرک:
ان لوگوں کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے۔ ان اخبارات نے تمام مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اگر ان لوگوں کے خلاف مسلمان کھڑے ہوں گے تو وہ دہشتگرد اور بنیاد پرست کہلوائیں گے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

گھر سے دفتر تک: اپنے سفر کے بارے میں لکھئےگھر سے دفتر کا سفر
اپنے روزمرہ کے تجربات و کہانیاں لکھ بھیجیں
اسلام اور جمہوریتاسلام اور جمہوریت
کیا جمہوری عمل دنیا کے مسائل کا حل ہے؟
حج بھگدڑحج کے دوران بھگدڑ
ایسے حادثات کو کیسے روکا جائے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد