BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 February, 2006, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام اور جمہوریت
مشرقِ وسطیٰ، اسلام اور جمہوریت
جہاں مسلم ممالک میں کئی اسلامی تنظیمیں جمہوریت کو اسلام کی روح کے خلاف سمجھتی ہیں وہاں فلسطین کے انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد مغربی ممالک نے مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے بارے میں انتہائی محتاط رویہ اپنایا ہے۔

صدر بش نے امریکی عوام سے اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں جمہوری اصلاحات کی حمایت جاری رکھے گا جس کے لئے انتخابات ناگزیر ہیں تاہم یہ صرف اس عمل کا آغاز ہیں۔ قانون کی برتری، اقلیتوں کا تحفظ اور مضبوط اور قابلِ احتساب ادارے اس کا اہم جزو ہیں؟

آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا جمہوری عمل واقعی دنیا کے مسائل کا حل ہے؟ جمہوریت ایک اسلامی معاشرے کی نفی ہے؟ کیا صرف ووٹ دینا ہی جمہوری عمل ہے؟یا اس کی کامیابی میں دوسرے لوازمات بھی شامل ہیں؟ جمہوری عمل شدت پسند قوتوں کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے میں کس حد تک مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

مہر افشاس، امریکہ:
اسلام اور جمہوریت ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں عوام کی رائے اور پھر اس پر عمل درآمد ہی اصل جمہوریت ہے اور اس کی بہترین مثال خلفہ راشدین کے دورے حکومت ہے۔ امتی مسلم اور ساری دنیا کے مسائل کا حل اس میں ہی پوشیدہ ہے۔ کیونکہ یہ خالقِ کائنات کا تجویز کردہ طریقہ ہے۔ چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔

جمہوریت کو اسلام برداشت نہیں
 اسلام جمہوریت سے زیادہ وسیع ہے اور جمہوریت کو برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن جمہوریت اسلام کو برداشت نہیں کر سکتی۔
ضیاء الرحمان، اسلام آباد

ڈاکٹر ثائیم علی سومرو، اسلام آباد:
اسلام کو غلط پڑھا جاتا ہے اور غلط کوٹ کیا جاتا ہے۔ یہ ناصرف مغربی دنیا کرتی ہے بلکہ اس کے اپنے ماننے والے اور رکھوالے بھی یہی کرتےہیں۔ مذہب کو دوسروں کو ڈرانے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے اور مغرب نے اسلام کی روح کو غلط سجھا ہے۔ وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ یہ لوگ خودکش حملے کیوں کرتے ہیں۔

ضیاء الرحمان ضیاء، اسلام آباد:
اسلام جمہوریت سے زیادہ وسیع ہے اور جمہوریت کو برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن جمہوریت اسلام کو برداشت نہیں کر سکتی۔

رضوان احمد، اسٹریلیا:
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کا عمل واقعی دنیا کے مسائل کا حل ہے مگر جمہوریت اسلامی تعلیمات اور شریت کی روشنی میں نفاذ ہو تو۔ خاص طور پر پاکستان کے مسئلے کا حل صرف یہی ہے۔

علی عمران شاہیں، لاہور:
کیسی منافقت ہے آج کی اس دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کو دیکھیں جو بات کریں گے اپنے مفا د کی کریں گے۔ اگر ان کی مخالف طاقتیں ووٹکے ذریعی آ بھی جائیں تو ان کو ختم کر دیا جائے گا۔ جمہوریت کے علم برداروں نے مسلمانوں کے ساتھ الجزائر میں کیا کیا؟ پھر اس کے بعد ترقی میں کیا کیا؟ اور آج حماس کی کامیابی پر کیوں ہر طرف پریشانی ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ جمہوریت مسلمانوں کو مارنے کا ایک نظام ہے۔ مسالمانوں کو اپنی اصل نظامِ حکومت یعنی خلافت کے قیام کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ جہاں صرف اہل لوگ ہی اقعدار میں آ سکتے ہیں۔

ظفر حسین، فیصل آباد:
جناب کمہوریت نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت دنیا کے مسائل کا حل ہے۔ جمہوریت کی مخالفت کرنے والے سیکھیں کہ جمہوری نظام میں احمد نجاد اور اسماعیل ہانیہ جیسے لوگ جیت سکتے ہیں۔

رضوان الحق، فرانس:
اسلام جمہوریت کی کبھی بھی نفی نہیں کرتا۔ مگر ابھی تک دنیا کی کوئی بھی جمہوریت مکمل نہیں چاہے وہ امریکہ ہو یا انگلینلڈ ہو یا کسی اور ملک کی ہو۔ اس کو بہتر کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی ملکوں کو دبانے کے لیے اور ان کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرنے کے لیے مغربی طرز کی جمہوریت ہی مغرب کے مفاد میں ہے۔

صحیح معنوں میں جمہوریت چاہیے
 ویسے بےلغام اور فرعونی جمہوریت نہیں۔۔ سمجھدار، شرافت، خلوص، دیانتداراور عاجزی پر مبنی جمہوریت ہونی چاہیے۔
حسن عسکری، پاکستان

حسن عسکری، پاکستان:
ویسے بےلغام اور فرعونی جمہوریت نہیں۔۔ سمجھدار، شرافت، خلوص، دیانتداراور عاجزی پر مبنی جمہوریت ہونی چاہیے۔

مون خان، امریکہ:
حکومت جمہوری ہو یا کوئی بھی ہو کوئی بھی نمائندہ امید پر پورا نہیں اترتا۔

ڈاکٹر سرفراز عباسی، امریکہ:
جمہوریت ہر جگہ ہونی چاہیے مغرب کو جمہوری عمل کی تائید کرنی چاہیے اور آمروں کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے۔

علی، میکسیکو:
کوئی بھی حکومت بغیر انصاف کے صحیح نہیں ہو سکتی۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
موجودہ دور میں جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جو اسلامی جماعتیں سیاسی عمل میں شامل ہیں وہ جمہوری عمل کے تحت ہی ایوانِ بالا تک پہنچیں ہیں اور پھر عوام کی خدمت کرتی ہیں۔ جواسلامی جماعتیں اس عمل کا حصہ نہی ہیں ان کو اس عمل سے گزرنا ہو گا کیونکہ انقلاب ہر روز نہیں آتے۔ بہتر یہی ہےکہ عوام کی عدالت میں جائیں اور وہا ں سے کامیاب ہو کر نظام کا حصہ بنیں۔

ملک غلام مصطفیٰ، فرانس:
جمہوریت دنیا کے مسائل کا حل نہیں کیونکہ بہت سے ملکوں میں اس کے قائم ہونے کہ باوجود بھی لوگ مایوس ہیں اور بدحالی کا شکار ہیں۔ اس کی بدترین مثال وہ معاشی نظام ہے جو جمہوریت کے سائیے تلے پنپتا ہے۔

یاسر غفور خان، اسلام آباد:
جمہوری عمل بہت ضروری ہے۔ گو کہ یہ سارے مسائل کا حل نہیں ہے لیکن اسی عمل سے مسائل کا حل اور سوجھ بوجھ رکھی جا سکتی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ اگر عوام کو ووٹ کا حق دیا جائے تو وہ اپنے نمائندے کا صحیح انتخاب کرتے ہیں تو اس میں شدت پسند ہوں یا نہیں حکومت کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ یہ بات اور ہے کہ ایسی تنظیم کواپنا رویہ ایسا رکھنا چاہیے جو ساری دنیا کو قبول ہو۔

عادل، امریکہ:
کوئی بھی اسلامی تنظیم جمہوریت کو اسلام کے خلاف نہیں سمجھتی لیکن مغربی طرزِ جمہوریت ضرور اسلام کے منافی ہے۔ جس میں ساری قوت اور طاقت ووٹ کو حاصل ہے۔ جبکہ اسلام میں تمام فیصلوں کا شریت کے تابع ہونا ضروری ہے۔ یعنی آپ فقت ووٹینگ سے شراب کو حلال نہیں کر سکتے۔ اسلامی جمہوریت کی روح شعوریٰ ہے جیسا کہ قرآن میں حکم آیا ہے ’آپس کے معاملات کا فیصلہ مشورے سے کیا کرو‘۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
صدر بش اپنے لیے خود گڑھے کھود رہے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسی بھی وقت کسی بھی بڑے نقصان کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ملکی سطح پر بھی ان کی مقبولیت میں جو کمی آ رہی ہے۔

شازیہ شکور، سندھ:
ایرانیوں نے احمدی نجاد کو اور فلسطینیوں نے حماس کو کامیاب کرا کر بش کو پیغام دیا ہے۔ مگر موجودہ حالات نے سعودی خاندان کو سکون ضرور بخشا ہے۔ بیچارے 11 ستبر کے بعد سے خوف میں مبتلا تھے کہ اب گئے اور تب گئے۔ مگر حالات اب خطرے سے باہر ہیں۔

محمد خان، دبئی:
جمہوریت میں آدمیوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ کیا ایک آنکھ والا اور دو آنکھوں والے کے برابر ہو سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ کیا ایک جج، ڈاکٹر، سائینسدان، ماہرِ معیشیت اور ایک جاہل آدمی کی سوچ برابر ہو سکتی ہے؟ کیا جمہوریت اس کو کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو چن کر بادشاہ بنا دو اور اس کی غلامی کرو۔ کیا بش، مشرف اور بلئیر اور ان جیسے سب حکمران وہی کر رہے ہیں جو ان کی عوام چاہتی ہے۔ اگر ایران اور فلسطین میں اپنی مرضی کی حکومتیں نہ بنیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟ صاف بات ہے بادشاہ سلامت کو ایسی حکومتیں پسند نہیں۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ایران کا جوہری پروگرامایران کا کیا بنے گا؟
ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعہ: آپ کی رائے
فلسطینی انتخابات میں حماس کی برتری اب جنگ یا امن؟
فلسطینی انتخابات: حماس کی برتری پر آپکی رائے
 بیروت میں مظاہرینآپ کی رائے
مشرق وسطی: کس طرح کی تبدیلیاں آرہی ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد