BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 January, 2006, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی انتخاب: حماس کی برتری
فلسطینی انتخابات میں حماس کی برتری
اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم حماس کو فلسطینی پارلیمان کےانتخابات میں برتری حاصل ہے۔ انتخابات میں حماس کی شمولیت سے اسرائیل، امریکہ اور یورپ میں کافی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور اس کے خلاف پابندی عائد ہے۔

انتخابات کے مکمل نتائج جمعہ تک متوقع ہیں۔ حماس اور فتح دونوں نے کہا ہے کہ اگر کسی جماعت کو واضح برتری حاصل نہ ہوئی تو وہ مخلوط حکومت بنانے پر غور کریں گے۔ یورپی یونین کے ایک اہلکار کے مطابق فلسطینی علاقوں میں ووٹنگ باقی عرب دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

بیلٹ بکس کی حفاظت کے فلسطینی پولیس تعینات کی گئی تھی جبکہ فلسطینی عسکریت پسندوں نے انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حماس کی برتری پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن منصوبے کو دھچکہ پہنچے گا؟ یا حماس اپنا سخت گیر مؤقف چھوڑ کر اسرائیل کے ساتھ کسی پرامن معاہدے کی طرف بڑھے گی؟ کیا امریکہ اور یورپ کو حماس کو ایک سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کرلینا چاہیے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

اسامہ خان، ملتان:
اب یہی ہے جمہوریت پسندوں کا امتحان۔ مغرب کو چاہیے کہ اب فلسطینیوں کے فیصلے کو قبول کر لے۔

سید یاسر جمیل عابدی، پاکستان:
اسرائیل طاقت کی آواز سمجھتا ہے اور حماس تو اپنے حق کے لیے لڑ رہا ہے۔

نامعلوم، سعودی عرب:
حماس کا جیتنا اسلام پسندوں کے لیے اور اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی جیت ہے۔ کیونکہ خود کو مسلمان بھی کہواتے ہیں اور قومیت اور زبان کے بت کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ جیت ہمیشہ حق کی ہوئی ہے اور ہو گی اور حق یہی ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اس کے ساتھ بی بی سی کو بھی یہی کہوں گا کہ حماس جیسی تنظیموں کے ساتھ شدت پسند لگانا بند کر دیں۔ اگر اس لفظ کا استعمال کرنا ہے تو امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کے ساتھ بھی شدت پسند لگائیں یکطرفہ رپورٹنگ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

علی عمران شاہین، لاہور:
شاید دنیا میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کا نقاب پھر اٹھنے والا ہے جیسا کہ الجزائر میں اترا تھا۔ اگر یورپ اور امریکہ جمہوریت کے چیمپئین ہیں تو انہیں فلسطینیوں کے انتخاب پر کیوں اعتراض ہے۔ حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ اصل بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے لیے معیار ہی اور ہے، یہی دنیا میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

اکرام چوھدری، نامعلوم:
میں نصراللہ کھوسہ صاحب کی بات سے متفق ہوں۔ میرے نزدیک ابھی حماس کو ایک موقعہ ملا ہے کہ امن کی راہ میں اسرائیل سے بات چیت شروع کرے کیونکہ یہ انتہا پسندی جس کو یہ لوگ جہاد کہتے ہیں اس سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ جب حماس اور فتح کے خیالات ہے نہیں ملتے تو وہ جہاد کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ صرف کرسی کا چکر ہے۔ کوئی شیخ یاسین نہیں ہو سکتا سلام ہے ان کی ہستی کو۔

فاروق منصوری، کراچی:
میں مشرف صاحب سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ فلسطیی الیکشن کا نتیجہ روشن خیال اعتدال پسندی کی جیت ہے یا ہار۔

ارشد صابر، سیالکوٹ:
یورپ اور امریکہ کہ رہے ہیں کہ وہ حماس کی فتح کو نہیں مانتے جب تک وہ ہتھیار نہیں رکھتے۔ حیران کن بات ہے کہ اسی یورپ اور امریکہ نے آئی آر اے کے ساتھ مزاکرات کس منہ سے کئے؟ عوامی طاقت کو مان لینے ہی میں بھلائی ہے۔

عوامی طاقت کو مان لینا چاہیے
 یورپ اور امریکہ کہ رہے ہیں کہ وہ حماس کی فتح کو نہیں مانتے جب تک وہ ہتھیار نہیں رکھتے۔ حیران کن بات ہے کہ اسی یورپ اور امریکہ نے آئی آر اے کے ساتھ مزاکرات کس منہ سے کئے؟ عوامی طاقت کو مان لینے ہی میں بھلائی ہے۔
ارشد صابر، سیالکوٹ

عاصم شہزاد، نامعلوم:
یہودی مزہب میں ہے کہ آنکھ کا بدلہ آنکھ سے اور ناک کا بدلہ ناک سے۔ حماس اسی قانون پر عمل کر رہی ہے تو اسرائیل کو اعتراض کیسا؟ میرے خیال میں تو حماس حق پر ہے۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے کسی کو امن سے جینے کا حق نہیں دیتی۔ حقیقی امن اللہ کی پناہ میں ہے۔ اس کےلیے وقت کے امام کو قبول کرنا ہو گا۔ اسی کی وجہ سے مسلم اب تک غیر مسلموں کے ہاتھوں مار کھا رہے ہیں۔

وہاب اعجاز، بنو:
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا ہے

اس کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی جیت ہوئی ہے اور تمام مسلم دنیا کےلیے خوشی کی بات ہے۔

عبدالحنان، فیصل آباد:
اب یا تو بہت اچھا ہوگا جس کی ہم امید رکھتے ہیں یا کچھ بہت برا ہوگا جسکا ہم تصور کر سکتے ہیں۔

شاہد ارشد، خان پور:
امریکہ کو نہ صرف حماس کی جیت کو تسلیم کر لینا چاہیے بلکہ اسے یہ بات بھی مان لینی چاہیے کہ پوری دنیا میں اس کی اسلام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے الیکش کے ذریعے سے وہ لوگ کامیاب ہو رہے ہیں جنہیں وہ دہشت گرد کہتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو اپنی ریاستی دہشتگردی کو ختم کر کے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ صرف یہی طریقہ جس کے ذریعے دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

ریاض فاروقی، دبئی:
اگر آج پاکستان میں حقیقی جمہوریت آ جائے تو پاکستان بھی امریکہ کے ناپسندیدہ ملکوں میں آجائے گا۔ اصل میں امریکہ میں تو خود حقیقی جمہوریت نہیں ہے۔ بش پہلی بار بھی فلوریڈا کی ہائی کورٹ کے اختلافی فیصلے کے بعد حکومت میں آئے تھے۔ وہ کیسے برداشت کریں گے کہ حقیقی جمہوریت ہو۔

ساجد اقبال، کوہاٹ:
حماس کو شیخ یاسین کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے لیکن پہلے عوام کو یکجا کر کے اورملک کو مضبوط بنا کر۔ لوگ جو بھی کہیں اصل دہشت گرد اسرائیل ہی ہے۔

باقر، لاہور:
یہ ایک اچھی خبر ہے اور یورپی ممالک کو اس کو قبول کر لینا چاہیے۔

حماس ہیرو ہے یا دہشت گرد؟
 حماس کی فتح کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ امریکہ یا اسرائیل جسے دہشت گرد قرار دے رہا ہے وہ واقعی دہشت گرد ہے یا اس قوم کا ہیرو جس کےلیے وہ اپنا خون دے رہا ہے۔
سید کاظمی، لندن

سید کاظمی، لندن:
حماس کی فتح کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ امریکہ یا اسرائیل جسے دہشت گرد قرار دے رہا ہے وہ واقعی دہشت گرد ہے یا اس قوم کا ہیرو جس کےلیے وہ اپنا خون دے رہا ہے۔

نصراللہ کھوسہ بلوچ، نواب شاہ:
اب امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی پالیسیاں بہت غلط ہیں اور انہی پالیسیوں کی وجہ سے ہر طرف انتہا پسند کامیاب ہو رہے ہیں اور یہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک خطرناک بات ہے۔

مبین انور، پاکستان:
امریکہ اور یورپ کو حماس کو ایک مضبوط سیاسی طاقت قبول کر لینا چاہیے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
حماس کی فتح حق، سچ، اصول اور ایمان کی فتح ہے۔ جبکہ ظلم دوغلاپن، منافقتت، جبر اور استحصال کے منہ پر طمانچہ ہے۔

جمیل احمد، لاہور:
اصل جدوجہد تو اسرائیل کے قبضے کے خلاف ہے اور ان کو ریاستی تشدد کا بھی سامنا ہے۔ اس لیے ان کی حکتِ عملی میں اس وقت تبدیلی کی بات قبل از وقت ہے۔ امریکہ اور یورپ کی پالیسیاں اسرائیل کی لابی کا نتیجہ ہیں۔ اگر اسرائیل حماس کو سیاسی انداز میں دیکھتا ہے تو شاید پھر امریکہ اور یورپ بھی اس سے سلام دعا رکھیں گے۔ ورنہ ان کی عینک سے تو سب کچھ سرخ خطرہ ہی ہے۔

سلیم محمود، لاہور:
حماس کے جیتے سے پورے علاقے میں عسکری طاقتیں پروان چڑھیں گی۔ اب زیادہ چانس یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو پرامن حل نکل رہا تھا وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ ہم سب حماس کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ اسے فلسطین کی آزادی کے لیے کام کرنے کی توفیق فرمائیے۔

محمد اظہر نعیم، ٹوبہ ٹیک سنگھ:
میں حماس کی کامیابی کو اچھا سمجھتا ہوں۔ اب فلسطین کا مسئلہ جلدی حل ہو جائے گا۔

افتخار احمد کشمیری، لندن:
کمزور طاقتور سے نفرت کرتا ہے اور جب کمزور طاقتور بن جاتا ہے تو کمزور سے نفرت کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہی اس دنیا کا اصول ہے۔

جواد مولائی، دہلی:
کیا جمہوریت کے علمبردار بش کے ڈھیٹ پنے پر حیران ہونا چاہیےجنہوں نے اسی الہامی فرض کی ادائیگی کے لیے افعانستان اور عراق کو تہس نہس کر دیا۔ جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی حماس کے قابلِ قبول نہ ہونے کا وہ انتخاب سے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں۔

خرم ملک، پاکستان:
امریکہ دوسرے ملکو ں میں جمہوریت چاہتا ہے۔ اب فلسطینیوں نے اپنی رائے کا استعمال کر دیا ہے اس پر اتنی پریشانی کیوں ہو رہی ہے؟ امریکہ کو دوسری قوموں کا احترام کرنا چاہیے۔

رضوان بیگ، یو کے:
یہ سچ اور حق کی جیت ہے۔ مغربی دنیا کو یہ نتیجہ قبول کر لینا چاہیے۔ اس سے فلسطین ایک جمہوری ریاست بن سکتی ہے۔

طارق ابرو، ماریشیس:
سب سے اہم بات ہوتی ہے دیانتدار لیڈرشپ اور مستقل مزاجی کی۔ حق حاصل کرنا اس دور میں صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب آپس میں اتحاد ہو۔ اگر آپ متحد ہیں تو امریکہ کیا پورے اسلام دشمن بھی متحد ہو جائیں تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مگر کیا کیا جائے ایسے غداروں کا جو اپنی ہی ہوس پوری کرنے کےلیے اپنی ہی قوم سے غداری کرتے ہیں لیکن اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ غدار کا انجام بھی بھول جاتے ہیں۔ جس کی مثال دھوبی کے کتے جیسی ہوتی ہے۔ بہر حال حماس کی کامیابی ایک نیا موڑ ہے۔

جہانگیر مغل، پاکستان:
فلسطینی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ حماس ان کے دلوں میں ہے۔ الفتح کو ووٹ نہیں ملتے تھے ووٹ یاسر عرفات کو ملتے تھے اس لیے جب یاسر عرفات نہ رہے تو عوام نے حماس کو ووٹ دیا۔ امریکہ اور یورپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہیں کہ حماس کو نہیں جیتنا چاہیے تھا کیونکہ بش بھی تو جیتے تھے کسی نے یہ نہیں کہا بش کیوں جیتے؟ بش اور حماس میں صرف یہ فرق ہے کہ بش معصوم لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور حماس کے لوگ اپنے حق کے لیے حملہ کرتے ہیں۔

جیم زکی، یوکے:

زمینی حقائق کو سمجھیں
 ترکی کی حق پارٹی سے لے کر فلسطین کی حماس پارٹی تک، مسلمان اپنے ووٹ کے ذریعے قابلِ اعتماد نمائندوں کو سامنے لا رہے ہیں۔ کیا ہم نتائج کو صرف اس لیے مسترد کر سکتے ہیں کہ ہماری پسند کے چہرے سامنے نہیں آئے۔ ہمیں چاہئے کہ بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو سمجھیں۔
جیم زکی، یوکے

بلئیر حکومت کئی سالوں تک عرفات کی پالیسیوں کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی رہی۔ فلسطینیوں نے اپنے لیڈروں کو بنکروں سے نکال کر قانون سازی کا موقعہ دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ فلسطینیوں کی رائے کا احترام کرے، میڈیا اس طرح کے ردِعمل کا اظہار کیوں کر رہاہے؟ ترکی کی حق پارٹی سے لے کر فلسطین کی حماس پارٹی تک، مسلمان اپنے ووٹ کے ذریعے قابلِ اعتماد نمائندوں کو سامنے لا رہے ہیں۔ کیا ہم نتائج کو صرف اس لیے مسترد کر سکتے ہیں کہ ہماری پسند کے چہرے سامنے نہیں آئے۔ ہمیں چاہئے کہ بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو سمجھیں۔

افتخار احمد، اسلام آباد:
امریکہ اور یورپ کو نتیجہ قبول کر لینا چاہیے اور حماس کو حکومت کرنے دینی چاہیے کیونکہ وو اپنے لوگوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ اسرائیل کبھی بھی اس مسئلے کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ حماس امن کی راہ میں کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنے گی اگر اسرائیلی مخلص ہوں۔

نوید عالم آرائیں، حیدرآباد:
حماس فلسطینی عوام کے ووٹ لے کر جیتی ہے۔ دنیا کو فلسطینی عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ حماس کو بھی اپنے موقف میں تھوڑی لچک پیدا کرنی چاہیے کیونکہ مذاکرات ہی سے مسلئے حل ہو سکتے ہیں۔

ولی خان، پاکستان:
یہ ایک بہت بڑی فتح ہے اور دنیا کو ان کی فتح قبول کر لینی چاہیے اور ان کو فلسطین پر حکومت کرنےکا حق دینا چاہیے۔ یہ حقیقی جمہوریت ہے۔

محمد فیصل، جرمنی:
اسرائیل اور امریکہ کو چاہیے کہ زمینی حقائق تسلیم کر لیں اب دھمکی کی پالیسی نہیں چلے گی۔

نواب عاطف خان، مظفر گڑھ:
امریکہ اور اسرائیل ہو یا یورپ، یہ حق کسی کو نہیں پہنچتا کہ وہ کسی قوم کو ڈکٹیٹ کروائیں کہ کون سی پارٹی اقتدار میں لائیں اور کون سی نہ لائیں۔ فلسطین پر فلسطین کا حق ہے، وہ جس کو چاہے، ووٹ دیں۔ میرے خیال میں اگر موقع دیا جائے تو حماس کی جیت سے امن قائم کرنے میں آسانی ہوگی کیونکہ اسے فلسطینیوں کا اعتماد حاصل ہے۔ اس لئے یورپ اور امریکہ کو اسے تسلیم کرلینا چاہئے۔ باقی جس طرح فلسطینی عوام اور حکومت نے ان حالات میں بھی پرامن انتخابات کو ممکن بنایا ہے، ہم پاکستانیوں کو اس سے کچھ سیکھنا چاہیے۔

شیدی، لیاری، کراچی:
اگر اسرائیل آئی ایس آئی کی خدمات حاصل کرلیتا تو اسے یے دن نہ دیکھنا پڑتا۔

حسن رضا شمسی، سعودی عرب:
یہ ایک اچھی بات ہے کیونہ حماس نے فلسطین کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں اور ان کا حکومت میں آنا بہت اچھا ثابت ہوگا کیونکہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد:
ابھی تو ایران میں احمدی نژاد کی فتح امریکہ اور اسرائیل کے سینے پر مونگ دل رہی تھی کہ اوپر سے حماس نے ایک نیا چرکا لگا دیا۔ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ حماس کو انہی کا صلہ ملا ہے لیکن امریکہ اور یورپ اسے اپنے لیے موت سے کم نہیں جانیں گے۔

طیب محمود، چین:
جناب حماس فتح کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہے، اس لئے امن کے لئے زیادہ بہتر کام کرسکتی ہے۔ جہاں تک بات ہے اس کی الاقصیٰ بریگیڈ کی تو وہ تو شروع ہی سے فلسطین کی فوج رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب حالات بہتر طور پر امن کی طرف بڑھیں گے۔

یاد کیجیے
 شیرون جیسے سخت گیر کو بھی یہ سیکھنا پڑا کہ امن کے لئے کچھ نہ کچھ کھونا پڑتا ہے۔ دیکھئے، دنیا کوئی منصفانہ جگہ نہیں ہے۔ آپ کو کہیں نہ کہیں سے تو شروع کرنا ہی پڑتا ہے۔ یاد کیجئے کہ جاپان کیسے ایٹمی تباہی کی راکھ میں سے بیدار ہوا۔
عبدالوحید، میری لینڈ

عبدالوحید، میری لینڈ:
حماس کو بوسنیا کی مثال سے سیکھنا چاہئے۔ اگرچہ بوسنیا کو بھی کوئی بہت منصفانہ ڈیل نہیں ملی لیکن کم از کم اس طرح وہ کسی جانب اپنے مستقبل کی تعمیر کا آغاز کرنے میں تو کامیاب ہوئے۔ حتیٰ کہ شیرون جیسے سخت گیر کو بھی یہ سیکھنا پڑا کہ امن کے لئے کچھ نہ کچھ کھونا پڑتا ہے۔ دیکھئے، دنیا کوئی منصفانہ جگہ نہیں ہے۔ آپ کو کہیں نہ کہیں سے تو شروع کرنا ہی پڑتا ہے۔ یاد کیجئے کہ جاپان کیسے ایٹمی تباہی کی راکھ میں سے بیدار ہوا۔

محمد ظفرالاسلام، کراچی:
جمہوریت تو سرمایہ داری نظام کا ایک ہتھیار ہے جس سے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اور اپنی تمام تر استبدادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نتائج لیتا ہے۔ ہاں جہاں لوگ بالکل پھٹ پڑنے کو تیار ہوں، وہاں نتائج مختلف بھی ہوجاتے ہیں۔ اگر مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ پٹھوؤں کے مقابل عوام الناس کو آزادانہ رائے دہی کا موقعہ ملے تو شاہ عبداللہ اور جنرل مشرف جیسے پٹھوؤں کو جنگل بھی پناہ نہ دے۔

اظہر بلوچ، کراچی:
الفتح پر حماس کی تاریخی فتح دراصل حقوق کی جدوجہد میں الفتخ کے اب تک کے کردار کے خلاف فلسطینیوں کا ردِ عمل ہے۔ الفتح امریکہ اور اسرائیل کے حق میں زیادہ بولتا ہے بہ نسبت اپنے عوام کے حقوق کے لیے۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
امریکہ اور یورپ کو یہ کڑوا گھونٹ اب پینا ہی ہوگا کہ اسی میں بھلائی ہے اور اس سے پتہ چل گیا ہے کہ فلسطینی عوام کیا چاہتے ہیں۔ رہا امن منصوبہ تو وہ شیرون کی بیماری کے بعد پہلے ہی کھٹائی میں پڑتا ہوا لگ رہا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ حماس اپنے رویئے میں لچک پیدا کرے۔

ستار بگٹی بلوچ، ڈیرہ بگٹی:
امریکہ اور یورپ کے پاس جیتنے والی جماعت کی حمایت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ میری دعا ہے کہ وہاں امن قائم ہو۔ جنگ کے نقصانات کا ہم بگٹیوں کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے۔

سعید احمد بیگانہ، جاپان:
اسرائیل اگر واقعی امن چاہتا ہے تو حماس کو قبول کرکے اس کے ساتھ مذاکرات شروع کرے اور یورپ اور امریکہ امن کا سلسلہ آگے بڑھائیں۔

محمد اظہر نعیم سیال، ٹوبہ ٹیک سنگھ:
میں تو اسے بہتر سمجھتا ہوں اور اب فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

آپ کی رائے
تل ابیب حملہ: قیام امن کی کوششوں پر اثر؟
فلسطین میں امن ہوگا؟فلسطین: امن ہوگا؟
کیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہے؟
فلسطینی انتخاباتفلسطینی انتخابات
فلسطینی انتخابات کے بارے میں آپ کے تاثرات؟
اسرائیلی حفاظتی باڑھ: آپ کی رائےحفاظت یا قبضہ؟
اسرائیلی حفاظتی باڑھ کی تعمیر: آپ کی رائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد