BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 August, 2005, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کا کیا بنے گا؟
ایران جوہری پروگرام
آئی اے ای اے، دوسرے دن بھی ایران کے جوہری پروگرام پر ہنگامی مذاکرات کر رہا ہے
ایران نے کہا ہے کہ آج یعنی بدھ کو وہ اپنے جوہری پلانٹ کے دوسرے حصوں پر سے اقوام متحدہ کی ’سِیل‘ کھول دے گا جس کے بعد پلانٹ پوری طرح کام کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

ایران کے صدر محمد احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اگر نئی اور غیر مشروط تجاویز پیش کی جاتی ہیں تو ایران بات چیت کے لیے تیار ہے۔

امریکی صدر جارج بش نے ایرانی صدر کے اس بیان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ابھی تک اس بات کا شک ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانا چاہتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پوری طرح پر امن ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے جوہری پروگرام کا نگران ادارہ آئی اے ای اے، دوسرے دن بھی ایران کے جوہری پروگرام پر ہنگامی مذاکرات کر رہا ہے۔ آئی اے ای اے چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو رضاکارانہ طور پر بند کر دے۔

آپ کو کیا لگتا ہے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اس تنازعہ کا انجام کیا ہوگا؟ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو کیا کرنا چاہئیے؟ کیا ایران پر اقوام متحدہ کی طرف سے اقتصادی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں؟ کیا ایران میں جوہری پروگرام کے دوبارہ شروع ہونے سے خطے کے امن کو خطرہ ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب درج ذیل ہے۔

ناصر، سائپرس:
میری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ ایران ایٹمی ری ایکٹر کیوں بنانا چاہتا ہے؟ کیا اسے توانائی میں کمی کا سامنا ہے؟ اس کے پاس تیل اور گیس کے ذخائر ہیں جس سے وہ اپنی توانائی کی کمی کے سلسلے میں ضروریات پوری کرسکتا ہے۔

مرتضی علی، کراچی:
اگر ایران کا جوہری پروگرام آئی اے ای اے کی نگرانی میں شروع ہو رہا ہے تو اس پر امریکہ کو کیا اعتراض ہے۔ ہاں اعتراض اس بات کا ہے کہ ایران کہیں ترقی نہ کرلے۔

فاطمہ، راولپنڈی:
ہر ملک کو اپنے تحفظ کا حق ہے اور امریکہ یا کوئی اور ملک اس کا یہ حق نہیں چھین سکتے۔

عبدالوحید، پاکستان:
جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ امریکہ اور برطانیہ جو کرتے پھریں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اگر کوئی مسلمان ملک کچھ کرے تو فورا نکتہ چینی شروع ہو جاتی ہے۔

نبیل منظور، پاکستان:
ایران کو اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنا چاہیے۔ یہ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ جسیے ممالک کے سامنے کھڑے رہنے کے لیے ضروری ہے۔

عبدالرب، پاکستان:
کسی ملک کونئی ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے نہیں روکنا چاہیے۔ دنیا مریخ پر پہنچ چکی ہے۔

پرویز، انڈیا:
امریکہ کو سب سے پہلے اسرائیل کو ایٹم بم بنانے سے روکنا چاہیے۔

نسیم رضا، پاکستان:
جنوبی ایشیا کو ایران کے ایٹم بم بنانے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

قمر جاوید، پاکستان:
امریکہ اور یورپ اسلامی دنیا سے خوف ذدہ ہیں۔

ہارون راشد، پاکستان:
کیا امریکہ کو اسرائیل کے ایٹمی پلانٹ نظر نہیں آتے ہیں؟ کیا ساری پابندیاں اسلامی ممالک کے لیے ہی ہیں؟

محمد توقیر خان، پاکستان:
میں صرف یہ بات جانتا ہوں کہ اس موقع پر تمام اسلامی ممالک مل کر ایران کا ساتھ دیں اور اگر ایران ایٹمی طاقت بن گیاتو مسلم امت مضبوط ہوجائے گی۔

جیلانی خان، پشاور:
اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ ایران مغرب کے دباؤ کا سامنا کس طرح کرتاہے دوسرے اس نے میزائل شہاب تھری بنایا جس کی رینج دو ہزار کلو میٹر ہے جو اس بات کی عکاسی ہے کہ اگر مغرب نے اس پر حملہ کیا تو وہ اسرائیل پر حملہ کر دے گا۔

اخلاق احمد، ناروے:
دنیا کو اس وقت امن کی ضرورت ہے اور بڑی افسوس ناک بات ہے کہ ایک اور ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ماجد وسیم، متحدہ عرب امارات:
ایران کا حال بھی عراق کی طرح ہونے والا ہے۔

سلمان علی، فیصل آباد:
کیا امریکہ یہ چاہتا ہے کہ تمام دنیائے اسلام پر اس کی حکومت ہو۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا پہلا حملہ افغانستان پر تھا جس کی بنیاد یہ تھی کہ یہاں پر ایٹم بم کی تیاری کی جارہی ہے۔ جنگ تو ختم ہوگئی مگر ایٹم بم نہیں ملا۔ اس ہی طرح عراق اور اب ایران کی باری ہے۔

محمد شیخ، بحرین :
عجیب بات ہے کہ مغربی ممالک نے ایران کو ہوا بنا رکھا ہے مگر اسرائیل جو کے بھارت کی طرح ریاستی دہشت گردی میں مشغول ہے اس کا نام تک نہیں آرہا ہے۔

میر بلوچ، بلوچستان:
ہم امریکہ کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں کہ اس کےدوست جیسے برطانیہ اور دوسرے ممالک اس کا ساتھ چھوڑتے جا رہےہیں۔ اس کو یہ بات تو گوارہ ہے کہ یہ سارے ممالک ایٹم بم بنا لیں مگر کسی اسلامی ملک کا بم بنانا اس سے برداشت نہیں ہو رہا ہے۔

فرحان خان، انڈیا:
ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھنا چاہئیے۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانا مناسب نہیں ہے۔ دراصل امریکہ نہیں چاہتا کہ وہ کسی کے سامنے جھک جائے۔ اگر ایران کے پاس بھی وہی کچھ ہو جو امریکہ کے پاس ہے تو ایران امریکہ سے نہیں ڈرے گا، اسی لیے امریکہ نہیں چاہتا کہ وہ جوہری بم بنا لے۔

داؤد خان، امریکہ:
بہت ہی عجیب اور نا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔۔۔خود امریکہ، برطانیہ جو مرضی اپنی حفاظت کے لیے کر لیں؟ اور کوئی اسلامی ملک ایسا کرے تو ان کو یہ بات سخت ناگوار گزرتی ہے؟

سلمان علی، فیصل آباد، پاکستان:
ایران کے جوہری پروگرام سے خطے کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے کچھ نہ کچھ انتظام کر کے رکھے۔ رہی بات اقوام متحدہ کی، وہ تو کٹھ پتلی حکومت ہے امریکہ کے اشارے پر سارا کام ہوتا ہے۔ بہرحال اس دفعہ امریکہ اپنی چال میں کامیاب نہیں ہوگا۔

ضیا ناصر، پاکستان:
ہاں ٹھیک ہے ایران کو ایٹم بم بنانا چاہئیے پر اس کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئیے۔ امریکہ سپر پاور ہے، وہ چاہے تو ایران کو بھی تباہ کر سکتا ہے مگر ایٹم بم بنانا غلط کام نہیں۔

عاصف اچکزئی، چمن، پاکستان:
امریکہ کو تو بس مسلمانوں کو ختم کرنے کا بہانا چاہئیے۔ شمالی کوریا کھلے عام ایٹم بم بنانے کا اعلان کرے تو معاملہ سکیورٹی کونسل میں لے جانے کا کسی کو خیال نہیں آتا اور اگر ایران پر امن مقاصد کے لیے یہ کام کرے تو ساری دنیا اسے ڈرانے دھمکانے لگ جاتی ہے۔

عالم گیر بیگ، سویڈن:
جوہری طاقت بننا ایران کا حق ہے۔ آئی اے ای اے کو ہوتا ہے روکنے والے؟ کیا سب بھول چکے ہیں کہ آئی اے ای اے کی کیا حیثیت ہے، جب انڈیا اور پاکستان جیسے کنگلے ملک ایٹمی رئیکٹر میں جوہری بم بنا سکتے ہیں تو ایران اپنا پر امن جوہری پروگرام جاری کیوں نہیں رکھ سکتا؟

راجہ یونس، سعودی عرب:
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بہت سے سوالات گردش میں ہیں۔ یہ صدر احمدی نژاد کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک کڑی آزمائش بھی۔ موجودہ بین الاقوامی صورت حال کوئی زیادہ امید دلانے والی نہیں ہے۔ میرے خیال میں ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اہنی ترقی کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرے جو وسائل کے اندر رہتے ہوئے، دوسروں کو تکلیف دئے بغیر ممکن ہو سکے۔ ویسے عقل کو تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر جوہری پروگرام انسان کے لیے نقصان دہ ہے تو سب ملکوں کو اس سے دست بردار ہو جانا چاہئیے۔

جمال اختر، پاکستان:
ایران کا کیا بنے گا؟ وہی بنے گا جو عراق اور افغانستان کا بنا ہے۔ ایران نے آخر امریکہ کو آنکھ دکھائی ہے۔ امریکہ نے پھر کچھ تو ایکشن لینا ہے۔ اقوام متحدہ کیا کرے گی؟ وہی جو امریکہ چاہے گا۔ وہ ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ اللہ ان سب کو ہدایت اور ایرانیوں کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے۔

اظہر بھٹی، دبئی:
ایران کو بھی اپنے دفاع کے لیے یہ سب کچھ کرنا ہے اور ایران کا حق بھی ہے۔ اور ایک دن ایران بھی انشا اللہ ایٹمی پاور بن کر دنیا کے سامنے آئے گا۔ یورپ کو چاہئیے کہ وہ اس حقیقت کو قبول کرے۔

فیاض محمد، پاکستان:
انجام کچھ بھی نہیں ہوگا۔ امریکہ کی تاریخ ہے کہ جو بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، یہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ ایران کو ایٹم بم بنانا چاہئیے۔ اگر امریکہ ساٹھ سال پہلے اپنے دفاع کے لیے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا سکتا ہے، اور اس وقت عالمی امن کو کوئی خطرہ نہیں تھا، تو ایران کے ایٹم بم بنانے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔

ساجد چودھری، برطانیہ:
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کچھ ممالک کو ایٹم بم گرانے اور بنانے کی اجازت ہو اور کچھ کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کی بھی اجازت نہ ہو۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ دنیا میں اس وقت طاقت کا توازن نہیں ہے۔ ہر بات طاقت ور کی مانی جاتی ہے۔

عمر عثمانی، سعودی عرب:
مسلم دنیا کو یہ بات سمجھ جانی چاہئیے کہ ان کا دشمن کون ہے جیسے کہ قرآن نے ہمیں بتا دیا تھا چودہ سو سال پہلے۔ کبھی دشمن بھی حریف کی ترقی دیکھ سکتا ہے؟

امحد جلیل ترک، لاہور، پاکستان:
قانون کا پہلا اصول برابری کا ہے یعنی یہ نہیں ہو کہ قانون کچھ لوگوں کے لیے ایک ہو اور کچھ دوسرے لوگوں کے لیے دوسرا ہو، یا اگر ہو بھی تو خاموش ہو۔ ویسے تباہی کے بڑے ہتھیاروں کی اجزت کسی کو بھی نہیں ہونی چاہئیے، نہ ایران کو اور نہ اعلی جناب امریکہ کو۔۔۔

محمد جاوید، شارجہ:
ایران کے جوہری پاور بن جانے سے یا ایٹمی پروگرام شروع کرنے سے خطے کو ویسے تو خطرہ نہیں، مگر ایسا کرنے پر امریکہ کے حملے کرنے کے خدشات بڑھ جائیں گے جس کی وجہ سے پھر خطے کا امن تباہ ہوگا۔ اگر امریکہ کو انتہائی درد ہے ایران کے ایٹمی پروگرام کا، تو وہ بھی اپنے ایٹمی پاور کو ختم کر دے۔ مگر بات پھر وہی ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو۔ ہم سب اور مغبری میڈیا ایران کو تو برا بھلا کہہ رہے ہیں مگر ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے کوئی کچھ نہیں کر رہا۔

محمود، ایران:
یہ مغربی ممالک کے ساتھ اختلافات کی ایک نئی شروعات ہے۔ مگر اختلافات مغربی مملک کے ساتھ ہیں، بین الاقوامی برادری کے ساتھ نہیں۔ امریکہ اور یورپ بخوبی جانتے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا اور نہ کبھی کرے گا۔ بحث جوہری تیکنالوگی پر نہیں بلکہ جدید تیکنالوجی تک رسائی پر ہے۔ مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ تیسری دنیا کے ممالک تک یہ جدید ٹیکنالوگی پہنچے۔ ایسے مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
ایران کوئی پہلا ملک نہیں ہے جو ایٹمی پاور بن رہا ہے۔ یہ مسئلہ تو ان کے لیے ہے جنہوں نہ پہلا ایٹم بم بنایا اور پھر لاکھوں بےگناہ انسانوں کو مٹا دیا۔ ایران کو اپنی آزادی اور سلامتی کے لیے سب کچھ کرنا ہوگا اور انشا اللہ وہ ایک عظیم اسلامی سٹیٹ ہے اور رہے گا۔

سیمورگ، ماہ شہر:
مجھے لگتا ہے کہ یورپ ایران کے جوہری پروگرام کے پر امن کردار کو سمجھتا ہے لیکن امریکہ مذاکرات کے درمیان کھڑا ہے۔ یورپی ممالک نے جس طرح اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی ہے وہ امریکہ کے سخت رویے سے بہت بہتر ہے۔ ایران اپنا پر امن جوہری پروگرام جاری رکھے گا، جیسا کہ اس کا حق ہے۔ یورپ کو چاہئیے کہ اس حقیقت کو تسلیم کر لے۔

ابو ارسلان، اسلام آباد، پاکستان:
افسوس کہ آج کی دنیا میں انصاف نام کی چیز باقی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے پروگرام کے حوالے سے سب کی زبان کیوں بند ہے؟ شمالی کوریا کے حوالے سے مذاکرات ہوتے رہتے ہیں، ایران کے حوالے سے کیوں نہیں؟ برطانیہ نے اسراییل کو بھاری پانی دیا، اس پردنیا کیوں خاموش ہے؟

فرزاد، مسجد سلیمان:
سائنس اور ٹیکنالوجی اپنے آپ میں اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ اس کا دارومدار اس کے صحیح یا غلط استعمال پر ہوتا ہے۔ ایک ماچس کی تیلی سے پورا جنگل جل کر راکھ ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ ایرانی رہنماؤں کے ماضی کے رویے کی وجہ سے دنیا انہیں ایک مخصوص نطریے سے دیکھتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ایران کو جوہری توانائی تک مکمل رسائی ہونی چاہئیے لیکن اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمارے رہنماء اس کا استعمال ہتھیار بنانے کے لیے نہیں کریں گے؟

علی، ایران:
ہمارے ملک میں اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک مسائل ہیں: غربت، بےروزگاری، منشیات وغیرہ۔ ہمیں چاہئیے کہ اپنے وسائل کا استعمال ان مسائل کو سلجھانے میں کریں تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہو سکے، ناکہ اس متنازعہ جوہری پروگرام پر۔

66آپ کی رائے
سرحد کے بغیر کشمیر ممکن: منموہن
66سنیل دت کا انتقال
آپ سنیل دت کو کیسے یاد رکھیں گے؟
66آپ کی رائے
شرح ترقی، مہنگائی اور آپ کی زندگی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد