 |  سنیل دت: ایک کامیاب شخصیت |
’مدر انڈیا‘، سجاتہ، پڑوسن، جانی دشمن، میرا سایہ اور ملن جیسی کامیاب فلموں کے ہیرو سنیل دت ممبئی میں انتقال کرگئےہیں۔ فلموں میں اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑنے کے بعد سنیل دت نے سیاست کا رخ کیا اور پانچ مرتبہ رکن اسمبلی منخب ہوئے۔ اپنے انتقال کے وقت وہ منموہن حکومت میں کھیل کے وزیر کی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ سیاسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نےفلم کی دنیا سے تعلق نہیں توڑا۔ سپرہٹ فلم منّا بھائی ایم بی بی ایس ان کی زندگی کی آخری فلم تھی۔ جہلم میں پیدا ہونے والے سنیل دت کی موت پر کئی شخصیات نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے مطابق سنیل دت اپنے کام میں بہت سنجیدہ تھے اور بڑے ہنر مند بھی۔ انکے انتقال سے کانگریس پارٹی ہی کو نہیں بلکہ انکے مداحوں کو بھی بہت افسوس ہے۔ فلم اسٹار راجیش کھنہ نے اس موقع پر کہا کہ اچھا انسان نہیں مرتا۔ سنیل دت نے جو فلمیں بھی بنائیں تو وہ سماج کے اندر پھیلی برائیوں کو اجاگر کرنے کے لیے بنائیں۔انہوں نے ذات پات اور مذہبی تفریق سے بلند ہو کر کام کیا۔ کیا آپ کی بھی سنیل دت کی فلموں یا ان کی شخصیت کے ساتھ کوئی یادیں وابستہ ہیں؟ آپ انہیں کیسے یاد کریں گے؟ وہ بڑے اداکار تھے یا بڑے سیاستدان؟ ان کی موت پر اپنے احساسات ہمیں لکھ بھیجیے۔ اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
شیرین عثمانی، ممبئی: سنیل دت ایک مہان فلم اسٹار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان تھے، ان کا برتاؤ سیاسی نہیں تھا۔ اپنے سیکولر اور اچھے کام کے لئے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ تاثیر پپو، جنوبی کوریا: اچھے انسان تھے۔ ان کی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔ مطمئن خان، جرمنی: سنیل صاحب نے ثابت کردیا تھا کہ سیاست میں صرف بدماش لوگ ہی نہیں وارد ہوتے، بلکہ یہ بےداغ لوگوں کا بھی ٹھکانہ بن سکتا ہے۔ کاش کے ہند و پاک کے سارے سیاست دان ایسے ہوجائیں۔ سارے مسائل ختم ہوجائیں گے! آصفہ رانا، پاکستان: سنیل دت ایک اچھے اداکار اور سیاست دان ہونے کے علاوہ ایک اچھے انسان تھے۔ فواد فراز، نیوجرسی: یہ دنیا تو ایک سرائے ہے۔ انسان آتا ہے اور چلاجاتا ہے۔ رہ جاتا ہے تو صرف اس کا کام۔ وہ ایک اچھے اداکار تھے یہ تو میں جانتا ہوں، انسان کیسے تھے، اس کا کچھ علم نہیں لیکن ان کے بارے میں آج تک کچھ برا نہیں پڑھا۔ اے رحمان، یو کے: یہ انڈین فلم انڈسٹری اور سیاست کے لئے بلیک ڈے ہے۔ انہوں نے دونوں شعبوں میں اعلیٰ معیار قائم رکھا۔ ام چگلانی، ڈِپلو تھرپارکر: مدر انڈیا میں اپنی اداکاری کی وجہ سے وہ میرے محبوب اداکار تھے، اور صرف فلم کی ہی وجہ سے نہیں بلکہ سیاست میں اپنے کردار کی وجہ سے بھی۔ محمد اسماعیل، کراچی: سنیل دت ایک بڑے اداکار ہی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان بھی تھے۔ انہوں نے ذات اور مذہب سے بھی بلند ہوکر کام کیا۔ شاہد محمود، سیالکوٹ: ہم ایک ایسے نیک اور اچھے انسان سے محروم ہوگئے ہیں جس نے فلم انڈسٹری اور سیاست میں سب لوگوں کے لئے مثال بنائی۔ سارا پاکستان دکھ کے ان لمحات میں سنجے دت کے غم میں شریک ہے۔ کامران خان، ایران: سنجے دت کو دیکھ کر سنیل دت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ سعدیہ مسعود، پاکستان: سنیل دت میرے بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد ہیں۔ بہت چھوٹی تھی جب میں نے مدر انڈیا اور خاندان جیسی فلمیں دیکھی تھی اور ان کی فلموں کو میں نے کئی کئی بار دیکھا ہے۔ ان کی شخصیت کے حوالے سے ایک بات مجھے ہمیشہ یاد رہے گی: چند سال پہلے سینل دت اور دلیپ کمار کا ایک انٹرویو پی ٹی وی پر نشر ہوا تھا اور اس میں ہی میں نے پہلی بار دیکھا کہ ان کی فلموں کے علاوہ، کیسی شخصیت ہے، کیسے بولتے ہیں، کیسے بات کرتے ہیں،۔۔۔۔ دلیپ کمار کے ساتھ بھی میری ویسی ہی اٹیچمنٹ ہے جیسے وہ میرے ہی گھر کے فرد ہیں اور دت صاحب نے ان کے بارے میں یہ کہا کہ ہمارے گھر کے بیچ جو دیوار ہے وہ اصلی نہیں۔ دلیپ صاحب اور وہ پڑوسی تھے اور ان کی موت اس ایک فقرے میں نظر آئے گی اور میں نے ہمیشہ یہ خوبصورت بات یاد رکھی ہے ان کی آخری فلم منا بھائی میں ان کی شاندار پرسنالیٹی نے ایک بار پھر مجھ جیسے ان کے فین کو ایک بار پھر خوش کردیا تھا۔۔۔۔ عثمان نعیم، پاکستان: وہ ایک عظیم ایکٹر تھے۔ میں نے صرف ان کی ایک فلم منا بھائی دیکھی ہے۔ ذوالفقار علی، راولپنڈی: ہم ایک عظیم ہیرو، سیاست دان، سے محروم ہوگئے ہیں۔ وہ ایک اچھے والداور نرگس کے اچھے شوہر تھے جو انہوں نے اپنی زندگی میں ثابت کر دکھایا۔ مسعود رحمان، امریکہ: سنیل دت کی موت کا سن کر بہت دکھ ہوا، واقعی وہ بہت اچھے انسان تھے، انیس سو چھیانوے میں جب امریکہ کے کیلیفورنیا میں اسٹوڈنٹ تھا اور ایک ریستوراں میں ویٹر کی نوکری کرتا تھا تو مجھے ان کو سرو کرنے کا اعزاز ہوا۔ وہ بہت مخلص، ملنسار اور بہت ذہین انسان تھے، انہوں نے مجھے پوچھا کہ میں کہاں سے ہوں، میں نے بتایا کہ میں جھنگ سے ہوں تو وہ مجھے بولے ’اچھا تے توسی جھنگ منگیانے چوں ہوئی؟‘ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ انہیں پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر کا بھی پتہ تھا، ان کے ساتھ میری تصویر ایک بہت قیمتی سرمایہ ہے۔ عمر ملک، لاہور: سنیل صاحب ایک عظیم اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت سڑے سیاست دان بھی تھے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔۔۔ صفدر تقوی سید، امریکہ: شمع انسانیت خاموش ہے آج یار بہادر گوشہ نشیں، ویسٹرن صحارا: میں نے پہلی دفعہ سنیل دت کو فلم پڑوسن میں دیکھا تھا جو کہ میری زندگی کی پہلی فلم تھی۔ وہ بلاشبہ ایک عظیم اداکار تھے اور اس سے کہیں زیادہ وہ ایک عظیم انسان تھے۔ چاہے پنجاب میں امن کی خاطر بمبے سے امرتسر کا مارچ ہو یا برمنگھم میں عمران خان کے ہسپتال کے لئے فنڈز اکٹھا کرنا ہو، وہ ہر کارخیر کو ایک مِشن سمجھ کر اسے پورا کرتے تھے۔ میں ان کی سیاسی زندگی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا مگر مجھے یاد ہے کہ وہ واحد رکن پارلیمنٹ تھے جنہوں نے بمبئی کے فسادات کے احتجاج میں پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔۔۔۔ شہزاد خان، یو کے: ایک بےحد شریف سیاست دان اور اس سے بھی اچھا انسان اور انتہائی کامیاب انسان۔ پاکستان کے بدماش سیاست دانوں کو سنیل دت سے سبق حاصل کرنی چاہئے۔ محمد خالد، امریکہ: وہ ایک عظیم ایکٹر اور سیاست دان تھے۔ لیکن سب سے پہلے وہ ایک نیک انسان تھے۔۔۔۔ کاشف، لاہور: دت صاحب کو تب سے جانتا ہوں جب یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ ایکٹنگ کیا ہوتی ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے، فلم مدر انڈیا میں نرگس کے چھوٹے بیٹے کے کردار میں ایک انمٹ کردار نگاری کا مظاہرہ کیا۔ گو کہ فلم درحقیقت نرگس کی فلم تھی، مگر راجندر کمار، مدھوبالا اور راج کمار جیسے مانے ہوئے فنکاروں کے درمیان اپنی اہمیت کا احساس دلانا ہی دت صاحب کی کامیابی تھی۔ پھر پڑوسن میں ایک رومانوی کردار میں شاندار کردار نگاری بھی دت صاحب کا کمال تھا۔ سجاتہ میں نوتن اور ریشماں اور شیرا میں ہیما مالینی کے ساتھ، واقعی ایک ہمہ جہت اداکار ہونے کا ثبوت ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ فلم مدر انڈیا میں گو ساری فلم میں نرگس ہی حاوی ہیں، کہ فلم انہی کے گرد گھومتی تھی، مگر جہاں تک دت صاحب کی رونمائی ہوتی ہے، دو بڑے اداکاروں کی ٹکر کا احساس ہوتا ہے۔ دت صاحب کو زمانہ مدتوں یاد رکھے گا۔۔۔۔ سہیل وِکٹر، جہلم: جہلم کے لئے آج ایک اداسی کا دن ہے۔۔۔۔ توفیق بٹ، امریکہ: وہ ایک اچھے اداکار تھے لیکن ایک ہمدرد دل رکھنے والے اچھے انسان تھے۔ انہوں نے کامیڈین کی حیثیت سے پڑوسن میں ایکٹنگ کی، خاندان اور ملن میں سیریئس اداکاری کی۔۔۔۔ آمیشا رانا، گجرات، انڈیا: وہ ایک بہت ہی مخلص انسان تھا۔ بلال محسن، کینیڈا: سنیل دت میرے فیورٹ شخصیت تھے اور میں انہیں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ ’کچھ لوگ ایک روز جو بچھڑ جاتے ہیں وہ ہزاروں کے آنے سے ملتے نہیں۔۔۔‘ منظر، سعودی عرب: وزیرِ کھیل، بھولا بھالا۔۔۔۔ اظہر علی، سندھ: میں سنیل دت صاحب کی سیاسی زندگی کے بارے میں تو کم ہی جانتا ہوں لیکن ان کا فلمی کریئر جو ہے وہ ان لیجنڈ میں شمار ہوتا ہے جو انڈیا کے نامور کلاکاروں میں سے ہیں۔ وہ ایک بڑی شخصیت کہ مالک انسان تھے میں تو یہی کہوں گا کہ امریش پوری کے بعد سنیل دت کا اس دنیا سے الوداع کہنا بڑے افسوس کی بات ہے۔۔۔۔ احمد، یو اے ای: آج مجھے یہ بہت یاد آرہا ہے: ر’نگ اور نور کی بارات کسے پیش کروں۔۔۔۔‘ کاشف شیروانی، لاہور: وہ بڑے سیاست دان ہی تھے۔ فلموں میں وہ کوئی بڑے اداکار نہیں تھے۔کمرشیل ایکٹِنگ میں بھی انہوں نے وہ نام نہیں کمایا جو راجیش کھنہ اور امیتابھ وغیرہ کے حصے میں آیا اور اگر انہیں انڈیا کے بڑے اداکاروں مثلا نصیرالدین شاہ، سنجیو کمار اور شبانہ اعظمی وغیرہ کے مقابلے میں دیکھا جائے تو ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ وہ ایک اچھے انسان اور اچھے سیاست دان کے طور پر رکھے جائیں گے۔۔۔۔ اسماعیل بلوچ، ڈنمارک: وہ ایک اچھے انسان تھے اور تاریخ انہیں مِس کرے گی۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: وہ بڑے اداکار تھے۔ سیاست میں بھی عزت کمائی تبھی تو پانچ بار الیکٹ ہوئے۔ لیکن وہ سیاست دان اور اداکار سے بڑھ کر بڑے انسان تھے۔ انسانیت جو ناپید ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: آج صبح جو خبر سنی وہ ایک دھچکے سے بڑھ کر کچھ حیثیت رکھتی تھی۔ ان کے جانے کا یقین نہیں آرہا۔ ابھی صرف چار روز ہوئے سونی چینل میں ویو ایشیا پروگرام میں ان کا انٹرویو دیکھا جو پہلے بھی کتنی مرتبہ دیکھ چکی ہوں۔ لیکن ہاتھ پھر بھی ریموٹ کنٹرول کی طرف نہیں گیا، چینل تبدیل کرنے کو دل نہیں کیا اور آج صبح ان کی آخری رسومات کو دیکھتے ہوئے بھی ہاتھ ریموٹ کی طرف نہیں گیا۔ نرگس گو ہمارے امی ابو اور بڑوں کے وقتوں کی اداکارہ تھیں، سو بچپن میں ان کے حوالے سے کہ یہ نرگس کے شوہر ہیں، یہ نرگس کے بیٹے سنجے دت ہیں، لیکن جب کچھ شعور کے ساتھ ان کی فلمیں دیکھیں تو اداکاری اور اداکار کی سمجھ آئی۔ ملن، پڑوسن، میرا سایہ، سے لیکر آخری فلم منا بھائی ایم بی بی ایس تک میں ان کی اداکاری دیکھ کر ان کی زندگی کے دکھ ساتھ ساتھ یاد آتے رہے۔۔۔۔ شاجوب شفاقت، امریکہ: چٹھی نہ کوئی سندیش، جانے وہ کنو سا دیس جہاں تم چلے گئے۔ عدنان عباسی، کینیڈا: سنیل دت صاحب زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب انسان رہے، ایک والد کی حیثیت سے، ایک ایکٹر کی حیثیت سے، ایک سیاست دان کی حیثیت سے۔۔۔۔ عارف جبار قریشی، سندھ: سنیل دت ایک بہترین اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اور ہمدرد انسان تھے۔ بمبئی میں جب ہندو مسلم فساد ہوئے تو انہوں نے انسان دوستی کا ثبوت دیکر بلاتفریق خدمت کی تھی۔ بھارت ایک اچھے اداکار، پارلیمنٹرین، اور بہترین انسان سے محروم ہوگیا۔ ان کی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ عامرخان، ایسٹرڈیم، ہالینڈ: وہ ایک اچھے انسان تھے اور انہوں نے فلم انڈسٹری کے لیے بہت کچھ کیا۔ وہ ایک اچھے سیاستدان بھی تھے۔ خالد عباسی، کراچی: ان کی اچھائی کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کتنے مخلص تھے۔سنیل دت صاحب نے اس سلسلہ میں ایک اعلٰی مثال قائم کی ہے۔ وہ اپنی شخصیت میں ایک مکمل انسان تھے۔ اعظم شہاب، ممبئی، انڈیا: ہم آنجہانی سنیل دت کو ایک ہمدرد اور مخلص سیاستدان کے طور پر یاد رکھیں گے۔ کامران شیخ، ممبئی، انڈیا: سنیل دت جی ایک اچھے کلاکار اور ایک بہت اچھے نیتا تھے اور سب سے سچی بات یہ کہ وہ ایک اچھے انسان تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے کرموں سے یاد کیے جائیں گے۔انہوں نے اپنی زندگی غریبوں کے لیے صرف کر دی۔ راحیل جعفری، کراچی: ایک اچھے اداکار اور اچھے سیاستدان کے طور پر۔ ایم قاسم بھٹہ، گوجرانوالہ: ہمیں بہت افسوس ہوا ہے کہ ایک اچھا شخص مرگیا۔ اللہ سنجے دت کو حوصلہ دے۔ اقبال پتنی، جامعہ آنند،انڈیا: سن دو ہزار کے گجرات فسادات کے وقت وہ آنند آئے تھے، تب انہوں نے لوگوں کی فریادیں سنی تھیں۔ سب لوگوں کی تحریریں گجراتی میں تھیں اور ہماری تحریر اردو میں تھی۔وہ تحریر پڑھ کر دت صاحب نے ہمیں دل سے دلاسا دیا۔ وہ اردو زبان کے مشتاق تھے۔ ایس ایم، نامعلوم: ایک آل راؤڈر اداکار کھونے کے علاوہ ہم نےآج برصغیر کی سیاست کے حوالے سے ایک مختلف شخص کو کھو دیا ہے۔ایک ایسا سیاستدان جو جھوٹ نہیں بولتا تھا، دھوکہ نہیں دیتا تھا، جھوٹے وعدے نہیں کرتا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام لوگوں کی خواہشات اور امیدوں کے قریب تھا۔سیاستدانوں میں یہ خوبیاں تو سن سینتالیس کے بعد صرف شروع شروع میں دیکھنے میں آتی تھیں۔ فرمان ارشد، جرمنی: انسان مرجاتا ہے لیکن اس کا کیا ہوا اچھا کام کبھی نہیں مرتا۔ میں سنیل دت کا چاہنے والا ہوں۔ ان کا فن کبھی نہیں مرے گا۔ سعدیہ سلمٰی، لندن: سنیل دت کو یاد رکھنے کے لیے کسی کا ہندو یا مسلمان ہونا ضروری نہیں۔ انسانیت کی خدمت کے حوالے سے آپ کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ خرم احمد، امریکہ: میں سنیل دت کے بارے میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ سنجے دت کےوالد تھے اورایک سیاستدان تھے۔انڈیا کی سیاست میں ہونا کوئی زیادہ قابل فخر بات نہیں۔ فاروق، پاکستان: میں سنیل صاحب کا اس وقت سے فین ہوں جب ان کی فلم منا بھائی ایم بی بی ایس دیکھی۔کیا انداز تھا ان کا اس فلم میں۔ |