BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 January, 2006, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپ نے منٰی میں کیا دیکھا؟
حج بھگدڑ
حج کے دوران بھگدڑ
منٰی کے قریب حج کے دوران بھگدڑ میں کم از کم تین سو پینتالیس افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ بھگدڑ کا یہ واقعہ شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران پیش آیا۔

سن دوہزار چار میں ایک بھگدڑ کے دوران دو سو حجاج کی ہلاکت کے بعد سعودی حکام نے وہاں رکاوٹیں کھڑی کر کے ہجوم کو منظم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ رمی کے ستونوں کو بھی بڑا کیا گیا تاکہ ہجوم کے بہاؤ میں آسانی ہو۔

کیا آپ یا آپ کا کوئی رشتہ دار اس حادثے سے متاثر ہوئے ہیں؟ اگر آپ حادثے کے وقت وہاں موجود تھے تو آپ نے کیا دیکھا؟ آپ کے خیال میں کیا کوئی ایسی تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے کہ حج کے دوران اس قسم کی حادثات کو روکاجا سکے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

عذرا یاسمین بخاری، لاہور:
جب عیاشیاں حد سے بڑھ جاتی ہیں تو عقل گنگ ہوجاتی ہے۔ سعودی شہزادے عیاشیوں سے فارغ ہوں گے تو عوام یا حجاج کا سوچیں گے؟ اس حقیقت کو نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ جہاں بھی کوئی ملک جمہوریت سے عاری ہوگا تو وہیں ڈسپلن کا فقدان ہوگا۔ یہ واقعات تب تک معمول بنے رہیں گے جب تک عرب ممالک میں حقیقی جمہوریت نہ آجائے۔

ایم ندیم شریف، ریاض:
میں بھی وہاں موجود تھا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب ایک دو ممالک کے حاجیوں کے غیر مہذبانہ رویئے کی وجہ سے ہوا خاص کر مصری حاجیوں کی وجہ سے جو شیطان کے قریب گروہ اکٹھا کرتے اور سب ایک دم بلند آواز میں شور مچاتے اور دوسرے حاجیوں کو روندتے ہوئے گزرتے جاتے تھے۔ سعودی پولیس جو ویسے بڑی سخت ہے، حج کے دوران انتہائی نرم رویہ اختیار کرتی ہے اور ایسا کرنے والوں کو کچھ نہیں کہتی۔

ابراہیم ملک، لاہور:
میرا ارشد کاظمی سے، جنہیں آپ نے شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے، سوال ہے کہ حج کے دوران حاجیوں کے ڈسپلن کو ٹھیک کرنے کے لئے کیا فرشتے آسمان سے اتریں گے؟ یہ کام سعودی حکومت کو ہی کرنا ہے کیونکہ وہ منہ مانگے پیسے وصول کرتے ہیں۔ اسےکہتے ہیں کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔

محمد مغل، ریاض:
میں وہاں موجود تھا اور یہ واقعہ میرے سامنے پیش آیا۔ میں سمجھتا ہوں اس کی ذمہ دار سعودی حکومت ہے۔ ایک شہزدہ وہاں آیا اور سیکیورٹی فورسز اس کے پروٹوکول میں لگ گئیں۔ کچھ اس کے آگے تھے اور کچھ پیچھے۔ پیچھے کی طرف سے لوگوں کو دباؤ بڑھ گیا اور افراتفری مچی۔

شمس الرحمان خواجہ، سرگودھا:
تمام حجاج کو علاقے کے مطابق کلر کارڈز الاٹ کرنے چاہئیں اور سعودی حکومت کے طے شدہ ٹائم ٹیبل کےمطابق مختلف رنگوں کے لئے مختلف کلر سگنل ہونے چاہئیں۔

محمد وقار، پنجاب:
یہ سب مس مینجمنٹ کی وجہ سے ہوا ہے نہ کہ غیرقانونی حجاج کو کنٹرول کرنے کی وجہ سے۔ اگر وہ راستوں کو بلاک کئے ہوئے تھے تو سیکیورٹی والوں نے انہیں روکا کیوں نہیں۔

سوباس تھہیم، سعودی عرب:
مجھے تو ان لوگوں پر افسوس ہورہا ہے جو سعودی حکومت کو الزام دے رہے ہیں۔ آخر ہمارا اور ہماری حکومت کا بھی کوئی فرض ہے۔ ہم اپنے حاجیوں کو کیوں نہیں تربیت دیتے۔ مجھ تو اس سب سے سازش کی بو آتی ہے۔ یہ سب اسلام یا شاہی خاندان کے دشمنوں نے کیا ہے۔

شہزاد قریشی، ابوظہبی:
ساری ذمہ داری سعودی حکومت پر مت ڈالیں، زیادہ ہاتھ ہمارے حاجی صاحبین کا ہوتا ہے۔ اب شیطان والی جگہ پر جا رہے ہیں تو بسترا بوری ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے۔ میرے بھائی یہ تو سعودی حکومت ہے جو اتنا بھی انتظام کرلیتی ہے، کوئی اور ہوتا تو اب تک رسول کا روضہِ مبارک بھی چرا کر لے جا چکا ہوتا۔ دوسرا ہمارے مولوی حضرات ثواب کا تو بتاتے ہیں لیکن کیا رویہ اختیار کرنا ہے، کبھی نہیں بتاتے۔ ہم میں کوئی ڈسپلن ہی نہیں ہے جب کہ ہمیں رسول کی امت ہونے کا دعویٰ ہے۔

نیاز علی، سوات:
تمام مسلمان ممالک اور خصوصاً سعودی عرب کو اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہئے کیونکہ ہر سال کئی حجاج منیٰ میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔

بوریا بسترا تو چھوڑ دیں
 بدقسمتی سے نوے فیصد لوگ وہاں غلط راستے سے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور باہر نہیں نکل پاتے۔ پھر بہت سے لوگ اپنا ساز وسامان بھی ساتھ لے جاتے ہیں اور نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
ارشد کاظمی، فیصل آباد

ارشد کاظمی، فیصل آباد:
میں پچھلے برس حج پر گیا تھا تو ہمارے گائیڈ نے ہمیں شیطان کو کنکریاں مارنے کا تمام شیڈول اور تفصیلی نقشہ فراہم کیا تھا جو ٹیکنیکل اور پریکٹیکل تھا۔ کہا گیا تھا کہ حجاج کو اس کے سامنے سے جاکر اور تھوڑا سا آگے سے گزر کر اسے کنکریاں مارنی چاہئیں۔ جب آپ یہ کرچکے ہوتے ہیں تو وہ آپ کو ایک کھلا اور بغیر کسی رکاوٹ کے باہر کا راستہ مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے نوے فیصد لوگ وہاں غلط راستے سے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور باہر نہیں نکل پاتے۔ پھر بہت سے لوگ اپنا ساز وسامان بھی ساتھ لے جاتے ہیں اور نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مسائل پیدا کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس کا الزام نہ تو سعودی حکومت اور نہ ہی پولیس کو دیا جا سکتا ہے۔

وسیع اللہ بھمبھرو، سندھ، پاکستان:
اللہ سب شہید حجاج کو جنت نصیب کرے۔

قمر عباس، پاکستان:
مجھے تو یہ سب ڈرامہ لگتا ہے جو سعودی حکومت چھٹی دفعہ حجاج کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ غلطی ایک مرتبہ ہو سکتی ہے، لیکن چھ دفعہ اگر کوئی واقعہ دوہرایا جا رہا ہو تو سمجھیں کہ یہ کچھ صحیح نہیں ہے۔ حکومت سعودی عرب پر اس کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ اگر دنیا کے مسلمان اس دفعہ بھی چپ رہے تو مستقبل میں پھر یہ واقعات معمول بنے رہیں گے اور سعودی حکومت یوں ہی ہر بار مسلمانوں کی بےبسی سے یہ مذاق کھیلتی رہے گی۔

شریف خان، جرمنی:
یہ تو ہر سال اسی طرح ہوتا ہے۔ ساری غلطی سعودی عرب کی حکومت کی ہے اور کچھ غلطیاں حاجی صاحبان کی بھی ہیں، کیونکہ اکثر لوگ دوسرے اسلامی ممالک سے آتے ہیں جیسے افغنستان، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا وغیرہ۔ اس طرح کے ممالک سے آنے والے لوگ عربی زبان نہیں سمجھتے۔ انہیں کہا تو جاتا ہے کہ کنکریاں مارنے کے بعد آگے کی طرف جائیں پیچھے نہیں، مگر کیونکہ وہ عربی زبان نہیں سمجھتے اس لیے مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر زبان میں یہ اعلان کرے۔ حج کی تیاریوں کے دوران حجاج کو صحیح تربیت بھی دی جانی چاہیے۔

شکیل ملک، لاہور، پاکستان:
انتہائی افسوس ناک، درد ناک اور غم دینے والا واقعہ ہے۔ خدا شہید ہونے والوں کی مغفرت فرمائے۔

اسحاق ملک، ملتان، پاکستان:
میرے خیال میں ایک سال کے لیے سعودی حکومت کو چاہیے کہ وہ حج کے انتظام کی ذمہ داری کسی دوسرے ملک کے حوالے کر دے۔ تبھی شاید ایسے حادثے روکے جا سکیں گے۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات:
کل جو حادثہ پیش آیا اس نے پچھلے حادثوں کی تکلیف دہ یاد کو پھر زندہ کر دیا ہے۔ میں یا میرے کوئی رشتہ دار وہاں موجود نہیں تھے اور نہ ہی اس حادثے سے کسی بھی طرح متاثر ہوئے ہیں، لیکن اس سے انیس سو نوے میں ہونے والے حادثے کی یاد تازہ ہو گئی۔ اس وقت ہم وہاں موجود تھے۔ وہی منظر پھر سے ٹی وی پر دیکھ کر خوف اور دکھ سے ٹانگوں میں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ سعودی حکومت نے کافی انتظامات کیے ہیں لیکن اور بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ شیطان کو کنکریاں مارنے والی جگہ کو کچھ منزلوں تک بلند کیا جا سکتا ہے جس سے صورت حال کچھ بہتر ہوگی۔ دوسری تدبیر میری نظر میں یہ ہے کہ ححاج کی تعداد میں کمی کی جائے۔۔۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان:
افسوس ہے ان سرکاروں پر جنوں نے سینکڑوں معصوم حجاج کو شہید کر دیا اور اب انہوں نے الزام مرنے والے پر ہی لگا دیا ہے۔ کیا اسلام یہی سکھاتا ہے؟

امین اللہ شاہ، پاکستان:
جب دنیا اسلام اور خاص طور پر سعودی حکومت اسلام کے ایک بنیادی فرض کو پیشہ بنا لیں تو ایسے سانحات مقدر بن جاتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سعودی حکومت اور دوسری حکومتیں حج کے نام پر لوگوں سے لاکھوں روپے بٹورتی ہیں تو ان کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری کیوں نہیں پوری کرتیں؟ سعودی حکومت کو اس سانحہ پر پورے عالم اسلام سے خاص طور پر حجاج کے وارثوں معافی مانگنی چاہیے۔ میں اس سانحہ کو سعودی حکومت کی بے ہسی سمجھتا ہوں۔

امین شاہ سید، پاکستان:
میں اس قسم کے سانحہ روکنے کے لیے سعودی حکومت کو کچھ تجاویز دینا چاہتا ہوں۔ شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے ایک چین لفٹ ہونی چاہیے جو اس مقام پر کچھ دیر کے لیے رکے اور حجاج کنکریاں مار سکیں۔ اس کے بعد لفٹ وہاں سے آگے نکل جانی چاہیے تاکہ مزید کنکریاں نہ ماری جا سکیں۔ اس سے رش کم ہو جائے گا اور حجاج کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی۔

شیر یار خان، سنگاپور:
حج کے موقع پر ایسا ہونا دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے باعث شرمندگی ہے اور وہ بھی حج کی مقدس عبادت کے خاتمے پر۔ حج مکمل کرنے کے بعد حاجیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھیں اور کنکریاں مارتے وقت خود پر قابو رکھیں۔ سعودی حکام کو بھی چاہیے کہ وہ دنیا بھر سے آنے والے افراد کو صحیح طرح سے پرکھیں۔۔۔

ارشد کاظمی، فیصل آباد، پاکستان:
حج کے دوران انتظامات تو بہت اچھے ہوتے ہیں، مگر زیادہ بوڑھے اور ان پڑھ لوگ مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حج پر جانے سے پہلے لازمی تربیت اور میڈکل فٹنیس ٹیسٹ درست طریقے سے ہونا چاہیے۔

محمد خان، کوئٹہ، پاکستان:
تدبیر یہ ہے: ححاج کی تعداد میں کمی کی جائے۔ دو اعشاریہ چھ ملین سے اسے ایک اعشاریہ چھ ملین تک پہنچایا جائے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

عاشق اورکزئی، پاکستان:
لوگوں کو ایک قطار میں پل پار کرنا چاہیے اور اسی قطار میں پل کے نیچے سے واپس کنگ عبدل عزیز روڑ پر پہنچنا چاہیے۔ حفاظتی اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہونے چاہیے اور انہیں چاہیے کہ وہ حجاج سے تمام بیگ لے لیں۔

محمد خان، دبئی:
سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حجاج کی سلامتی کے لیے صرف اپنا دماغ لگانے کے علاوہ اور بھی لوگوں کے مشورے سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ حاجی صاحبان کی ذمہ داری ہے کہ جو مشورے دیے جائیں ان پر عمل کریں۔ عورتوں اور بوڑھوں کو چاہیے کہ کنکریاں مارنے کی ضد ترک کریں اور صحت مند نوجوانوں سے کہیں کہ وہ ان کی طرف سے کنکریاں ماریں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ عورتیں اور بوڑھے پھنس جاتے ہیں اور پھر ان کی وجہ سے اور لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ کنکریاں مارنے جاتے وقت دیکھا گیا ہے کہ حاجی صاحبان سامان ساتھ لے کر جاتے ہیں اور دھکوں کی وجہ سے اسے گرا دیتے ہیں جیسے چھتری جو لوگوں کی ٹانگوں میں پھنس جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو دور سے ہی روک دینا چاہیے۔

رانا حمد، لاہور، پاکستان:
یہ بہت افسوس ناک حادثہ ہے۔ میرے خیال میں یہ انتظامیہ کا مسئلہ ہے۔ سعودی حکومت کو بہتر انتظام کرنے چاہیے۔ حجاج کو صحیح تربیت دی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر محمد عباسی، امریکہ:
ایک لاکھ حجاج کو تیس منٹ دیے جانے چاہیے کنکریاں مارنے کے لیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔

صداقت خان، برطانیہ:
ان ممالک کے حجاج پر پابندی لگانی چاہیے جو اس قسم کے واقعات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سعودی حکام کو حاجیوں کی تعداد کو بھی کنٹرول کرنا چاہیے۔

مستقم خان، پاکستان:
یہ جو کچھ ہوا بہت برا ہوا۔ یہ سعودی کی ناکام انتظامیہ کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہر سال حج کے دوران ایسا کچھ نہ کچھ ہوتا ہے اور معصوم لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سعودی حکومت کو چاہیے کہ دوسرے ممالک سے مدد لے کیونکہ وہ خود اس مسئلہ کا حل نکالنے میں ناکام رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد