آپ کس شہر میں رہتے ہیں اور گھر سے دفتر تک اور دفتر سے واپس گھر تک کیسے سفر کرتے ہیں؟ بس، کار، موٹر سائیکل، سائیکل، ٹیوب یا ٹرین سے؟ ٹریفک کا کیا عالم ہوتا ہے؟ کیا کبھی آپ کے ساتھ کوئی غیر معمولی یا دلچسپ واقعہ پیش آیا؟ بچپن سے اب تک آپ نے اپنے شہر میں ٹریفک کی سہولیات بہتر ہوتے دیکھی ہیں یا بدتر؟ کیا یہ سفر آپ کے موڈ پر اثر انداز ہوتا ہے؟ ہفتے کے کن دنوں میں آپ کو یہ سفر زیادہ خوشگوار لگتا ہے اور کب کم خوشگوار؟ کیا آپ سفری سہولیات سے مطمئن ہیں؟ یا آپ ان میں کوئی تبدیلی چاہتے ہیں؟ وہ تبدیلی کیسی ہو؟ اپنے تجربات ہمیں لکھ بھیجئے یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
امین اللہ شاہ، پاکستان: جس ملک میں ٹریفک پولیس والے ریگیولر سرِعام بس، ویگن، رکشہ والوں سے مہینہ لیتے ہوں تو آپ ان سے شائستہ سلوک کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے مسافروں کو دھکے بھی دینے ہیں اور چوں چراں کرنے پر نیچے بھی اتار دینا ہے۔ علی، امریکہ: ہمارے ملک تو ایک پڑھے لکھے نظام اور قوانین کی ضرورت ہے۔ سارہ نظام ٹھیک ہو جائے گا۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: ہمارے ہاں روڈ اور ٹریفک سینس نہیں ہے۔ جو ٹریفک پولیس ہے وہ تو باکمال ہی۔ کار والا اپنی آکڑ میں ہے کہ کتنی مہنگی کار ہے۔ بس والا اپنی آکڑ میں ہے کہ وہ سب سے اچھا ڈرائیور ہے۔ حالانکہ سب ہی برے ڈرائیور ہیں۔ اس دوران آپ یہاں کی سڑکوں کو نہ بھولیں کے وہ کتنی خراب ہیں۔ اشوک کمار، کینیڈا: پاکستان خاص طور پر کراچی میں سفر کرنا موت کے قوانین میں سفر کرنے کے برابر ہے۔ نامعلوم: پاکستان میں تو بس یا ویگن میں سفر کرنے سے اچھا ہے کہ بندہ پیدل ہی چل لے ایک تو ویگن آتی ہی گھنٹے میں ایک دفعہ ہے اور اگر آ ئے تو اتنی بھری ہوتی ہے کہ آپ کو کھڑے ہونا پڑتا ہے۔ جاوید جاپان: میرا کراچی جانا ہوا۔ کافی عرصے سے دوستوں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ڈرائیوینگ تو ناممکن ہے کراچی میں کیونکہ عادت نہیں رہی۔ جاپان میں ڈرائیونگ کرنے والے بہت کم لوگ ہوں گے جو کراچی میں بے خوف ڈرائیونگ کرتے ہوں۔ خیر دوستوں سے ملنے کے لیے ٹیکسی لی اور سوار ہوا بندر روڈ پر سگنل لال ہوا تو ٹیکسی رکی نہیں۔ وجہ پوچھی نہ روکنے کی تو بتایا کہ اگر رکا تو پیچھے سے کوئی مار دے گا تو کون ذمہ دار ہو گا۔ ارسلان رشید، گوجرانوالہ: میں گوجرانوالہ میں رہتا ہوں۔ ہمارے شہر میں سب سے پہلے ٹانگہ چلتا تھا اس کے بعد رکشہ آیا اور اب حکومت نے آٹھ یا نو بسیں چلائی ہیں۔ ان بسوں کا کرایہ بھی بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ وقت گزرنے کہ ساتھ ساتھ میرے شہر میں ٹرانسپوٹ کا نظام اچھا ہوا ہے۔ ٹرانسپوٹ کےلیے روڈ ڈبل ہو رہے ہیں۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی: آج سے دو سال پہلے میں اپنے گھر سے دوکان کا راستہ 45 منٹ میں اور کبھی کسی وی آئی پی کی آمد کے موقعہ پر ایک گھنٹے میں تہ کرتا تھا۔ لیکن اب شاہراہِ فیصل پر دو پل بن جانے کی وجہ سے راستہ 20 منٹ کا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا میں شور مچنے کی وجہ سے اب شاہراہِ فیصل مکمل طور پر بند نہیں ہوتی۔ عبدالجبار منگی، لاڑکانہ: زندگی ہے یا طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے۔ جہاں روز بروز تیل کی قیمیتیں بڑھتی رہیں، کرایوں میں اضافہ ہوتا رہے وہاں انسان جانوروں کی طرح گزارہ کرتا ہیں۔ رشید احمد تیاب، ربوہ: غریب یا درمیانے طبقے کے لوگوس کےلیے تو ٹرین، یا بس، یا ویگن یا رکشہ ہر ذریعہ ہی ذبردست تکلیف دہ ذریعہ ہے۔ یاسمین ملک، کینیڈا: الحمداللہ مجھے پاکستان میں بس اور ویگن پر سفر کی ضرورت نہیں پڑی لیکن کینیڈا میں بہت کیا ہے اور ہر مرتبہ لطف آیا ہے۔ عمران خان، کراچی: میں کراچی میں رہتا ہوں۔ آپ یقین کریں گھر سے دفتر تک پہنچنے میں ہی ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ اتنی ٹریفک ہوتی ہے۔ یہ سب مہربانی ہماری سٹی حکومت کی ہے جس نے پورے کراچی کی سڑکوں کی کھدائی کی ہوئی ہے۔ اگر کسی کو مثال لینی ہو تو وہ آئی آئی چندریگر روڈ ہے۔ عدنان ملک، راولپنڈی: میں روزانہ دفتر 21 نمبر روٹ پر چلنے والی وین میں جاتا ہوں۔ یہ آسان نہیں ہوتا، پہلے تو وین ملنی مشکل ہے اوپر سے ڈرائیور اور کنڈکٹر بہت غلط زبان استعمال کرتے ہیں۔ کرایہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔
 | بڑے لوگ بھی مسئلے پیدا کرتے ہیں  گرمیوں میں صبح اگر جرنل صاحب یا وزیرِاعظم جا رہے ہوں تو گھنٹہ دھوپ میں موٹرسائیکل پر انتظار کرنا پڑتا ہے اور ان کے جانے کے بعد بھی ٹریفک پھسی رہتی ہے۔ وہ تو شاید وقت پر پہنچ جاتے ہیں لیکن ہزاروں لوگ دفتر سے لیٹ ہو جاتے ہیں۔  یاسر ملک، اسلام آباد |
چاند بٹ، جرمنی: میں جہلم کے بازار میں کسی دوست کے ساتھ کار پر گزرا تو ایک کلومیٹر کا راستہ 70 منٹ میں پار کیا۔ کیا اس ملک میں انجینئیر یا ٹریفک کے قوانین بنانے والوں نے پیدا ہونا چھوڑ دیا ہے؟ یاسر ملک، اسلام آباد: گرمیوں میں صبح اگر جرنل صاحب یا وزیرِاعظم جا رہے ہوں تو گھنٹہ دھوپ میں موٹرسائیکل پر انتظار کرنا پڑتا ہے اور ان کے جانے کے بعد بھی ٹریفک پھسی رہتی ہے۔ وہ تو شاید وقت پر پہنچ جاتے ہیں لیکن ہزاروں لوگ دفتر سے لیٹ ہو جاتے ہیں۔ محب علی شیخ، پاکستان: میں ایک سندھی ہوں میرا تعلق ایک گاؤ ں سے ہے۔ میں ابھی سعودی عرب میں ہوں۔ جب میں سکول جاتا تھا تو صبح کو جلدی سے بس پکڑنی ہوتی تھی۔ بس میں بہت رش ہوتا تھا بڑی مشکل سے سکول پہنچتے تھے۔ لیکن سکول جانا بہت ضروری تھا آج میں جو بھی ہوں پڑھائی کی وجہ سے ہوں۔ فرید اللہ، مردان: میں مردان سے 14 کلو میٹر دور بھائی تخت میں رہتا ہوں۔ میں نے اکنامکس میں ماسٹر کیا ہے۔ میں نہ نوکری اس لیے نہیں کی کیونکہ میں بس اور ویگن کا سفر نہیں کرسکتا۔ اب میں کاروبار کرتا ہوں اور تین کلو میٹر کا سفر پیدل کرتا ہوں بہت مزہ آتا ہے۔  | پیدل چلنے کا مزہ آتا ہے  میں مردان سے 14 کلو میٹر دور بھائی تخت میں رہتا ہوں۔ میں نے اکنامکس میں ماسٹر کیا ہے۔ میں نہ نوکری اس لیے نہیں کی کیونکہ میں بس اور ویگن کا سفر نہیں کرسکتا۔ اب میں کاروبار کرتا ہوں اور تین کلو میٹر کا سفر پیدل کرتا ہوں بہت مزہ آتا ہے۔  فرید اللہ، مردان |
ماجد ملک، پشاور: میں پشاور میں رہتا ہوں۔ فقیرآباد سے یونیورسٹی ٹاؤن آفس جاتا ہوں۔ چھے سال سے یہ میرا روٹ ہے۔ پیر کے روز بڑی مشکل ہوتی ہے۔ بسوں اور ویگنوں کے پیچھے یوں بھاگنا پڑتا ہے جیسے وہ ہم کو مفت میں لے جا رہے ہوں۔ میرے گھر سے آفس کا راستہ بارہ کلو میٹر ہے اور ایک گھنٹہ ٹائیم لگتا ہے۔ مجھے آفس سے گھر جاتے ہوئی تین گاڑیاں بدلنی پڑتی ہیں اور پھر اوپر سے ٹریفک پولیس والے صبح صبح بسوں اور ویگینوں والوں کو تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اقبال الدین، کراچی: میں کراچی میں رہتا ہوں یہاں ٹریفک کے بارے میں تو سب جانتے ہیں۔ گھر سے آفس کےلیے کوئی پچیس منٹ کا راستہ ہے اور گھنٹوں میں پہنچتے ہیں۔ بات رہی ٹریفک کو بہتر بنانے کی تو پاکستان میں غریبوں کی کوئی بات نہیں مانی جاتی۔ عدیل، جنوبی افریقہ: ڈرائیور کی کوشش ہوتی ہے کہ سواریوں کو ٹائیم سے پہلے ہی پہنچا دے اور ایک اور رائونڈ لگا کر کچھ اور پیسے بنا لے۔ پاکستان میں ٹریفک کا نظام بھی ٹھیک نہیں ہے۔ روڈ پر ٹریفک ہی اتنا ہوتا ہے کہ ڈرائیور کو کچھ نہ کچھ غلط کرنا پڑتا ہے ورنہ وہ ایک ہی چکر لگا سکے گا اور کمائے گا کیا۔ یہ سب مہنگائی کی وجہ سے ہے۔ عاشق محمود، ٹوکیو: میرا تعلق جموں و آزاد کشمیر سے ہے اور میں پچھلے چھے سالوں سے جاپان کے دارلحکومت میں رہتا ہوں۔ جاپان میں ٹرین وقت کی پابندی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں کی ٹرینیں منٹ کی پابندی کی بجائے سیکنڈ کی پابندی سے چلتی ہیں۔ محمود اختر آرائیں، اسلام آباد: میں راولپنڈی میں رہتا ہوں جو ہمارے عظیم وزیرِ اطلاعت کا شہر ہے۔ سڑکیں بہت خراب ہیں اور میں دفتر جھٹکے کھاتا ہوا پہنچتا ہوں۔ خدا کا شکر ہے میں لڑکی نہیں کیونکہ ان سڑکوں پر سفر کرنا بہت مشکل ہے۔ مبشر حسین، سعودی عرب: میں لاہور میں رہتا تھا اور وہاں سے تعلیم حاصل کی۔ پھر میں سعودی عرب آ گیا۔ یہاں تو مزہ ہی آ گیا ہے۔ پورے مہینے میں 929 مزدہ پر آفس جاتا ہوں اور پٹرول کا خرچ صرف ایک سو ریال ہے۔ وہاں تو اتنے میں موٹرسائیکل بھی نہیں چل سکتی۔ میں اکثر آفس سے چھٹی کر کے بیوی اور بچوں کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر چلا جاتا ہوں کیونکہ یہاں پر پٹرول بہت سستا ہے اورہمیں خوب مزہ آتا ہے۔ سجاد حسین، تھائی لینڈ: میں باغ آزاد کشمیر کا رہنے والا ہوں۔ منی ویگنوں میں سفر کرنا انتہائی مشکل ہے۔ قانونی طور پر ڈرائیور سمیت 14 بندے بیٹھنے کی اجازت ہے لیکن یہ 18 بندوں تک بیٹھاتے ہیں۔ وہ جب بھی چاہتے ہیں کرایہ بڑھا دیتے ہیں۔ لوگ سفر کے دوران سیگرٹ پیتے ہیں۔ پولیس کا تعلق صرف مہانہ آمدنی سے ہے۔ مستقبل قریب میں حالات بدلتے ہوئے نہیں دکھائی دیتے۔  | ویگنوں میں زیادہ سواریاں ہوتی ہیں  منی ویگنوں میں سفر کرنا انتہائی مشکل ہے۔ قانونی طور پر ڈرائیور سمیت 14 بندے بیٹھنے کی اجازت ہے لیکن یہ 18 بندوں تک بیٹھاتے ہیں۔ وہ جب بھی چاہتے ہیں کرایہ بڑھا دیتے ہیں۔ لوگ سفر کے دوران سیگرٹ پیتے ہیں۔ پولیس کا تعلق صرف مہانہ آمدنی سے ہے۔  سجاد حسین، تھائی لینڈ |
وسیع اللہ بھمبرو، میرپورخاص: جتنا بڑا شہر اتنے بڑے مسئلے، اللہ کا کرم ہے ہمارے شہر میں سب کچھ صحیح ہے۔ ریحان شیخ، لاہور: ویسے لگتا تو ہے یہ ناممکن لیکن ہمارے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کا جو حال ہے اس کو دیکھتے ہوئے دل کرتا ہے کہ تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز ہفتے میں دو مرتبہ پبلک ٹرانسپورٹ بغیر کسی پروٹوکول کے استعمال کریں تا کہ یہ لوگ بھی جان سکیس کہ جو لوگ ان کو ووٹ دیتے ہیں وہ الیکش والے دن کے علاوہ کیسے سفر کرتے ہیں۔ سمیع اللہ یوسف زعی، یو اے ای: میں چار سال سے یو اے ای میں رہتا ہوں یہاں میں ہر روز دس کلو میٹر ٹیکسی میں آتا جاتا ہوں۔ بڑی آسانی سے سفر تہ ہوتا ہے۔ جبکہ پشاور میں گھر سے یونیورسٹی تک وہ دھکے کھانے پڑتےہیں کہ توبہ، اللہ اس سے ہر طالبِ علم اور شہری کو بچائے۔ شاہدہ اکرام، یو اے ای: مدتوں سے ملک سے باہر ہیں۔ سکول اور کالج کے زمانے میں بسوں اور ویگنوں کا بہت سفر کیا ہے۔ یہاں صاف ستھری سڑکیں ہیں اور سفر میں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی۔ لیکن وہ دھول بھری سڑکیں بھی دل میں وطن کی یاد ضرور جگاتی ہیں۔ عامر شہزاد، شیخوپورہ: میرا تعلق شیخوپورہ سے ہے اور میں یہاں لاہور میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ ہر ہفتے گھر جاتا ہوں۔ بسوں اور ویگنوں کے معمالات بہت تکلیفدہ ہوتے ہیں۔ اتنا زیادہ رش ہوتا ہے اور کوئی نظام نہیں ہے۔ میں نے کافی دفعہ چاہا کہ میں کسی طرح اس بات کو اوپر تک پہنچاؤں تاکہ یہ سسٹم ٹھیک بدلہ جا سکے۔ قاسم بلوچ، ڈیرہ غازی خان: میں ڈیرہ غازی خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا ہوں۔ کام تو کوئی نہیں کرتا مگر پڑھتا ہوں۔ گاؤں سے سکول جانے کے لیے ابا نے سائیکل لے کر دی، صبح جو 30 منٹ سائیکل پر بیٹھ کر گزارتا ہوں وہ شاید میرے دن کا سب سے اچھا وقت ہوتا ہے۔  | سائیکل کا سفر بہت اچھا ہوتا ہے  میں ڈیرہ غازی خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا ہوں۔ کام تو کوئی نہیں کرتا مگر پڑھتا ہوں۔ گاؤں سے سکول جانے کے لیے ابا نے سائیکل لے کر دی، صبح جو 30 منٹ سائیکل پر بیٹھ کر گزارتا ہوں وہ شاید میرے دن کا سب سے اچھا وقت ہوتا ہے۔  قاسم بلوچ، ڈیرہ غازی خان |
جاوید اقبال ملک، چکوال: میرے پاس ایک 1992 ماڈل پرانی گاڑی ہے مگر میں ہر رات یہ دعا کر کے سوتا ہوں کہ صبح میری گاڑی سٹارٹ ہو گی یا نہیں ورنہ مجھے محلے کے بچوں کی خدمت حاصل کرنا ہو گی۔ اگر گاڑی صحیح سٹارٹ ہو جائے تو میرے دن کا آغاز صحیح ہو جاتا ہے، اگر نہ ہو تو سارا دن خراب گزرتا ہے۔ عمران سجاد، لاہور: میں 1997 سے 2002 تک لوکل بس میں سفر کرتا رہا ہوں پہلے کالج لائف میں اور پھر آفس یلیے۔ پاکساتن میں مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ ہر کوئی پیسے جچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر تو مسافروں کے ساتھ نامناسب سلوک کرتے ہی ہیں لیکن یہ بھی دیکھا ہے کہ لوگ بھی ایک ایک روپے کی خاطر لڑنے لگتے ہیں۔ الحمداللہ مجھے اس عذاب سے نجات مل چکی ہے میرے پاس اپنی ٹرانسپوٹ ہے۔ اسد ملک، فنلینڈ: میں موٹرسائیکل پر یونیورسٹی جاتا تھا۔ جب یونیورسٹی پہنچتا تھا تو آنکھوں کے ارد گرد کالا دھواں جما ہوتا تھا اور بالوں میں بھی مٹی اور دھواں جما ہوتا تھا۔ اب فنلینڈ میں رہتا ہوں چھے مہینے ہو گئے ہیں آج تک کسی گاڑی کا ہارن نہیں سنا۔ عاصم رانا، راولپنڈی: میں راولپنڈی میں رہتا ہوں روزانہ کام کے لیے اسلام آباد آنا ہوتا ہے۔ اب گاڑی لے لی ہے لیکن جب بائیک پر آنا ہوتا تھا تو آفس آتے آتے کپڑے بدلنے والے ہو جاتے تھے۔ اب ٹریفک کی وجہ سے حالت خراب ہو جاتی ہے لیکن پھر بھی اس کا اپنا ہی مزہ ہے۔ علی عمران شاہین، لاہور: میں لاہور میں رہتا ہوں اور روز اعوان ٹاؤن سے چوبرجی کام پر آتا ہوں۔ سب سے زیادہ دو پریشانیاں ہوتی ہیں۔ ویگو والے کئی دفعہ روٹ ہی پورا نہیں کرتے اور زیادہ کمائی کے چکر میں چھوٹے چھوٹے روٹ بنا کر تنگ کرتے ہیں۔ ملتان روڈ شہر کی مشہور ترین سڑکوں میں سے ایک ہے اس لیے آتے ہوئے آٹھ کلومیٹر کا سفر تو ایک گھنٹے میں تہ ہوتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں قانوں پر عمل کو اپنی توہین سمجھا جاتا ہے۔ عطیہ عارف، کینیڈا: اللہ کا شکر ہے کہ مجھے پاکستان کی خطرناک بسیں اور ویگنیں کم ہی نصیب ہوئی ہیں۔ لیکن جب بھی ان خطرناک سواریوں پر سفر کیا تو یوں معلوم ہوا کہ اللہ کے بعد ہماری زندگی اور موت کا فیصلہ ان ڈرائیوروں کے ہاتھ میں ہے۔ جبکہ یہاں کینیڈا میں بار بار سفر کرنے کو دل چاہتا ہے۔ نصراللہ کھوسہ بلوچ، نواب شاہ: کسی نے کیا خوب کہا ہے ’کیوں کریں کسی سے گلہ یہ تو تقدیر کا سلسلہ ہے‘۔ میں کراچی میں رہتا ہوں طالبِعلم ہوں یہاں کراچی میں ٹریفک کی حالت بد تر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ میں یہاں سڑکوں پر روز نئے واقعات دیکھتا ہوں۔ کنڈیکٹر کا ایک روپیہ کے لیے لڑنا، پولیس والوں کا جیب بھرنا اور بس میں گالی گلوچ۔ مجھے یہاں کے لوگوں میں کوئی اخلاق نظر نہیں آتا چاہے وہ کسی بھی طبقے کے ہوں۔ صبر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ان لوگوں میں۔ یہاں کوئی قانون نہیں جس کی جو مرضی ہے وہی کرتا ہے۔ جس ملک میں آئین نہ ہو اس ملک میں قانون کی پاسداری کہاں ہوتی ہے۔ نسیم الدین، ٹورانٹو: میں کراچی میں روز 45 کلو میٹر سفر دو سے تین گھنٹوں میں کرتا تھا بہت پریشانی ہوتی تھی۔ اب میں ٹورانٹو میں روز 500 کلو میٹر سفر چار گھنٹوں میں کرتا ہوں اور کوئی پریشانی نہیں ہوتی بلکہ مزہ آتا ہے۔ بینا اشرف، امریکہ: میں جب کراچی میں تھی تو بس پر کالج جاتی تھی۔ آٹھ نمبر بس پر جب بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی تو گرم گرم انجن پر بیٹھنا پڑتا۔ بس پر لکھا کوئی شعر پڑھ کر ہنسی آ جاتی یا ایسے ڈرائیور کو انتہائی غصہ آتا جو کہ شیشہ لگا کر بس چلانے کی بجائے لڑکیوں کو دیکھتا۔ اب میں امریکہ میں ہوں یہ سب بہت یاد آتا ہے یہاں تو آٹومیٹک کار میں بیٹھ کر بھی وہ مزہ نہیں آتا۔ یاسر غفور خان، اسلام آباد: میں چار سال سے اسلام آباد میں ویگنوں میں سفر کر رہا ہوں۔ روز مسافر اور کنڈیکٹر کی لڑائی دیکھتا ہوں۔ جھگڑا ایک روپے کا ہوتا ہے کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ ایک روپیہ کوئی بھی نہیں چھوڑنا چاہتا۔ کھڑا ہونا پڑتا ہے، اب کوئی بیٹھنے کے لیے کہے تو عجیب سا لگتا ہے۔ ہر روز تیس منٹ کا مارجن رکھتا ہوں تا کہ ٹائیم پر دفتر پہنچ جاؤں۔ عبدالوحید، امریکہ: میں مڈل کلاس سے تعلق رکھتا تھا۔ پاکستان میں بس اور موٹر سائیکل پر سفر کرتا تھا۔ نیویارک میں سکول اور کام پر جانے کی لیے سب وے استعمال کرتا تھا۔ بہت سے دلچسپ لوگوس سے ملاقات ہوئی، لوگ بہت اخلاق کے ساتھ پیش آتے تھے۔ اب میں میری لینڈ میں رہتا ہوں اور کیپیٹل میں کام پر ڈرائیو کر کے جاتا ہوں۔ جب کوئی ڈرائئور غیرذمہ دار حرکت کرتا ہے تو مجھے اپنے کراچی کے دن یاد آتے ہیں۔ محمد فیصل، جرمنی: جب تک پاکستان میں رہا اس وقت تک اندازہ ہی نہیں ہوا کہ انسان عزت اور وقار کے ساتھ بھی بس میں سفر کر سکتا ہے۔ واجد علی، ٹورانٹو: میں اب کینیڈا میں رہتا ہوں۔ میں جب اپنے شہر پشاور میں کام کرتا تھا تو ٹانگے پر سفر کرتا تھا۔ اب میں دنیا کا بہترین ٹرانسپورٹ سسٹم استعمال کرتا ہوں لیکن ٹانگے کا سفر بہت یاد آتا ہے اس میں کوئی خاص ہی بات تھی۔
|