کارٹونوں پراحتجاج جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرس فوگ پیغمبرِ اسلام کے کارٹون بنائے جانے سے پیدا ہونے والے تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش میں اسلامی ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم نے ایک عربی ٹی وی پر آ کر ایک مرتبہ پھر کارٹونوں کی اشاعت سے مسلمانوں کی دل آزاری پر معذرت کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ان کارٹونوں کی اشاعت کی ذمہ دار نہیں۔ ادھر فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے فرانسیسی اخبار کی طرف سے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ کارٹون کو دوبارہ شائع کرنے پر حیرت کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تنقید کا حق جمہوریت کا لازمی جزو ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ یورپ کے کچھ اخبارات میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں متنازع کارٹونوں کی از سرِ نو اشاعت سے مسلم دنیا میں ردِ عمل بڑھتا جا رہا ہے اور مسلم ممالک نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ فرانس اور اردن میں ان اخباروں نے ایڈیٹر مستفعیٰ ہو گئے ہیں جنہوں نے ان متنازع کارٹون چھاپے تھے۔ اردن میں ایک روزنامہ الشیان نے تین متنازعہ کارٹون یہ کہہ کر چھاپے کہ مسلمانوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کس چیز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اخبار کے ایڈیڑ نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کارٹونوں کے معاملے پر ردِ عمل ظاہر کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔اخبار نے مالک نے ایڈیڑ کو چند گھنٹوں بعد ہی فارغ کر دیا۔ ڈنمارک کی حکومت نے سعودی عرب اور شام میں اپنے سفیروں کو واپس کوپن ہیگن میں بلایا ہے تاکہ ان سے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں سے پیدا ہونے والے تنازعہ پر پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔ شام اور سعودی عرب پہلے ہی اپنے سفیروں کو ڈنمارک سے واپس بلا لیا ہے۔ ڈنمارک کی کمپنیوں کو مسلمانوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے نقصان ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ڈنمارک کی ڈیری فرم ، ارلہ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ ایک سو پچیس ملازموں کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ گاہک کم ہونے کی وجہ سے ان کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ ادھر شدت پسندوں نے فلسطین میں ڈنمارک، ناروے اور فرانس کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے یورنین ٹریڈ کمشنر پیٹر مینڈلسن نے کہا ہے کہ جن اخباروں نے ان کارٹونوں کو دربارہ شائع کیا ہے انہوں نے بھڑکتی ہوئی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ مسلح فلسطینیوں نے جمعرات کو غزہ شہر میں یورپی اتحاد کے دفتر کو عارضی طور پر گھیرے میں لے لیا۔ ناروے نے غربِ اردن میں اپنے مشن کو بند کر دیا ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے صرف یورپی مصنوعات کے بائیکاٹ اور کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کی حمایت کی ہے۔مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں مذہب کی توہین نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر صورتِ حال کو درست انداز سے قابو میں لانے کی کوشش نہ کی گئی تو انتہا پسند اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ کارٹونوں کی اشاعت پوری اسلامی دنیا کی توہین ہے۔ انڈونیشیا میں وزراتِ خارجہ نے اسی قسم کا بیان دیا ہے۔ دریں اثناء فرانس کے اخبار فرانسوا سواغ میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔
ایڈیٹر کو اخبار کے مالک نے برطرف کیا اور برطرفی کے فیصلے کے اعلان میں کہا کہ ’اس اقدام کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اخبار کے مالک لوگوں کے ذاتی اعتقادات اور مذہبی شخصیات کی دل سے عزت و تکریم کرتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اخبار کے ایڈیٹر کو پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے کی سزا کے طور پر ملازمت سے برطرف کیا ہے۔ اخبار کے مالک ریمون لاکا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم مسلمان اور تمام لوگوں سے معذرت کرتے ہیں جن کو کارٹون کی اشاعت سے صدمہ پہنچا‘۔
فرانس کا یہ اخبار تیونس میں بھی فروخت ہوتا ہے اور تیونس کے حکام نے اسے قابلِ اعتراض مواد شائع کرنے کی بنا پر گزشتہ روز ہی ضبط کر لیا تھا۔ کئی عرب ممالک نے ڈنمارک سے کارٹون شائع کرنے والوں کے لیے سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ سعودی عرب اور شام نے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے بعد ڈنمارک سے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ جن اخباروں میں یہ کارٹون شائع ہوئے ہیں ان میں پیرس سے شائع ہونے والا اخبار فرانسوا سواغ کے علاوہ جرمنی کا ڈائی ویلٹ، اٹلی کا لا سٹیمپا اور ہسپانیہ کا ایل پیریڈیکو شامل ہیں۔ مذکورہ یورپی ممالک کے اخباروں میں کارٹونوں کی اشاعت کا بنیادی مقصد ڈنمارک کے اخبار کے ساتھ اظہار یکجہتی قرار دیا گیا تھا۔ پیرس سے شائع ہونے والے اخبار فرانس سواغ کا کہنا تھا کہ کارٹونوں کی اشاعت کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ایک سیکولر معاشرے میں مذہبی کٹرپن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ | اسی بارے میں کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر02 February, 2006 | آس پاس توہین آمیز کارٹون پر معذرت31 January, 2006 | آس پاس کارٹون تنازع: مکرر اشاعت پر موقف 01 February, 2006 | آس پاس الجزیرہ نے ایرانی احتجاج مان لیا30 November, 2004 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||