کارٹونوں پر دنیا بھر میں رد عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کے کئی ملکوں کے اخبارات میں قابل ِ اعتراض کارٹونوں کی اشاعت پر تمام مسلم ممالک میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں نے دنیا کے مختلف حصوں سے ان کارٹونوں پر سامنے آنے والے ردعمل کے بارے میں رپورٹ کیا ہے۔ مارٹن پیشنس، رملہ سمیر صغیر کا جو کہ فلسطینی وزارتِ خارجہ کے ملازم ہیں کہنا ہے کہ یہ کارٹون بہت سے مسلمان اور عربوں کے لیے نفرت انگیز ہیں۔ سمیر صغیر نے سوال کیا کہ کیا آپ نے کبھی کسی مسلمان کو حضرت عیسیٰ کے خلاف اس طرح کی کوئی حرکت کرتے دیکھا ہے۔ فلسطین کے ایک عیسیٰ خلیل انصارا نے کہا ہے کہ راملہ میں لوگ کسی مذہب پر سرے عام تنقید نہیں کرتے۔ خلیل انصارا نے کہا کہ دو سو سال پہلے یورپ میں اظہارِ رائے کی کوئی آزادی نہیں تھی۔ فلسطین میں اظہار رائے کی آزادی کا مذہبی معاملات پر اطلاق نہیں ہوتا جبکہ سیاست میں اس کی بھرپور اجازت ہے۔ عامر احمد خان، پاکستان پاکستان میں ان کارٹونوں کے خلاف احتجاج اب تک کچھ دھیمے رہے ہیں لیکن ان پر بحث زور پکڑتی جارہی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہزاروں مظاہرین نے جمعہ کی نماز کے بعد سڑکوں پر مارچ کیا۔ ان مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ڈنمارک اور ناروے کے سفارت کاروں کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک سے فوری طور پر نکال دیا جائے۔ مظاہرین نے صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت پر ان کارٹونوں کی اشاعت پر ’مجرمانہ خاموشی‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ گزشتہ دو دنوں میں اس طرح کے مظاہرے ملتان، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ہوئے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی ان کارٹونوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آزادی رائے کے تحت ان کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ فرانسس ہیریسن، ایران ایران میں بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ عام طور پر
ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے جمعہ کی نماز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں نے اس پر فوری احتجاج کیا ہے جبکہ حکومتی سطح پر اب ان پر احتجاج شروع ہوا ہے۔ ان کارٹونوں پر ہونے والے احتجاج میں ہزاروں ایرانیوں نے شرکت کی۔ ایران میں یہ استدلال دیا جارہا ہے کہ آزادی اظہار کی آڑ میں دوسروں کی تذلیل نہیں کی جا سکتی۔ ایران پہلے ہی کہ چکا ہے جن ملکوں کے اخبارات میں یہ کارٹون شائع ہوئے ان ملکوں کے اخبار نویسوں کو ایرانی ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔ جولین ایشرووڈ، ڈنمارک ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرسن فوگ نے سفارت کاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس حد تک ہو سکتا تھا ڈنمارک کی حکومت نےآزادی رائے اور آزادی اظہار کے بارے میں اپنا موقف واضح کر دیا ہے اور کیوں وہ اپنے ملک کے اخبارت کو تنبہی نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ متعلقہ اخبار نے معذرت کر لی ہے۔ ریچل ہاروی ،انڈونشیا سفارت خانے ایک عمارت کی دوسری منزل میں قائم ہے۔ مظاہرین کی تعداد گو دو سو سے زیادہ نہیں تھی لیکن وہ عمارت میں گھس آئے اور انہوں نے سفارت خانے پر گند انڈے پھینکےاور ڈنمارک کا جھنڈہ اکھاڑ لیا۔ تاہم جب ڈنمارک کے سفیر نے ان سے بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دی تو وہ پرامن ہوگئے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ڈنمارک کے سفیر نے کہا کہ ان کارٹونوں کی اشاعت سے مسلمانوں کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان پر معافی مانگتے ہیں۔ اس کے بعد یہ مظاہرین ایک مقامی اخبار کے دفتر گئے جس نے اپنی ویب سائٹ پر ایک کارٹون شائع کیا تھا۔ اخبار نے بھی اس کی اشاعت پر مافی مانگ لی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے لیے کتنا نازک ہے۔ ایئن پینل، مصر صدر حسنی مبارک کی حکومت ان کارٹونوں کی شدید مذمت کرچکی ہے۔ صدر حسنی مبارک کی حکومت نے اس سلسلے میں ایک انتہائی سخت بیان جاری کیا ہے جس میں کارٹونوں کی اشاعت جاری رہنے کی صورت میں سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ مذہبی تنظیمیں احتجاج میں آگے آگےہیں۔ بارنی چوہدری، برطانیہ بی بی سی ٹیلی ویژن پر ان کارٹونوں کی جھلاکیاں دکھانے پر بی بی سی کے دفاتر کے سامنے مظاہرے ہوئے ہیں۔ لندن میں جمعہ کی نماز کے بعد مرکزی مسجد کے باہر مظاہرہ کا احتتمام کیا گیا تھا۔ ایک امام مسجد نے کہا کہ اگر کوئی آپ کی پتلون اتار دے تو آپ کیسا محسوس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کارٹونوں کی اشاعت اس سے کہیں زیادہ سنگین عمل ہے۔ برطانیہ میں ان کارٹون پر کئی حوالوں سے غصہ پایا جاتا ہے۔ ایک تو اسلام میں بت پرستی نہیں ہے اور پیغبروں کی تصاویر یا خاکے بنانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان کارٹونوں میں پیغمبر اسلام کو ایک دہشت گرد کے طور پر پیش کرنے پر بھی غصہ پایا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں کارٹون پر پاکستان کا احتجاج02 February, 2006 | پاکستان کارٹون تنازع: مکرر اشاعت پر موقف 01 February, 2006 | آس پاس کارٹون کی اشاعت، بحران شدید تر02 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پراحتجاج جاری03 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں پر دنیا بھر میں رد عمل03 February, 2006 | آس پاس کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||