تنازعہ شدید تر، سفارتخانے نذر آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت پر شام کے مشتعل عوام نے ڈنمارک اور ناروے کے سفارتخانے نذر آتش کردیے ہیں۔ ڈنمارک کے سفارتخانے کو آگ لگانے کے بعد مظاہرین اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے ناروے کے سفارتخانے پر ٹوٹ پڑے۔ پولیس نے آنسو گیس کے استعمال سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی اہلکار مشتعل مظاہرین کو روک نہ سکے۔ ڈنمارک کے ایک اخبار میں گزشتہ ستمبر میں پہلی بار توہین رسالت پر مبنی کارٹونوں کی اشاعت سے مسلم دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بعد میں چند یورپی ممالک نے یہ کارٹون دوبارہ شائع کیے ہیں جس کے باعث یہ تنازعہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور مسلم دنیا کے اشتعال میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آتی جارہی ہے۔
اسلام میں پیغمبر اسلام کی کسی طرح کی بھی شبیہ بنانا جائز نہیں ہے۔ اردن کے ایک اخبار میں متنازعہ کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے بعد اخبار کے برطرف کیے گئے مدیر کو اب گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اردن کے ذرائع ابلاغ کے قوانین کے مطابق اخبار کے مدیر جہاد مومانی پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اردن یہ کارٹون شائع کرنے والا پہلا اسلامی ملک ہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ نے کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار کا غیر ضروری اور غلط استعمال قرار دیا تھا۔ اخبار کے مدیر کو شاہ عبداللہ کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ کئی ممالک بشمول عراق، ترکی، مصر اور انڈونیشیا میں ان کارٹونوں کی اشاعت پر شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ کئی عرب ممالک نے ڈنمارک کے اس اقدام کے بعد بائیکاٹ، موت کی دھمکیاں اور سفارتی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔ غزہ اور غرب اردن میں فلسطینی مظاہرین احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں جبکہ لندن میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر بہت سے مظاہرین جمع ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ ان ممالک سے کاروباری اور تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کررہا جہاں یہ کارٹون شائع کیے گئے ہیں۔
ادھر رومن کیتھولک چرچ نے بھی کارٹون شائع کرنے کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ ویٹیکن کے ایک ترجمان جوکن ناوارو کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار کا مطلب کسی کے مذہبی عقائد و جذبات مجروح کرنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پر امن طور پر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ قومیں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔
شام میں مشتعل عوام روزانہ ہی ڈنمارک کے سفارتخانے کے آگے دھرنا دے رہے تھے۔ اس ہفتے کے آغاز پر ہی دمشق نے ڈنمارک سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا تھا۔ ہفتے کو سینکڑوں مظاہرین نے پہلے ڈنمارک کے سفارتخانے پر پتھراؤ کیا اور پھر ناروے کے سفارتخانے کا رخ کیا۔ مظاہرین نعرے بلند کررے تھے ’اے اللہ کے رسول ہم اپنے خون اور روح سے آپ کا دفاع کریں گے‘۔ کچھ افراد نے ڈنمارک کے جھنڈے کی جگہ دوسرا جھنڈا نصب کردیا جس پر کلمہ لکھا ہوا تھا ’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں‘۔ سفارتخانہ بعد میں بند کردیا گیا تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا مظاہرے کے وقت اس میں کوئی موجود تھا یا نہیں۔ نذر آتش کیے جانے کے بعد سفارتخانے سے کالے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے تھے۔ جس کے فوری بعد جائے وقوعہ پر ایمبولینسیں پہنچ گئیں۔ کوپن ہیگن میں حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوراً شام سے واپس آجائیں۔ جمعہ کو اس تنازعہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ڈنمارک کے وزیر اعظم نے مسلمان سفیروں کے سامنے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔ | اسی بارے میں خبر کا جبر04 February, 2006 | قلم اور کالم ’تہذیبوں کے تصادم کو ہوا ملے گی‘03 February, 2006 | پاکستان کارٹون : امریکہ، برطانیہ کی مذمت03 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں کے معاملے پر تحمل کی اپیل04 February, 2006 | صفحۂ اول کیا معاملہ واقعی آزادیِ اظہار کا ہے؟04 February, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||