BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 February, 2006, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خبر کا جبر

صحافت
خبر کا یہ جبر مخصوص مفادات رکھنے والے صحافیوں، اخباری اداروں اور سرکاری اہلکاروں کا گٹھ جوڑ ہے
پچھلے برس لندن بم دھماکوں کے چند ہی روز بعد برطانوی پولیس نے خود کش دہشت گردوں کے نام جاری کر دیے۔ دو روز بعد پاکستان کے سب سے کثیر الاشاعت روزنامے کے صفحہ اوّل پر ایک دو کالمی خبر شائع ہوئی کہ نامزد دہشت گرد حسیب حسین سعودی عرب میں زندہ موجود ہے۔ مقصد یہ باور کرانا تھا کہ دھماکوں کی ذمہ داری ناروا طور پر بےگناہوں پر ڈالی جا رہی ہے۔ کچھ روز بعد دہشت گرد صدیق خان کی وڈیو سامنے آئی۔ اسی اخبار میں صفحہ اوّل کے نچلے حصے میں تین سطر کی یک کالمی خبر میں وڈیو کی اطلاع دی گئی۔

حسیب حسین والی خبر افواہ تھی۔ لیڈز میں مقیم اس کے والدین نے خود پولیس کو اس کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی لیکن اردو پڑھنے والوں کے لیے اس افواہ میں دلچسپی کا بہت کچھ سامان پیدا کیا گیا تھا۔

دوسری طرف صدیق خان کی وڈیو واضح ثبوت تھی کہ پولیس نے صحیح خطوط پر تفتیش کی تھی لیکن اخبار نے خبر کی پیشکش اور لفظوں کے انتخاب سے پڑھنے والوں کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کی۔

خبر کا یہ جبر مخصوص مفادات رکھنے والے صحافیوں، اخباری اداروں اور سرکاری اہلکاروں کا گٹھ جوڑ ہے۔ ایک خاص سیاسی نقطۂ نظر کو غیر محسوس طریقے سے پڑھنے والوں تک پہنچانا، پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نفسیات کو دیر تک پروان چڑھانا اور پھر اعلان کرنا کہ ذرائع ابلاغ، سیاسی رہنما اور فیصلہ ساز ادارے اس گمراہ رائے عامہ کے پابند ہیں۔ یہ بات مکمل طور پر فراموش کر دی جاتی ہے کہ حقائق سے ناواقف، تجزیے سے قاصر اور تنقیدی شعور سے عاری یہ رائے عامہ انہی افراد اور اداروں نے پیدا کی ہے جو اس کی پیروی کا دعوٰی کرتے ہیں۔

پاکستان میں بہت سے ادارے بیک وقت انگریزی اور اردو اخبارات شائع کرتے ہیں۔ مشاہدہ یہ ہے کہ ایک ہی ادارے کے اردو اور انگریزی اخبارات میں نقطۂ نظر اور خبروں کی پیش کش میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ انگریزی اخبار میں حقائق اور غیرجانبدار تجزیے کو خاصی جگہ دی جاتی ہے جب کہ اردو پڑھنے والوں کو جذباتی تاثرات اور متعصب تبصرے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ انگریزی میں لکھنے والا صحافی اسی ادارے کے اردو اخبار میں لکھنا چاہے تو اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

 پاکستان میں بہت سے ادارے بیک وقت انگریزی اور اردو اخبارات شائع کرتے ہیں۔ مشاہدہ یہ ہے کہ ایک ہی ادارے کے اردو اور انگریزی اخبارات میں نقطۂ نظر اور خبروں کی پیش کش میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کاروباری نقطۂ نظر سے قطع نظر، اس پالیسی کے دو مقاصد ہیں۔ پہلا تو یہ کہ بیرونی دنیا میں جہاں انگریزی اخبارات پڑھے جا سکتے ہیں، مقامی صحافت کی آزادی اور غیر جانبداری کا رنگ جمایا جائے۔

لیکن زیادہ اہم مقصد یہ ہے کہ اردو پڑھنے والے عوام کو سیاسی، معاشی اور سماجی حقائق سے بے خبر رکھا جائے۔ انگریزی دان طبقہ اپنی مختصر تعداد اور مراعات یافتہ حیثیت کے باعث سیاسی صورتحال پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ مزید براں یہ طبقہ بہتر تعلیمی معیار کی بنا پر خبر اور پراپوگنڈے میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چنانچہ اسے کسی قدر متوازن خبریں دینے میں کوئی ہرج نہیں۔ کہیں کہیں تحقیقی صحافت کے کسی نمونے کو صحافتی آزادی کی مثال کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم چائے خانوں اور بسوں ویگنوں میں اردو اخبار پڑھنے والوں کو فوج، مذہبی سیاست، کشمیر اور جہاد کی بھاری خوراک پلانا ضروری ہے۔
پاکستانی صحافت میں صورت حال ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ آزادی کے ابتدائی برسوں میں اردو صحافت پر عوام دوستی، اصول پسندی اور حکومت پر تعمیری تنقید جیسے رجحانات غالب تھے۔

ضمیر نیازی مرحوم کہتے تھے کہ چھوٹے موٹے واقعات کو چھوڑ کر روزنامہ امروز اور ہفت روزہ لیل و نہار جیسے اداروں نے انگریزی صحافت کی بھی رہنمائی کی۔ اس رجحان پر پہلی کاری ضرب1960 میں لگی جب پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر ریاستی قبضہ کر کے بقول قدرت اللہ شہاب نیا ورق الٹا گیا۔ اس نۓ ورق پر صحافت کا معیار آئی اے رحمان کے بقول یہ تھا کہ صدر ایوب خان کی والدہ کے انتقال کی خبر پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار کی شہ سرخی تھی۔

 اردو صحافت میں نئے الفاظ متعارف کرائےگئے۔ مذہبی جماعتوں کی بجائے دینی جماعتیں اور مسلمانوں کی بجائے امّہ جیسے لفظ استعمال ہونے لگے
دس برس بعد وزیر اطلاعات نوابزادہ شیر علی خان نے مذہب اور سیاست کی آمیزش سے نظریہ پاکستان کا قوّام تیار کیا تو صحافت کے دونوں پلڑوں میں قریب قریب برابر کی صورت حال پیدا ہو چکی تھی۔ اگر آئی ایچ برنی یا مظہر علی خان قلم بیچنے پر تیار نہیں تھے تو جابر سلطان کی اجازت سے لکھنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ بہر صورت خط تقسیم کے دونوں طرف صحافت کا معیار زوال پذیر تھا۔ ہفت روزہ شہاب کا کارٹون قابو میں تھا نہ جسارت کی سرخی میں توازن تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس دور کی صحافت کی نمائندہ مثال عباس اطہر کی تخلیق کردہ سرخی ’ادھر ہم، ادھر تم’ تھی_

پھر ضیاالحق کی معیت میں محمود اعظم فاروقی وزیر اطلاعات بنے۔ فسطائی اور اشتراکی پراپوگنڈے کے تمام آزمودہ ہتھکنڈے پاکستانی صحافت پر آزمائے گئے۔ تب تک پاکستان کے ابتدائی صحافیوں کی نسل مر کھپ چکی تھی۔ ان کے بیرون ملک تعلیم پانے والے بچے انگریزی صحافت یا زیادہ سرسبز وادیوں میں نکل گۓ تھے۔ جو چند سر پھرے باقی تھے انہیں مرچوں کی دھونی دے کر نکالا گیا۔ باقیوں نے امیر المومنین کی اطاعت کر لی۔

اردو صحافت میں نئے الفاظ متعارف کرائےگئے۔ مذہبی جماعتوں کی بجائے دینی جماعتیں اور مسلمانوں کی بجائے امّہ جیسے لفظ استعمال ہونے لگے۔ خدا حافظ، اللہ حافظ ہو گیا۔ سالانہ بجٹ پر اداریوں میں اقبال کے اشعار سے کام لیا جانے لگا۔ وطن دشمنی اور غداری کی پہلے سے موجود اصطلاحات پر مذہب سے بیزاری کا طعنہ بڑھایا گیا۔ فن اور ثقافت، فحاشی اور عریانی ہو گئے۔ سیاسی کارکن کالعدم جبکہ مولوی صاحب علمائے کرام اور مشائخ عظام ہو گئے۔ روشن خیالی کو مادر پدر آزادی لکھا جانے لگا۔ بےاصولی کو شرافت کی سیاست قرار دیا گیا۔ اخبارات میں ذات برادری اور قبیلے کی عصبیتوں پر خیال انگیز تبصرے لکھنے والوں کی مانگ بڑھ گئی۔

کسی صحافی نے ایرانی انقلاب کا پرچم اٹھا لیا تو کسی کو خلیج کا خالص اسلام راس آ گیا۔ اخبارات پہ کڑی مگر نادیدہ سنسر شپ کے باعث خبر مفقود تھی۔ ادارتی صفحوں پر کالم نگاروں کی بن آئی۔ ان کالموں میں وزیر اعلٰی سے اپنی گاڑی کے لیے ایر کنڈیشنر مانگنے یا ممکنہ شائقین کے لیے اپنا فون نمبر لکھنے کی آزادی ہے بشرطیکہ گاہے گاہے حکومت وقت خاص طور پر ہمہ مقتدر حلقوں کی مدح سرائی کا سلسلہ جاری رہے۔

مغرب میں دہشت گردی کے تجزیہ نگار شاید یہ نہیں جانتے کہ میڈرڈ اور لندن میں دھماکوں کا اصل نشانہ تو وہ رائے عامہ ہے جو ڈاکٹر قدیر خان کو قومی ہیرو اور امریکی سازش کا شکار سمجھتی ہے۔ جسے باجوڑ پر درجنوں کالم پڑھنے کو ملتے ہیں مگر جو بلوچستان میں مرنے والوں کی تعداد نہیں جانتی۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں)

اسی بارے میں
جن سے اردو محروم ہو گئی
22 December, 2005 | قلم اور کالم
چھ دہائیوں پر چھائی ہوئی فلم
19 January, 2006 | قلم اور کالم
عجیب مانوس اجنبی تھا۔۔۔۔
26 January, 2006 | قلم اور کالم
حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں
14 December, 2005 | قلم اور کالم
آزادی کی ضرورت کیا ہے؟
16 September, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد