حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ سو انتیس کی بات ہے۔ برطانوی گورنر جنرل لارڈ بینٹک نے ایک قانون کے ذریعے ستی کی رسم کو جرم قرار دے دیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اس اقدام کے پیچھے کلکتہ کے ایک اصلاح پسند ہندو مدبر راجہ رام موہن رائے کا ہاتھ تھا جو 20 برس سے ستی کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ آج بھی ہندوستان میں کبھی کبھار کسی خاتون کو مردہ شوہر کی چتا میں جلانے کی خبر سننے میں آ جاتی ہے مگر اس کی قانونی حیثیت جرم کی ہے۔ اس کے ٹھیک سو برس بعد سنہ 1929 میں بمبئی کے ایک دبلے پتلے روشن خیال قانون دان محمد علی جناح نے ہندوستان کی مجلسِ قانون ساز سے ایک قانون منظور کرایا جس کی رو سے کم سن بچوں کی شادی کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا مگر مسلمان مذہبی پیشواؤں کا ایک غول خم ٹھونک کے میدان میں آ گیا اور اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے سینکڑوں کم سن بچوں کے زبردستی نکاح پڑھوائے گئے۔ قوم کی اس کم نگاہی کے باعث کم عمر میں شادی پر پابندی کا قانون عملی طور پر غیر مؤثر ہو گیا۔ قوموں کی ترقی یا پسماندگی کے اشارے ایسی ہی باتوں سے متعین ہوتے ہیں۔ آج محمد علی جناح سے وفاداری کا دم بھرنے والےان مذہبی پیشواؤں کے کچھ جانشین پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں جنہوں نے گذشتہ ہفتے حدود قوانین کی امتناع زنا دفعات میں ایک معمولی ترمیم کو بلڈوز کر دیا۔ قومی اسمبلی کے رکن یونس خالد نے مسودہ قانون تجویز کیا تھا کہ زنا بالجبر کے مقدمات میں چار بالغ مسلم مردوں کی عینی شہادت کی شرط ختم کر دی جائے۔
دنیا بھر میں زنا بالجبر کے بیشتر واقعات میں کوئی عینی گواہ موجود نہیں ہوتا۔ یہ مظلوم عورت کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے کہ اس سے واقعے کے گواہ پیش کرنے کے لیے کہا جائے جب کہ اس جرم کی اطلاع دیتے ہی وہ قانون میں ایک اصطلاحی سقم کی بنا پر بذات خود مجرم ٹھرتی ہے۔ حدود کے قانون میں زنا اور زنا بالجبر میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ چنانچہ زنا بالجبر کی شکایت کرنے والی خاتون اگر موقع کے چار عینی گواہ پیش نہ کر سکے تو اپنی شکایت کی روشنی میں زنا کی مرتکب قرار پاتی ہے۔ جرم کی ان گنت شکلیں ہو سکتی ہیں۔ کوئی شخص لڑکیوں کے ہاسٹل میں گھس کے یہ جرم کر سکتا ہے جہاں اگر کوئی گواہ ہو گا توصرف عورتیں ہوں گی۔ کوئی اور مجرم کسی غیر مسلم گھرانے میں جا کے اس جرم کا ارتکاب کر سکتا ہے جہاں موقع کے گواہ صرف غیر مسلم ہوں گے۔ ایسے سنگین جرم میں عورتوں اور غیر مسلم شہریوں کی گواہی رد کرنا انتہائی ناانصافی ہے۔ 80 کی دہائی کے شروع میں تو اس قانون کی مدد سے زنا بالجبر کی شکایت کرنے والی ایک نابینا لڑکی کو اپنے ملزمان شناخت نہ کر سکنے پر سزا سنائی گئی تھی جسے اندرون اور بیرونِ ملک شدید احتجاج پر ختم کیا گیا۔
اگست 1997 میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اسلم ناصر زاہد کی سربراہی میں قائم سینیٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اعداد و شمار کے ذریعے بتایا تھا کہ حدود قوانین کے اجراء سے پاکستان میں خاتون قیدیوں کی تعداد پانچ گنا بڑھ گئی ہے۔ ان میں سے بیشتر خواتین حدود قوانین کا خمیازہ بھگت رہی ہیں۔ کسی قانون کی افادیت اس کے اطلاق اور اثرات سے جانچی جاتی ہے۔ اطلاق کی صورت یہ ہے کہ 26 برس میں کسی ایک مرد ملزم پر حد جاری نہیں ہو سکی جب کہ متعدد عورتوں کو کوڑوں اور سنگساری کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ جہاں تک اثرات کا تعلق ہے تو سنہ 2004 میں وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1995 میں عورتوں کے اغوا کے مقدمات کی تعداد ساڑھے چھ ہزار تھی جو 2004 میں ساڑھے نو ہزار سے تجاوز کر گئی۔ ربع صدی سے متعدد حکومتی اداروں اور کمیٹیوں نے حدود قوانین کو بدلنے بلکہ منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے۔ یکے بعد دیگرے حکومتوں نے اس قانون کو بدلنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن اس کے لیے درکار سیاسی عزم کا اندازہ چھ دسمبر کی پارلیمانی کارروائی سے کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے خلاف جو قانون منظور کیا گیا تھا اس میں دیت کی دفعات کو تحفظ دے کر اسے عملی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا تھا۔ حکومتی ارکان نے مجوزہ مسودۂ قانون کو متحدہ مجلس عمل کے ارکان سے مل کر رد کیا۔ رائے شماری کا نتیجہ سامنے آنے پر اسمبلی کا فلور ایم ایم اے کے ارکان کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ اندازہ مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ اس غیر منصفانہ قانون کو برقرار رکھنے میں دراصل کسے دلچسپی ہے۔ مسودۂ قانون کی مخالفت کرتے ہوئیے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے دلیل دی کہ حدود قوانین کو آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی تحفظ حاصل ہے چنانچہ اسے عام قانون سازی کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر ایم ایم اے کے رکن اسمبلی ابو الخیر صاحب کا ارشاد تھا کہ حدود آرڈیننس خدائی قانون ہے اور پارلیمنٹ اسے تبدیل نہیں کر سکتی یعنی پارلیمنٹ جس قانون کو آئینی تحفظ دے سکتی ہے، اسے تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ وزیر قانون وصی ظفر نے یہ گرہ لگانا ضروری سمجھا کہ مغربی ملکوں کے برعکس پاکستان میں عورتوں کو مکمل مساوات اور آزادی حاصل ہے۔ مغرب ہو یا مشرق، عورتوں کے ساتھ ناانصافی کے واقعات ہر جگہ پیش آتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ مغرب میں حکومتیں برے قوانین کے ذریعے ان ناانصافیوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔ مسودہ قانون کے تجویز کنندہ یونس خالد کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا الحق نے 1979میں یہ قانون سعودی عرب کو خوش کرنے کے لیے بنایا تھا کیونکہ دنیا کے 57 مسلم اکثریتی ممالک میں یہ قانون صرف سعودی عرب اور پاکستان میں نافذ ہے۔ تاہم پاکستان کی سیاسی تاریخ سے آشنا حلقے ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ فروری 1979 میں جب یہ قوانین نافذ کیے گئے، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل کی سپریم کورٹ میں سماعت آخری مراحل میں تھی اور فوجی آمریت کے خلاف تحریک کی قیادت دو خواتین بیگم بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ہاتھ میں تھی اور اس قانون کا ایک ممکنہ پہلو پاکستان میں عورتوں کی سماجی اور سیاسی حیثیت کم کر کے حکومت مخالف تحریک کی قیادت کو کمزور کرنا بھی تھا۔ حدود قوانین کو خدائی قانون قرار دینے والے جانتے ہیں کہ اسلامی فقہ کے مستند ماہرین متفق ہیں کہ قران میں رجم کی سزا کا کوئی ذکر نہیں جو پاکستان کے حدود قوانین کا حصہ ہے۔ حتٰی کہ وفاقی شرعی عدالت 20 برس پہلے رجم کو غیر شرعی قرار دے چکی ہے جسے بعد ازاں حکومتی اپیل کے نتیجے میں برقرار رکھا گیا تھا۔ مذہب کے نام پر قانون سازی کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ مذہبی جنون میں مبتلا افراد کو ایک اور ہتھیار مل جاتا ہے۔ قانون اور انصاف کے گلے میں ایسا ڈھول پہنا دیا جاتا ہے جسے بجانے پر سب مجبور ہوتے ہیں۔ کچھ عرصے سے حکومت کو پاکستان کے بیرونی تاثر کی کافی فکر ہو رہی ہے دوسری طرف پے در پے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن سے پاکستانی عورتوں کی حقیقی حالت زار واضح ہوئی ہے۔ ان واقعات کی تشہیر پر ارباب اختیار بہت نالاں ہیں۔ سماجی دانشوروں کا کہنا ہے کہ جرائم کے واقعات سے کسی ملک کا تاثر خراب نہیں ہوتا۔ معاشروں کا تاثر جرائم کے خلاف حکومتوں کی مؤثر قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد میں ناکامی پر خراب ہوتا ہے۔ عورتوں کے حقوق پر سرکاری کانفرنسوں سے کیا حاصل اگر حکومت ایک غیر منصفانہ قانون میں معمولی سی ترمیم پر بھی تیار نہیں۔ ایسے میں عورتوں کے حقوق کے لیے نمائشی اقدامات کا ڈھنڈورا پیٹنا تو ان غریبوں کو کیک کھانے کا مشورہ دینا ہے جنہیں روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) |
اسی بارے میں ’ہمیں ویزے نہیں عزت چاہیے‘ 28 September, 2005 | پاکستان ’فوجی نے کہا ملک چھوڑ دو‘07 September, 2005 | پاکستان حدود قوانین کو بدلنا ہوگا: مشرف30 March, 2005 | پاکستان سوئی ریپ کیس: قرارداد منظور08 March, 2005 | پاکستان مختاراں مائی’ فوری انصاف کا نشانہ‘ 04 March, 2005 | پاکستان مختارمائی: نامعلوم مقام پر تفتیش؟14 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||