BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 November, 2005, 19:25 GMT 00:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘

جنگ ستمبر
پاکستان میں حالیہ زلزلہ اس خطے میں رونما ہونے والا بدترین سانحہ ہے۔ اس میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان پر عوام میں گہرے رنج و غم کے علاوہ زلزلہ زدگان کی بھرپور امداد کا جذبہ پیدا ہونا بالکل فطری امر ہے۔

تاہم اس دوران یہ عجیب بات سامنے آئی کہ مقامی ذرائع ابلاغ میں قوم کی طرف سے مصیبت زدگان کی مدد کو ایک خاص تواتر سے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستانی عوام میں پیدا ہونے والے جذبے سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 1965ء کا یہ بےمحل تذکرہ زلزلے کے کچھ روز بعد تب شروع ہوا جب عوام کی طرف سے زلزلہ زدگان کی مؤثر مدد کے حوالے سے فوج کے ادارے پر تنقید سامنے آئی۔

غیر جمہوری حکمرانی کی شکار ریاستوں میں حکومتوں کو اپنے جواز کے لیے نظریاتی دعوؤں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پھر ان نظریات کو حقائق کی دھوپ سے بچانے کے لیے شخصیات اور واقعات کو تقدیس کا جامہ پہنایا جاتا ہے تاکہ ان پر تنقید کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کو پاکستان میں کچھ ایسا ہی مقدس کارنامہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ بعض مبصرین کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کا کچھ ایسا روشن باب نہیں تھا۔ یہ جنگ تو سازش، نااہلی اور دھوکہ دہی کی ایک ترشول تھی جو اس خطے کے عوام کے سینے میں اتاری گئی۔ اس جنگ سے پاکستانی عوام کے معاشی امکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ خطے کے دو بڑے ممالک یعنی ہندوستان اور پاکستان میں دشمنی اور نفرت کا بیج بویا گیا۔ پاکستان کے دونوں حصوں میں خانہ جنگی اور علیحدگی کی بنیاد پڑی۔ پاکستان میں سیاسی قوتوں پر فوج کی بالادستی کو مزید استحکام ملا۔

سید سبط حسن ’سخن در سخن‘ میں لکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں جنگ ستمبر جیسی بے معنی لڑائی شاید ہی کہیں لڑی گئی ہو مگر پاکستان کا حکمران طبقہ اور ان کے حلیف سبط حسن کے کمیونسٹ ہونے کے وجہ سے ان کی گواہی معتبر نہیں مانتے۔ آئیے پاکستان کے چار اعلٰی سول اور فوجی اہل کاروں کی تصانیف کی روشنی میں 1965ء کی پاک بھارت جنگ پر ایک نظر ڈالیں۔

جنرل موسٰی خان اس جنگ میں پاکستانی بری فوج کے سربراہ تھے۔ ائر مارشل اصغر خان جنگ سے کچھ ماہ قبل تک پاکستانی فضائیہ کے سربراہ تھے اور جنگ کے دوران صدرپاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے تھے۔ لیفٹنٹ جنرل گل حسن اس دوران جی ایچ کیو میں تعینات تھے اور جنگی حکمت عملی طے کرنے کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر تھی- الطاف گوہر یوں تو سیکریٹری اطلاعات تھے لیکن انہیں نظام حکومت کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ اس جنگ میں پاکستان کی اخباری کامیابیوں کے وہی خالق تھے۔

اس جنگ کے بارے میں پاکستان کا سرکاری نقطہ نظر یہ ہے کہ ’بزدل دشمن نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کر دیا۔ ہماری بہادر فوج نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے‘۔

پاکستان میں پڑھے لکھے افراد کی بڑی تعداد آپریشن جبرالٹر کے نام سے بھی ناآشنا ہے جو اس سال آٹھ آگست سے جاری تھا۔ آٹھ ہزار پاکستانی فوجی( گلوبل سکیورٹی آرگنائزیشن کے ریکارڈ میں یہ تعداد 22 سے 30 ہزار بیان کی جاتی ہے) اس امید پر کشمیر میں داخل کیے گئے تھے کہ کشمیری عوام ان سے مل کر بھارتی فوج کو نکال باہر کریں گے۔ مگر بقول الطاف گوہر ’ کشمیریوں نے پاکستانی فوجی پکڑ پکڑ کے بھارتی فوج کے حوالے کر دیے‘۔ یہ خوش فہمیوں کا وہی سلسلہ ہے جو ایک طرف کشمیر پر قبائلیوں کی چڑھائی اور دوسری طرف کارگل سے جا ملتا ہے۔

جنرل موسٰی خان 28 اگست تک زچ ہو چکے تھے کہ ’ان کے سپاہیوں کے پاس لڑنے کے لیے پتھروں کے سوا کچھ نہیں تھا‘۔ اس موقع پر چھمب جوڑیاں سیکٹر میں جنرل اختر حسین سے کمان لے کر جنرل یحیٰی کو دی گئی اور گھیرے میں آئے ہوئے سپاہیوں کو بچانے کے لیے پاکستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد پار کی۔ بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی معروف اصطلاح میں جارحیت کہلاتی ہے۔

ادھر ہفتوں سے جاری اس بھرپور لڑائی کی پاکستانی عوام کو کچھ خبر نہ تھی۔ وہ یہی سمجھتے تھے کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور بعض تو اب تک یہی سمجھتے ہیں۔

صدر پاکستان کو لاہور پر بھارت کی پندرھویں فوج کے حملے کی اطلاع پاکستانی فضائیہ نے دی جسے اس پورے منظر سے لاتعلق رکھا گیا تھا۔

اس لڑائی میں سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی لڑائی کا بہت شہرہ ہے۔ اس محاذ پر پاکستانی فوج کے پاس عام گولہ بارود تو تھا مگر ٹینک شکن گولے سرے سے تھے ہی نہیں۔ سترہ روزہ جنگ میں پاکستان نے دفاع کی بجائے حملہ کرنے کی واحد کوشش11 ستمبر کو کھیم کرن کے قصبے کے پاس کرنا تھی۔ مقامی کمانڈر نے علاقے کا ٹھیک مطالعہ نہیں کیا۔ بھارت نے مادھو پور نہر کا بند کھول کر ایسی صورتحال پیدا کر دی کہ پاکستانی فوج کو حملہ ترک کرنا پڑا اور اس حملے کے حوالے سے صدر پاکستان کی بریفنگ دھری کی دھری رہ گئی۔

جنرل موسیٰ لکھتے ہیں کہ بغیر سوچے سمجھے آدم پور، پٹھان کوٹ اور ہلواڑہ جیسے دور دراز مقامات پر چھاتہ بند دستے اتارنے کا فیصلہ غلط تھا۔ 200 کے لگ بھگ فوجیوں میں سے واپس آنے والوں کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ ان کا کمانڈر بھی گرفتار ہو گیا۔

سیٹو اور سینٹو کمیونسٹ جارحیت کے خلاف معاہدے تھے اور ہندوستان کمیونسٹ ملک نہیں تھا مگر پاکستان میں عام شکوہ کیا جاتا ہے کہ امریکہ نے اس موقع پر سیٹو اور سینٹو معاہدوں میں شمولیت کے باوجود پاکستان کی مدد نہیں کی۔ دنیا کے اہم ممالک پاکستان کی کارروائی کو نرم لفظوں میں ’غیر دانشمندانہ‘ سمجھتے تھے۔

جنگ شروع ہونے کے دس دن بعد صدر ایوب بقول الطاف گوہر اپنی کرسی میں نڈھال پڑے تھے اور عوام کو کلمے والی تقریر، جنگی ترانوں، پاکستانی فوج کے کارناموں اور سبز پوش بزرگوں کی کارکردگی کا سبق پڑھایا جا رہا تھا۔

ایک پاکستانی مصنف لکھتے ہیں کہ اگر جنگیں ترانوں کے بل پر جیتی جاتیں تو 1971ء میں پاکستانی ترانے 1965ء سے بھی بہتر تھے۔ عقابی وزیر خارجہ بھٹو صاحب کی خواہش اور توقع کے عین مطابق پاکستان میں خیال پھیل گیا کہ ایوب خان جیتی ہوئی جنگ تاشقند میں مذاکرات کی میز پر ہار آئے۔

جنگ میں بھارت کے 3000 فوجی ہلاک ہوئے تھے اور پاکستان کے 3800 ۔ ہوائی جہازوں اور ٹینکوں میں پاکستان کا نقصان ہندوستاں سے دو گنا تھا۔ بھارت کے 201 مربع میل رقبے کے مقابلے میں پاکستان کا 702 مربع میل رقبہ بھارت کے قبضے میں چلاگیا۔ یہ لڑائی اگر سرحدوں کی بجائے اخبارات اور ریڈیو پر لڑی گئی تھی تو ایوب خان پر الزام درست ہے۔

پاکستانی عوام نے 1965ء میں واقعی بڑے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا مگر یہ جذبہ جنگی ہسٹیریا اور بےخبری کا آمیزہ تھا۔ جنرل یحیٰی نے جنگ کے بعد فوجی ناکامیوں کے احتساب کی تجویز یہ کہہ کے رد کر دی تھی کہ عوام کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لیے کچھ جھوٹ قائم رکھنا پڑتے ہیں۔اس جنگ میں اگر عوام کا جوش و خروش قابل قدر تھا تو حکمرانوں کی طرف سے اس اعتماد کا استحصال افسوسناک قرار دیا جا سکتا ہے۔

بے شک حالیہ زلزلہ ایک قدرتی آفت تھی اور دنیا کی کوئی حکومت اس پیمانے پر اچانک تباہی کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہوتی تاہم پاکستان کے مخصوص سیاسی اور سماجی حالات میں حکومت کے لیے محض زلزلے کی تباہ کاری سے ہٹ کر بھی کچھ خدشات تھے۔

نیم جمہوری اور نیم شخصی حکومتوں کے لیے اس قسم کی وسیع اتھل پتھل میں ایک اہم سوال حکمرانی کے جواز کو تنقید سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ سنہ 1965کے نیم تخیلاتی واقعات کا ذکر کرنے سے دراصل ایوب خان کی شخصی حکومت کی نیم تاریخی کامیابیوں کی باز آفرینی مقصود لگتی ہے۔

پاکستان میں مختلف حکومتوں نے عشروں کی محنت سے مخصوص سیاسی اور سماجی تصورات پر مبنی ایک ایسا اجتماعی ماڈل بنایا ہے جو تاریخ، معاشی حقائق اور سماجی سائنس سے بیگانہ ہے۔ جنگجوئی کی اینٹوں پر ہمعصر دنیا سے بیگانگی کا گارا چونا تھوپ کر ایک کچا قلعہ تعمیر کیا گیا ہے جس کی فصیلوں پر پاکستانی رائے عامہ دکھی سورما کی طرح کھڑی ہے جو جدید دنیا سے نفرت بھی کرتی ہے اور قدم قدم پر اس کی محتاج بھی ہے۔

سنہ 1965 کی جنگ کے بارے میں پاکستانی عوام کے غیر حقیقی تصورات کو یاد کرنا گویا اس اجتماعی نمونے کو مستحکم کرنا ہے۔ ایک خدشہ یہ تھا کہ امدادی کارروائیوں میں کوتاہی کی بنا پر فوج پر تنقید نہ ہو۔ صدر صاحب نے پہلے تو طمطراق سے دفاع اور امدادی کارروائیوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ معاملات بتایا- پھر ایک روز بعد ہی ایف 16 طیاروں کی خرید ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پھر خبر آئی کہ یہ سودا محض اپریل تک ملتوی کیا گیا ہے۔

ادھر زلزلے کے بعد سویڈن سے جدید ہتھیاروں نیز وزیراعظم کے استعمال کے لیے دو جدید طیاروں کی خرید داری کی خبریں بھی آئیں۔ ایک اعلٰی فوجی شخصیت نے تنقیدکے جواب میں بھنا کر یہ بھی کہہ دیا کہ زلزلہ زدگان کی مدد فوج کی پیشہ وارانہ ذمہ داری نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے واپڈا، سٹیل مل اور ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیاں چلانے اور اس قسم کی غیر فوجی ’ذمہ داریوں‘ کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ان حالات میں 65ء کی طرف بار بار اشارہ دراصل فوج کا تاثر بحال کرنے کی کوشش ہے۔

پاکستان میں سیاسی کشمکش کی تکون میں فوج کے علاوہ معروف سیاسی جماعتیں ہیں جو پارلیمانی جمہوریت کی بحالی چاہتی ہیں اور تیسرے کونے پر نیم مذہبی طاقتیں ہیں جو دراصل اب فوج کی جگہ براہ راست سیاسی بالا دستی کی خواہش مند ہیں۔ صدر کی جانب سے مذہبی اور جہادی تنظیموں کی تعریف کا اشارہ پاتے ہی ذرائع ابلاغ میں مذہبی جماعتوں کی تعریف کا سیلاب امڈ آیا۔

لاکھوں شہریوں کی انسان دوستی کو نظر انداز کرتے ہوئے ان مذہبی تنظیموں کی تائید کا مقصد شاید ممکنہ شہری ابھار کو نظریاتی مخمصے میں تبدیل کرنا تھا۔

اس میں بھی سنہ 65 کا تذکرہ مفید ہے۔ ستمبر65ء کی لڑائی پاک بھارت تصادم کا استعارہ بنا دی گئی ہے۔ امن کی کوششوں کے ماحول میں اس لڑائی کا بار بار ذکر کرنے والے موقع سے فائدہ اٹھا کر رائے عامہ کو اپنی ڈھب پر رکھنا چاہتے ہیں۔

زلزلے پر تبصروں میں ایک اور زاویہ بار بار عذاب الٰہی اور عوام کے مفروضہ گناہوں کا تذکرہ تھا۔ مرنے والوں کی بڑی تعداد تو مٹی گارے کے گھروندوں میں بسنے والی مخلوق تھی۔ خدا کی ذات اصل گناہگاروں سے ایسی بے خبر تو نہیں ہو سکتی۔ اسی طرزِ فکر کا ایک رخ مغرب پر تنقید کی صورت میں سامنے آیا کہ وہ خاطر خواہ امداد کا اعلان نہیں کر رہا۔ ادھر نیٹو کے امدادی دستوں کا پاکستان پہنچنا تھا کہ قومی خود مختاری میں مداخلت کا واویلا سنائی دینے لگا۔ یہ سب رویے ہیئت مقتدرہ کے ترجیحی اجتماعی نمونے کی بالواسطہ تائید کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا احوال سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عوام کو زمینی حقائق سے بےخبر رکھنا مقتدر طاقتوں کا مقصد ہے۔ حالیہ زلزلے کے بعد 1965ء کا اس تسلسل سے ذکر سننے سے خدشہ پیدا ہو چلا ہے کہ کیا ایک بار پھر عوام کے جوش و جذبے کو نااہلی اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کا سامان تو نہیں کیا جا رہا؟

(وجاہت مسعود سینیئر صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ وہ ان دنوں برطانیہ میں مقیم ہیں۔)

اسی بارے میں
جنگ کی 40 سال پرانی پر تازہ کہانی
05 September, 2005 | قلم اور کالم
زلزلہ سیاست میں کیا گل کھلائے گا
28 October, 2005 | قلم اور کالم
’بات ترجیحات کی ہے‘
06 November, 2005 | قلم اور کالم
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو . . .
19 November, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد