زلزلہ سیاست میں کیا گل کھلائے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت اور ایک انسانی المیہ تو ہے ہی لیکن اس کے جھٹکے پاکستانی سیاست میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ زلزلہ سے صدر جنرل پرویز مشرف کی وہ خوشی تو کافور ہوئی جو چند روز پہلے مقامی انتخابات میں حزب اختلاف کو پچھاڑ کر ملی تھی۔ وہ ٹیلی فون کر کے اپنے اتحادیوں کو مبارکباد دے رہے تھے۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور اس کے ملحق علاقوں کی تباہی نے بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلہ کشمیر کے مستقبل کے بارے میں بھی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ زلزلہ سے مرنے والوں کی تعداد پچپن ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے اور اس سے پچہتر ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ زلزلہ آنے کے دو دن بعد پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ صوبہ سرحد میں زلزلہ سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہیں اور لوگ اسے بڑھا چڑھا کر بیان کررہے ہیں۔ فوج کے ایک سینئر ترین افسر کی باخبری کا یہ عالم تھا۔
جنوبی وزیرستان میں مبینہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے نگران کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین کا بیان زلزلہ کے بعد ملک کی سیاسی حکمران فوج کے کردار کےبارے میں ایک علامتی حیثیت رکھتا ہے۔ سرحد میں تو تین روز تک فوج زلزلہ زدہ علاقوں میں نہیں پہنچی اور سات روز سے پہلے بھرپور امدادی کارروائیاں شروع نہیں کرسکی۔ فوج کے ہیلی کاپٹر جب مظفرآباد اور مانسہرہ کےہیلی پیڈز پر پہنچے تو جوانوں نے خود کو ہیلی پیڈز تک محدود رکھا۔ وہاں آنے والے زخمیوں کو اسلام آباد منتقل کرنے کے علاوہ انہوں آفت زدہ لوگوں کی کوئی اور مدد نہیں کی۔ فوج نے نہ ان کاملبہ ہٹانے میں ہاتھ بٹایا نہ ان کی لاشیں نکالنے اور ان کو دفن کرنے میں مدد کی جس کی لوگ ان سے توقع کررہے تھے۔ فوج کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں دیر سے امدادی سرگرمیاں شروع کرنے پر متاثرہ علاقوں میں خاصی تنقید ہوئی ہے۔ پانچ لاکھ سے زیادہ منظم افراد پر مشتمل فوج ملک کا سب سے ترقی یافتہ، سب سے مراعات یافتہ اور سالانہ بجٹ کی سب سے زیادہ رقم حاصل کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کا ڈیڑھ سو ارب سے زیادہ کا سالانہ بجٹ چاروں صوبوں کی پولیس کے مجموعی بجٹ سے دس گنا زیادہ ہے۔ ڈپٹی کمشنروں اور ڈسٹرکٹ میجسٹریسی کو نو آبادیاتی دور کی یادگار قرار دے کر ختم کرکے اس کی جگہ ضلعی ناظموں کو متعارف کرانے کا سہرا بھی موجودہ فوجی حکومت کے سر ہے۔ جب زلزلہ آیا تو یہ ناظمین اور نو منتخب کونسلرز خال خال ہی نطر نہ آئے۔ جب امدادی سامان آیا تو اسے اپنے چہیتوں میں بانٹ کر اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے والوں میں وہ سب سے آگے تھے۔ ملک بھر میں صدرمشرف کے پیدا کردہ اسی ہزار سے زیادہ یونین کونسلرز اس مصیبت کے وقت اپنے قائد کا کوئی سہارا نہ بن سکے۔ حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ جس نے متنازعہ مقامی انتخابات میں بیشتر علاقوں سے حزب اختلاف کا نام و نشان مٹادیا تھا زلزلہ کے بعد خود منظر عام غائب ہوگئی۔ پنجاب کے وزیراعلی اور مسلم لیگ پنجاب کے صدر چودھری پرویز الہی تو لندن میں اپنے بیٹے کی شادی منا کر زلزلہ کے پندرہ روز بعد ملک تشریف لائے۔ امدادی کاموں میں سرفہرست مذہبی اور جہادی تنظیمیں ہیں جیسے جماعت الدعوۃ، الرشید ٹرسٹ اور جماعت اسلامی۔ ان جماعتوں کے لوگ دور دراز علاقوں میں بھی پیدل جاکر سامان پہنچا رہے ہیں۔
حکمران مسلم لیگ کے رہنما دعوے کرتے تھے کہ اتنے لاکھ لوگ حکمران مسلم لیگ کے رکن بن گئے جو اس جماعت کی مقبولیت کا ثبوت ہے تو زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے یہ سب لوگ کہاں گئے۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں رضا کارانہ کام تو دور کی بات ہے لاہور میں ریلیف کیمپ لگا کر سامان جمع کرنےوالوں میں حکمران جماعت تو پیپلزپارٹی سے بھی پیچھے تھی۔ شائد اسی لیے اب صدر جنرل پرویزمشرف زلزلہ زدگان کی مدد کےلیے ملک کے نوجوانوں کومتحرک کرنے کی باتیں کررہے ہیں اور حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں کو بلا کر ایک آل پارٹیز کانفرنس کرنا چاہتی ہے۔ عوام کے حکومت پر اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صدر کے ریلیف فنڈز میں اب تک جو تقریبا آٹھ کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں اس میں عوام کا حصہ ڈیڑھ دو کروڑ سے زیادہ نہیں۔ باقی رقوم حکومت نے بنکاروں اور بڑے کاروباری اداروں سے حاصل کی ہیں۔ اب کئی متاثرہ علاقوں میں پابندی لگا دی گئی ہے کہ تمام امدادی سامان فوج کے ذریعے تقسیم کیاجائے گا اور لوگ نجی طور پر اپنی امداد تقسیم نہیں کرسکیں گے۔ دوسری طرف بیرونی دنیا ہے جس نے پچیس ہزار مربع کلومیٹر کے متاثرہ آباد علاقے کے تیس لاکھ بے گھر لوگوں کے لیے اب تک تقریبا آدھے ارب ڈالر کی امداد کے وعدے کیے ہیں۔ آکسفیم کے بقول فرانس، جرمنی اور بیلجئم نے توکچھ دیا ہی نہیں۔ جنرل مشرف اس مغربی دنیا کے ہیرو ہیں۔ مغرب کو اسلامی شدت پسندوں سے بچانے کے لیے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کے لیڈر ہیں۔وہ سردی میں پہاڑوں میں پھنسے بےگھر اور زخمی لوگوں کی مدد کے لیے دو ہفتے تک اپنےاتحادیوں سے بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹر بھی نہیں لے سکے۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سکندرحیات کا کہنا ہے کہ جب لوگ مر جائیں گے تو امریکی ہیلی کاپٹر ملنےکا کیا فائدہ ہوگا۔ باغ اور راولا کوٹ کےمتاثرین کو ساٹھ ہزار خیموں کی ضرورت ہے جس میں سے اٹھارہ روز بعد صرف پندرہ ہزار ان تک پہنچ سکے ہیں۔ ملک کے اندر لوگوں کا جذبہ ختم نہیں تو کم ضرور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ لاہور میں آدھے سے زیادہ امدادی کیمپ ختم ہوچکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں سامان لے جانے والے عام لوگوں کے ٹرکوں کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔ لاہور کے بازاروں میں عید کی شاپنگ کرنے کا رش بڑھتا جارہا ہے۔ زلزلہ سے جو زبردست تباہی کشمیر اور سرحد میں آئی ہے اس کا پیمانہ اتنا بڑا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ شائد اس چیلنج کا مقابلہ اب تک تو لوگوں کی توقع کے مطابق نہیں کرسکا۔ آئندہ کے حالات بھی نقصان کی نسبت امداد کی معمولی رقوم کو دیکھتے ہوئے زیادہ خوش آئند نظر نہیں آتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ زلزلہ کے بعد صدر جنرل مشرف کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان کے سب سے بڑی اتحادی ملک امریکہ کے اعلی عہدیدار باری
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں زلزلہ سے جو تباہی ہوئی ہے اور وہاں کے متنازعہ لوگوں کو ریلیف کے کام سے اور پاکستان حکومت سے جو شکایات پیدا ہوئی ہیں وہ پاکستان حکومت کےلیے مستقبل میں مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔ کشمیر کی شدت پسند تحریک (جسے سرحد کے دونوں طرف کشمیر کے لوگ آزادی کی تحریک کہتے ہیں) اس کا بیس کیمپ بھی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو قرار دیا جاتا تھا جو جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے الفاظ میں اس تحریک کا پشتیبان تھا۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا یہ پشتیبان اب خود بکھر چکا ہے۔ دیکھنا ہوگا کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ اس تجربہ کے بعد پاکستانی ریاست سے اپنے تعلقات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے کشمیر کی تحریک پر جو اثرات ہوں گے اس سے مسئلہ کشمیر اور پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کی نوعیت بھی شائد متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ |
اسی بارے میں زلزلے نے مجھ کیا کیا چھین لیا؟ 28 October, 2005 | پاکستان ’وعدے ٹھیک پر پیسے کہاں ہیں‘27 October, 2005 | پاکستان مریضوں کےاعضاء کاٹنے کاعمل 27 October, 2005 | پاکستان جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف27 October, 2005 | پاکستان الائی میں سردی، انخلاء متنازع27 October, 2005 | پاکستان صرف 25 فیصد خیمے دستیاب26 October, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے24 October, 2005 | پاکستان 'زلزلے کے بعد سے بچنا مشکل ہے'14 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||