BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 September, 2005, 20:52 GMT 01:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی نے کہا ملک چھوڑ دو‘
ڈاکٹر شازیہ خالد
’ہمیں ڈرا دھمکا کر ملک سے نکال دیا گیا‘
بلوچستان کے علاقے سوئی میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر شازیہ خالد نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان فوج کے ایک میجر نے ان کو ملک چھوڑنے کے لیے کہا تھا۔

ڈاکٹر شازیہ خالد جو اس وقت لندن میں مقیم ہیں، بی بی سی اردو سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں خواتین کی ایک کانفرنس میں کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ خالد خود ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور وہ اب ملک کو بدنام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا میں نے ملک چھوڑا نہیں بلکہ مجھے مجبور کیا گیا تھا کہ میں اپنے ملک سے چلی جاؤں۔

ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ شناخت پریڈ کے دوران ملڑی انٹیلجینس کے ایک میجر ان کے پاس آئے تھے اور ان کو کہا کہ وہ ملک سے چلے جائیں کیونکہ ان ( ڈاکٹر شازیہ) کی جان کو خطرہ ہے۔

ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ فوجی افسر نے کہا تھا کہ ان کو پتہ ہے کہ ملزم کون ہے اور وہ فوج کی حراست میں ہے اور جوں ہی دوسرے ملک پہنچیں گی تو ان کو اچھی خبر سنے کو ملے گی۔

ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا کہ انہیں پرویز مشرف کی حفاظت کی ضرورت نہیں ہے اور وہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ ان کو انصاف ملے۔’ میں نے انصاف کے لیے آواز آٹھائی ہے مجھے انصاف کی ضرروت ہے نہ کہ حفاظت کی‘

ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا کہ وہ یہاں پناہ گزینوں کی زندگی گذار رہے ہیں اور ان کو اپنا ملک چھوڑنے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔ ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ زیادتی سے پہلے پاکستان میں خوش و خرم زندگی گذار رہی تھیں۔’خدا کے شکر تھا ہم پاکستان میں بہت خوش تھے، میرے شوہر بہت اچھی جاب کرتے تھے ہمیں یہاں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا‘

ڈاکٹر شازیہ نے جنرل پرویز مشرف کے اس بیان پر کہ وہ ملک کو بدنام کر رہی ہیں کہا کہ ان کی نظر میں ملک اسی دن بدنام ہو گیا تھا جب ان کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ اگر میرے ملزم کو پکڑ کر سزا دی جائے تو پھر ان کو کسی حفاظت کی ضرروت نہیں ہو گی۔

ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا ان کا کیس ہی ختم کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا جب وہ اسلام آباد کے ایک گھر میں نظر بند تھیں تو اس وقت انکوئری ٹرایبونل کی رپورٹ آنے والی تھی۔

انہوں نے کہا اسلام آباد میں نظر بندی کے دوران ان کو ٹرایبونل کی رپورٹ کی کوئی خبر نہیں مل سکی تھی۔

ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ لندن میں انہیں اپنے ذرائع سے ٹرایبونل کی جو رپورٹ ملی ہے اس سے لگتا ہے کہ ان کا مقدمہ ختم کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر شازیہ نے کہا وہ ٹرایبونل کی رپورٹ سے مطمعئن نہیں ہیں اور وہ سمجتی ہیں کہ یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر شازیہ نے مطالبہ کیا ان کے مقدمے کا جائزہ کسی غیر جانبدار جج سے کروایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کو اپنے ملک میں انصاف مل جاتا تو وہ کبھی بیرون ملک نہ آتیں اور اب بھی اگر ان کے ملزم کو پکڑا جائے اور اسے سزا ملے تو وہ واپس اپنے ملک چلی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد