BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 March, 2005, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی ریپ کیس، رپورٹ پیش

News image
لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے مبینہ زیادتی کے حوالے سے قائم عدالتی ٹریبیونل نے اپنی رپورٹ بلوچستان حکومت کو پیش کر دی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس احمد خان لاشاری پر مشتمل ٹریبیونل نے پینتیس صفحات پر مشتمل رپورٹ محکمہ داخلہ کے حکام کے حوالے کر دی ہے۔

اس رپورٹ میں انیس افراد کے بیان قلمبند کیے گئے تھے جن میں ڈیفنس سروسز گارڈ کے کیپٹن حماد اور ناظم ڈیرہ بگٹی کاظم بگٹی شامل ہیں جبکہ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد نے اپنا تحریری بیان ٹریبیونل کو دیا تھا۔

ٹریبیونل نے سترہ جنوری سے کام شروع کیا تھا اور ٹریبیونل قائم کرنے کا فیصلہ صوبائی کابینہ نے کیا تھا۔ ٹریبیونل نے رپورٹ پندرہ دن کے اندر پیش کرنا تھی لیکن اس میں توسیع کی جاتی رہی جس کی وجہ گواہوں اور لوگوں کی عدم دلچسپی بتائی گئی ہے۔

لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے دو اور تین جنوری کی درمیانی شب زیادتی کی گئی تھی۔ وہ سوئی گیس فیلد میں قائم پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کے عہدے پر تعینات تھیں۔

ان سے مبینہ زیادتی کے حوالے سے ڈی ایس جی کے کیپٹن حماد کا نام لیا جاتا رہا ہے لیکن پولیس حکام کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ اور شناخت پریڈ میں کیپٹن حماد کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کے واقعہ کے بعد سوئی میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جہاں سوئی گیس فیلڈ اور ڈی ایس جی کے اہلکاروں پر حملے کیے گئے اور اس دوران دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کے تبادلے ہوئے جن میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد