ڈاکٹر شازیہ خالد کوباہر کس نے بھیجا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے سوئی میں مبینہ طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر شازیہ خالد جمعہ کو اسلام آباد سے لندن روانہ تو ہو گئیں مگر ابھی یہ طے نہیں ہو سکا کہ ان کو باہر بھجوانے میں حکومت کا ہاتھ ہے یا غیر سرکاری تنظیموں کا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ کی روانگی کی تصدیق تو کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شازیہ کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے بیرون ملک بھیجا ہے۔ تاہم تمام غیر سرکاری تنظیموں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کے باہر بھجوانے میں کسی بھی غیر سرکاری تنظیم کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے جواباً حکومت پر الزام لگایا کہ انہوں نے ڈاکٹر شازیہ کو خود باہر بھجوایا۔ اس سلسلے میں جب اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے پریس اتاشی سائمن سمارٹ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شازیہ کو ابتدائی طور پر برطانیہ میں داخلے کے لیے چھ مہینے کا ویزا دیا ہے اور اگر وہاں وہ سیاسی پناہ کے لئے درخواست کریں گی تو اس پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کو ایک این جی او کی درخواست پر برطانوی ویزا دیا گیا ہے۔ یہ بات ابھی طے نہیں ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کی منزل برطانیہ ہی ہے یا وہ کینیڈا جائیں گی۔ اسلام آباد کے ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام کے ریکارڈ کے مطابق کوئی ڈاکٹر شازیہ نام کی خاتون پچھلے اڑتالیس گھنٹے میں کسی بیرون ملک پرواز پر سوار نہیں ہوئیں۔ تو کیا وہ فرضی نام سے باہر گئی ہیں؟ اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ تاہم غیر سرکاری تنظیموں کی کچھ اراکین جنہوں نے اسلام آباد میں گذشتہ چند روز میں ڈاکٹر شازیہ سے ملاقاتیں کی ہیں، نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کو اسلام آباد میں سرکاری تحویل میں رکھا گیا تھا۔ سرکاری حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ تاہم ڈاکٹر شازیہ کے بیرون ملک جانے سے یہ بات اب راز میں ہی رہے گی کہ وہ کیسے بیرون ملک گئیں۔رہا ان کو انصاف دلانے کا معاملہ تو شائد ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے ملزم اب کبھی بھی پکڑا نہ جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||