BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 March, 2005, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر شازیہ خالد کوباہر کس نے بھیجا؟

News image
بلوچستان کے علاقے سوئی میں مبینہ طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر شازیہ خالد جمعہ کو اسلام آباد سے لندن روانہ تو ہو گئیں مگر ابھی یہ طے نہیں ہو سکا کہ ان کو باہر بھجوانے میں حکومت کا ہاتھ ہے یا غیر سرکاری تنظیموں کا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ کی روانگی کی تصدیق تو کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شازیہ کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے بیرون ملک بھیجا ہے۔

تاہم تمام غیر سرکاری تنظیموں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کے باہر بھجوانے میں کسی بھی غیر سرکاری تنظیم کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے جواباً حکومت پر الزام لگایا کہ انہوں نے ڈاکٹر شازیہ کو خود باہر بھجوایا۔

اس سلسلے میں جب اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے پریس اتاشی سائمن سمارٹ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شازیہ کو ابتدائی طور پر برطانیہ میں داخلے کے لیے چھ مہینے کا ویزا دیا ہے اور اگر وہاں وہ سیاسی پناہ کے لئے درخواست کریں گی تو اس پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے بھی کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کو ایک این جی او کی درخواست پر برطانوی ویزا دیا گیا ہے۔

یہ بات ابھی طے نہیں ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کی منزل برطانیہ ہی ہے یا وہ کینیڈا جائیں گی۔

اسلام آباد کے ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام کے ریکارڈ کے مطابق کوئی ڈاکٹر شازیہ نام کی خاتون پچھلے اڑتالیس گھنٹے میں کسی بیرون ملک پرواز پر سوار نہیں ہوئیں۔ تو کیا وہ فرضی نام سے باہر گئی ہیں؟ اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

تاہم غیر سرکاری تنظیموں کی کچھ اراکین جنہوں نے اسلام آباد میں گذشتہ چند روز میں ڈاکٹر شازیہ سے ملاقاتیں کی ہیں، نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کو اسلام آباد میں سرکاری تحویل میں رکھا گیا تھا۔

سرکاری حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

تاہم ڈاکٹر شازیہ کے بیرون ملک جانے سے یہ بات اب راز میں ہی رہے گی کہ وہ کیسے بیرون ملک گئیں۔رہا ان کو انصاف دلانے کا معاملہ تو شائد ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے ملزم اب کبھی بھی پکڑا نہ جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد