’اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی کے مقام پر مبینہ طور پر فوجی افسر کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کے شوہر خالد احمد نے کیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ٹائم گین‘ کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش کے لیے ایک ٹرائبیونل بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’جو بھی کچھ ہو رہا ہے اس سے وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ثنا اللہ عباسی کو تفتیش میں شامل کیا جائے جو کہ ایک ذمہ دار پولیس افسر کی شہرت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر انہوں نے کہا کہ اسے سیاسی رنگ دیا گیا۔ انہوں نے پی پی ایل کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بروقت کارروائی کرتے تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہ بناتا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی ایل انتظامیہ کے پرویز جمورا اور چیف میڈیکل افسر عثمان واڈھا وہاں پہچنے اور ڈاکٹر شازیہ کو اس کیس کی پیروی نہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ واردات کے بعد پی پی ایل کے ایک اہلکار سلیم اللہ نے ڈاکٹر شازیہ کے کمرے کا معائنہ کیا تھا اور تمام ثبوت دیکھے تھے۔ لیکن پی پی ایل کی انتظامیہ ڈاکٹر شازیہ کو یہی مشورہ دیتی رہی کہ آپ پولیس کو کوئی بیان نہ دیں اور کوئی مقدمہ درج نہ کروائیں۔ تنہا عورت ہونے کے ناطے آپ سبی کیسے جائیں گی پھر کوئٹہ میں عدالتوں کے چکر لگانا پڑیں گے اور آپ کے خاوند بھی ملک سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب مشورے دے کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ مقدمہ درج نہ کروایا جائے اور ڈاکٹر شازیہ سے ایک تحریری بیان پر دستخط لے لیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس بیان میں کیا لکھا تھا۔ نصیر آباد پولیس کے رویہ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدا میں تو ان کا رویہ بہت ہمدردانہ تھا اور وہ انصاف دلانے کی یقین دہانی کراتے رہے لیکن بعد میں ان کا رویہ بھی تبدیل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے رہے۔ انجینئر خالد نے کہا کہ کچھ دن پہلے نصیر آباد کے ڈی آئی جی آئے تھے اور ان کا رویہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی عجیب عجیب سوال پوچھتے رہے اور الٹا الزام ڈاکٹر شازیہ پر عائد کرنے لگے۔ انجینئر خالد کے بقول ڈی آئی جی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک شخص نے جو ڈاکٹر شازیہ کے کمرے کی صفائی کرتا تھا بتایا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کے کمرے سے پہلے بھی کونڈوم ملتے رہے ہیں۔ ایک سوال پر کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اس کیس کو ایک ڈرامہ قرار دیا تھا انجینئر خالد نے کہا کہ ان کے ساتھ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شازیہ نے اپنا کیس خدا کے سامنے پیش کردیا ہے اور اسی سے دعا گو ہیں۔ انہوں نے کہا ’پاکستان اور ساری دنیا اب جو کچھ بھی کہتے رہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی حفاظت میں ہیں اور پولیس اور رینجرز ان کے گھر کے باہر تعینات ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان سے ملنے پر ’اتنی پابندی‘ نہیں اور وہ لوگوں سے مل سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||