مختارمائی: نامعلوم مقام پر تفتیش؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی روز اپنے گھر مبینہ طور پر نظر بند رہنے کے بعد پیر کی صبح پولیس کی کڑی نگرانی میں میروالہ سے روانہ ہونے کے بعد مختار مائی اب کہاں ہیں؟ یہ سوال ہر وہ شخص کر رہا ہے جو تین برس قبل پنچایت کے حکم پر جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے گاؤں میروالہ میں اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم اور حصول انصاف کے لیے اس ناخواندہ دیہاتی خاتون کی صبر آزما جدوجہد میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دس روز قبل مختار مائی کا نام وفاقی وزارت داخلہ نے ان افراد کی فہرست میں شامل کردیا تھا جن کے بیرون ملک جانے پر پابندی ہے۔ اس فہرست کو ای سی ایل یعنی ایگزِٹ کنٹرول لسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی حفاظت پر مامور پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا اور بقول مختار مائی کے عملی طور پر انہیں ان کے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ اس دوران مختار مائی سے ان کا پاسپورٹ بھی لے لیا گیا جو کہ چند روز بعد فوٹو کاپیاں کرانے کے بعد واپس کیا گیا۔ بعد میں عقدہ یہ کھلا کہ مختار مائی کو برطانیہ اور امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی کچھ تنظیموں نے وہاں آنے کی دعوت دی تھی اور حکومت بظاہر یہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ بیرون ملک جائیں اور اپنے ساتھ ہونی والی مبینہ ناانصافی پر آواز اٹھائیں۔ تاہم جب ان کی مبینہ نظربندی اور لاہور ہائی کورٹ کے ریویو بورڈ کی طرف سے ان کے کیس میں نظربند ملزموں کی رہائی کے حکم کی خبریں سامنے آئیں تو حکومتی عہدیداروں کی جانب سے مختار مائی کے نظر بند ہونے کی تردید کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ ان کی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے ان کی سخت حفاظت کی جارہی ہے۔ تاہم مختار مائی حکومتی دعووں سے متفق نہ تھیں اور ان کا کہنا تھا کے نا صرف ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں ہیں بلکے انہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ صحافیوں اور این جی اوز کے نمائندوں سے اپنے روابط بھی کم کریں۔
اسی پس منظر میں پیر کی صبح پولیس کی ایک بھاری نفری کےساتھ مختار مائی اور ان کی قریبی ساتھی نسیم غزلانی کو لاہور لے جایا گیا جہاں سہ پہر تین بجے جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت سیون کلب روڈ یعنی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے سیکریٹیریٹ میں ہیں۔ مختار مائی نے بتایا کہ ان کے ساتھ وزیراعظم کی مشیر نیلو فر بختیار کی سیکریٹری نرجس بھی موجود ہیں اور انہیں بتایا گیا ہے کہ اب انہیں اسلام آباد لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد مختار مائی سے مسلسل رابطے کی کوشش کی گئی جو ان کا موبائل یا سیل فون بند ہونے کی وجہ سے بارآور ثابت نہ ہو سکی۔ اس صورتحال کی وجہ سے مختار مائی کے گھر والے بھی پریشان تھے اور انہوں نے اخبارات کے دفاتر میں فون کر کے اس کا اظہار بھی کیا۔ تاہم پاکستانی وقت کے مطابق رات کے پونے بارہ بجے مختار مائی نے اپنے موبائل نمبر سے بی بی سی کے ساتھ رابطہ کیا لیکن کوئی بات کرنے کی بجائے وہ رو دیں جس پر ان کی ساتھی نسیم نے بتایا کہ لاہور سےاسلام آباد انہیں سفید کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی نگرانی میں لایا گیا جو کہ پولیس والے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ نسیم نے مزید بتایا کہ مسلح اہلکاروں نے مختار مائی سے ان کا موبائل فون بھی چھین کر بند کر دیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں انہیں کسی نامعلوم جگہ پر رکھا گیا ہے جہاں مختار مائی بار بار یہ پوچھا جارہا ہے کہ وہ بیرون ملک کیوں اور کن لوگوں کی دعوت پر جانا چاہ رہی ہیں اور یہ کہ وہ باہر جا کر کیا بیان دیں گی۔ نسیم کا کہنا تھا کہ موبائل فون وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار کے کہنے پر چند لمحوں کے لیے ان کے حوالے کیا گیا ہے اور ابھی وہ بات جاری رکھے ہوئے ہی تھیں کہ فون بند ہوگیا۔ بعد میں رابطہ کرنے کی بارہا کوششیں کی گئی جو فون بند ہونے کے باعث ناکام رہیں۔ مختار مائی کی حصول انصاف کی جدوجہد میں شامل غیر سرکاری تنظیم پتن کے سربراہ سرور باری نے مختار مائی کی زندگی کے بارے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک مظلوم عورت کو دباؤ میں لاکر حکومت کیا حاصل کرنا چارہی ہے۔ سرور باری نےکہا کہ یہ اطلاعات بھی ہیں کے حکومت ڈاکٹر شازیہ خالد کی طرح مختار مائی کو بھی زبردستی ملک بدر کرنے کے چکر میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو انسانی حقوق کی تنظیمیں ملک بھر میں احتجاج کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||