جب احمدیوں کا وجود جرم ٹھہرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسے تاریخ کی ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی صورتِ حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ سات اکتوبر کی صبح وسطی پنجاب کے قصبے منڈی بہاؤالدین میں احمدیہ فرقے کی مسجد پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی اندھا دھند فائرنگ سے آٹھ نمازی جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اس ’مظلوم فرقے‘ کے خلاف معاشرتی امتیاز اور اشتعال پذیری کا یہ عالم ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کی رسمی مذمت کے سوا بیشتر سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی آواز تک سنائی نہیں دی۔ اردو کے ان شذرہ نویسوں کی اکثریت خاموش رہی جو افغانستان میں تورا بورا کے پہاڑوں پر جہازی حجم کا مرثیہ رقم کرتے ہیں۔ 12 نومبر کو ضلع ننکانہ صاحب کےقریب ایک قصبے سانگلہ ہل میں مشتعل مسلم ہجوم نے تین گرجا گھر، ایک کانونٹ، ایک ہائی سکول اور مقامی مسیحی آبادی کے متعدد مکانات نذرِ آتش کر دیۓ۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اگرچہ ہزاروں مسیحی شہریوں کو جان بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ فریقین کے متعدد افراد گرفتار ہوۓ۔احمدی شہریوں کے مقابلے میں مسیحی آبادی کےساتھ اتنی رعایت برتی گئی کہ وزیر اعلٰی نے بنفسِ نفیس سانگلہ ہل کا دورہ کرنے اور عدالتی تحقیقات کا حکم دینے کی زحمت گوارا کر لی۔ حالات و واقعات کا تانا بانا کچھ بھی ہو، پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت اور اقلیتوں کے حقوق کی ناگفتہ بہ صورت حال ان معمولات کے بغور جائزے کی متقاضی ہے۔ پاکستان کے بانیوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ پاکستان کسی ایک مذہبی گروہ کے لیے بنایا جائے گا۔ بلکہ مسلم لیگ نے مذہب کی بنیاد پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی شدید مخالفت کی تھی۔ مسلم لیگ کا مطالبہ اپنی اصل صورت میں تسلیم کیا جاتا تو پاکستان میں مسلم اور غیر مسلم آبادی کا تناسب 60 اور 40 فی صد کے قریب ہوتا۔ اسی طرح 3 جون کے تقسیمِ ہند کے منصوبے میں تبادلہ آبادی کا شائبہ تک نہیں تھا۔
تقسیم کے موقع پر رونما ہونے والے فسادات میں فریقین کے قانون شکن عناصر کا ہاتھ تھا جو اپنے مذموم مفادات کے لیے آگ اور خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ برصغیر کی تاریخ کا کوئی سنجیدہ طالبعلم سوچ بھی نہیں سکتا کہ درجہ اول کی قیادت یعنی قائداعظم، گاندھی جی اور پنڈت نہرو کسی بھی سطح پر فسادات میں ملوث تھے۔ تاہم فسادات کے نتیجے میں حالت امن میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انخلاء سامنے آیا اور پاکستان میں مسلمان آبادی کا تناسب ابتدائی اندازوں سے بہت زیادہ ہو گیا۔ اس کے دو خطرناک نتائج سامنے آئے۔ اولاً یہ کہ بچی کچھی مذہبی اقلیتوں کی سیاسی اور سماجی حالت نہایت کمزور ہو گئ۔ ثانیاً یہ کہ مسلمان آبادی کی اتنی بڑی اکثریت کے پیش نظر مذہبی سیاست کرنے والے عناصر کے لیے ممکن ہو گیا کہ وہ بانئ پاکستان کے واضح اعلان ’مذہب کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں‘ کےباوجود ریاست کے لیے مذہبی شناخت کا مطالبہ شروع کر دیں۔
اس خطرناک کھیل کے اصل مضمرات تب سامنے آنا شروع ہوئے جب جمہوری عمل کمزور ہوا اور اس کے نتیجے میں سیاسی قیادت کے اخلاقی قد کاٹھ اور ریاست کے اداراتی اختیارات کو زنگ لگنے لگا۔ سیاسی قیادت نے آئین سازی کی بجاۓ قرارداد مقاصد جیسے حیلوں بہانوں کی آڑ ڈھونڈنا شروع کر دی۔ یہ صورت حال مذہبی منافرت کے نام پر دکان چمکانے والوں کے لیے کھلی دعوت تھی۔ سنہ 1953 کے احمدی مخالف فسادات گویا آنے والے دنوں کی ابتدائی تصویر تھے۔ خلیفہ عبدالحکیم اپنی کتاب اقبال اور ملّا میں ایک نامور عالم دین کے بیان کا حوالہ دیتے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ ابھی تو ہم نے ایک فرقے کی خبر لی ہے۔ بعد میں دوسروں کا رخ کریں گے۔ ان فسادات پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پاکستان کی بہترین سرکاری دستاویزات میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستان میں معاشرت اور سیاست کا نیا رنگ ڈھنگ دیکھ کر سب سے پہلے اینگلو انڈین آبادی نے ملک چھوڑنا شروع کیا۔ یہ ایک نہایت تعلیم یافتہ، مہذب اور قانون پسند جماعت تھی جو طب، تعلیم، ریلوے اور فضائیہ جیسے شعبوں میں قابل قدر خدمات انجام دے رہی تھی۔ متوقع معاشرتی اور ریاستی تحفظ کی صورت نہ پا کر 60 کی دہائی میں اینگلو انڈین اکثریت پاکستان چھوڑ گئی۔ کراچی میں چند گھرانوں کوچھوڑ کر آج پاکستان میں اینگلو انڈین آبادی کا نام و نشان نہیں ملتا۔ سنہ 1974 میں پارلیمانی قانون سازی کی عجیب و غریب مثال سامنے آئی جب ریاست نے اپنے شہریوں کے ایک گروہ کا عقیدہ متعین کرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی۔ وزیراعظم بھٹو کے الفاظ میں نوے سال پرانا مسئلہ حل کر دیا گیا۔ تاہم انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اصولوں پر سمجھوتے بازی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ایسا کرنے سے جمہوریت دشمن قوتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ ریاست کا کام اپنے شہریوں اور ان کے تمام طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عقیدے کا تعلق ہر انسان کے انفرادی ضمیر سے ہے۔ اگر پارلیمنٹ اس طرح کی امتیازی قانون سازی کر سکتی ہے تو فوجی آمر کو اپنے مفادات کے لیے اپریل 1984 کا فرمان جاری کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اینٹی احمدی آرڈیننس نامی اس فرمان کی رو سے احمدیوں کے لیے سرعام کلمہ پڑھنا، نماز ادا کرنا، سلام کرنا، عبادت کے لیے اکٹھے ہونا حتٰی کہ مسلمانوں جیسے نام تک رکھنا جرم قرار پایا۔ دوسرے لفظوں میں احمدیوں کا وجود ہی جرم قرار دے دیا گیا۔ اس قانون کے تحت سیکڑوں احمدی مقدمات بھگت رہے ہیں اور سزائیں جھیل رہے ہیں۔
پاکستان میں غیر مسلم آبادی کا تناسب اتنا کم ہے کہ مسلمان اکثریت کے ساتھ کسی حقیقی سیاسی یا معاشی تضاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اصل تضاد تو جدید پاکستانی ریاست اور ان عناصر میں ہے جو مذہب کے نام پر حکومت پر زبردستی قبضہ کرنا اور شہریوں کو اپنے ترجیحی طرزِ حیات کی پابندی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ریاست کے اختیارات کو وقتی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ اس جھگڑے میں عورتوں اور مذہبی اقلیتوں کی حیثیت اس گھن کی ہے جو گیہوں کے ساتھ پس رہا ہے۔ ریاست امتیازی قوانین اور سیاسی مراعات کی صورت میں بھیڑیوں کے سامنے چند ٹکڑے ڈال کر سمجھتی ہے کہ وہ جنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو جاۓ گی۔ پاکستان میں جرائم کی شرح انتہائی بلند اور امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے۔ ایسے میں جرائم پیشہ گروہوں نے انتہا پسند عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے لیے نہایت تشویش ناک ہے۔ آبادی میں ان کا تناسب نہایت کم سہی لیکن 16 کروڑ آبادی کے ملک میں ان کی تعداد 48 لاکھ ہے۔ یہ تعداد براعظم یورپ کے 27 ممالک سے زیادہ ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کو بظاہر دور دراز اور ترقی پذیر ملک پاکستان کی مذہبی اقلیتوں میں زیادہ دلچسپی نہیں ہو سکتی اور بیرونی احتجاج کی چھوٹی موٹی آوازوں کو پاکستان داخلی خود مختاری کے نام پر رد کر دیتا ہے۔ تاہم دہشت گردی کے عالمی خطرے سے دوچار دنیا کو احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر امتیازی سلوک سے دراصل وہ معاشرتی ماحول پروان چڑھتا ہے جس میں دہشت گردوں کو بہترین پناہ گاہیں میسر آتی ہیں۔ جہاں نفرت انگیز تقریر و تحریر کا دور دورہ ہے۔ یک رخے ذرائع ابلاغ، امتیازی قوانین، پسماندہ نصابِ تعلیم اور موقع پرست سیاسی قیادت نے اس معاشرے کو مہذب دنیا کے لیے تشویش ناک خطے میں بدل دیا ہے۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) | اسی بارے میں ’توہینِ رسالت‘ پر عمر قید، جرمانہ29 November, 2004 | پاکستان مسیحی پر توہینِ رسالت کا الزام11 September, 2005 | پاکستان منڈی بہاؤالدین: احمدی مسجد پر حملہ07 October, 2005 | پاکستان احمدی مسجد پر حملہ، آٹھ ہلاک07 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||