BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 September, 2005, 01:05 GMT 06:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزادی کی ضرورت کیا ہے؟

پاکستانی اخبارات
ضیاالحق کے زمانے میں پری سنسر شپ لگی تھی
اظہار کی آزدی قطرہ قطرہ ملتی اور اس ایک ایک قطرے کے لیے کیا کیا لیتی ہے اس کی بہت سے تاریخیں مرتب کی گئی ہیں لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ ان کتابوں میں سب کچھ آ گیا ہو گا لیکن جب یہ آزادی جاتی ہے تو ایک حکم، ایک اشارہ اور ایک جھٹکا بھی کافی ہوتا ہے۔

پاکستان میں 1977 کے انتخابات اور پاکستان قومی اتحاد، پی این اے کی تحریک کے بعد جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء شروع ہوا تو مساوات اور دوسرے چند ایک روزناموں کے علاوہ نجی شعبے کے اخبارات و جرائد بھی اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھے اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ تو تھے ہی حکومت کے ہاتھ میں چار جولائی تک بھٹو کے گن گا رہے تھے اور پانچ جولائی سے برائیاں گنوانے کی ابتدا کر چکے تھے۔

ضیا الحق کے اقتدار سنبھالے سے پہلے ’نوائے وقت‘ بھٹو مخالفت میں اور ’مساوات‘ بھٹو حمایت میں فحاشی کی حد تک ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ ایک کو کوئی بات درست دکھائی نہیں دیتی تھی تو دوسرے کو کہیں بھی غلطی نظر نہیں آتی تھی۔

کثیرالاشاعت ’جنگ‘ اس وقت بھی حسبِ معمول نام نہاد توازن کی حکمت عملی ’کہ یہ بھی ٹھیک ہے، اور وہ بھی ٹھیک‘ پر عمل پیرا تھا۔لیکن پانچ جولائی کے بعد جنگ ضیاالحق کی حمایت میں سب سے آگے نکل گیا۔

کچھ ہی دنوں میں پابندیاں اور پھر سنسر شپ اور اس کے بعد پری سنسر شپ آ گئی۔ یہ وقت کیسا تھا، حکومتی پالیسی کیا تھی اور کس طرح ایک بریگیڈیر انفارمیشن ڈائریکٹر کے کمرے میں بیٹھ کر ایڈیٹروں سے کلام کرتا تھا اس کے کچھ تفصیل ضمیر نیازی مرحوم کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے لیکن یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ اس تفصیل میں سب آ گیا ہے۔

کیونکہ اس میں انگریزی زبان کے اخبارات و جرائد کا حال زیادہ سے زیادہ ہے اور اردو کا کم سے کم ہے اور اس کے وجہ ضمیر نیازی کا انگریزی صحافت سے تعلق ہے۔

اردو اور علاقائی زبانوں کے صحافیوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ اب تک غیر اہم سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انگریزی اخبارات و جرائد نہ تو اس وقت سیاسی تحرک کی سطح پر کوئی کردار ادا کر رہے تھے، نہ کر رہے ہیں اور نہ ہی ایک طویل عرصے تک اس کا امکان ہے۔ حالانکہ وہ ہمیشہ ہی ایسا بہت کچھ شائع کرتے ہیں جو اردو اور علاقائی زبانوں میں شائع ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ان کا لکھا ایسے طوفان اٹھانے تک ہی محدود ہوتا ہے جو چائے کی پیالی میں ہی اٹھتے اور بیٹھتے ہیں۔

ان کی ساری ریڈر شپ کو، جو مل ملا کر کل آبادی کا ایک آدھ فیصد کے لگ بھگ بھی نہیں بنتی۔ انگریزی اخبارت کے لیے کام کرنے والے اور اب عرصے سے جلا وطن صحافی کے بقول یہ ریڈر شپ ’خصی‘ یعنی غیر موثر ہے۔

یہ بات آتی جاتی حکومتوں کی خوشامد میں یکتا نوکرشاہی کو بخوبی پتہ ہے۔ شاید اسی لیے انگریزی اخباروں پر اگر معمولی نزلہ گرتا ہے تو اسی بات کے لیے اردو اور مقامی زبانوں کے اخبارات و جرائد پر ڈنڈا استعمال کیا جاتا ہے اور آخر فرق صرف سڑکوں پر آنے والوں کے سوا کیا ہے؟

 پری سنسر شپ میں بڑے لطیفے ہوتے تھے اور جب ضیالحق کا اسلام نافذ ہونا شروع ہوا تو بات یہاں تک آ گئی کہ ننگے پیر کے لفظ میں ننگے کا لفظ فحش محسوس کیا جانے لگا اور اس کو بھی بدلنے پر اصرار ہونے لگا

جنرل ضیاالحق کے آنے کے بعد چھوٹے اخباروں نے جن میں کراچی سے نکلنے والا روزنامہ ’صحافت‘ سرِ فہرست تھا، مارشل لا کی ایسی مخالفت کی کہ بڑوں کو بھی رخ تبدیل کرنا پڑ گیا۔ ورنہ تو سبھی نے ضیاالحق کا خیر مقدم ہی کیا تھا۔

اس تبدیلی کی وجہ سے پری سنسر شپ لگی۔ یعنی ہر اخبار اور رسالے کو یہاں تک کہ کتابوں کو بھی شائع ہونے کے لیے پہلے محکمہ اطلاعات میں بیٹھے افسرانِ تعلقاتِ عامہ کو ہر کاپی دکھا کر ہر صفحے پر دستخط لینے ہوتے تھے جس کے ایک کونے پر ایک چھوٹی سی مہر بھی ہوتی تھی جسے دیکھ کر پریس والا شائع کرنے پر آمادہ ہوتا تھا۔

اس پری سنسر شپ میں بڑے لطیفے ہوتے تھے اور جب ضیالحق کا اسلام نافذ ہونا شروع ہوا تو بات یہاں تک آ گئی کہ ننگے پیر کے لفظ میں ننگے کا لفظ فحش محسوس کیا جانے لگا اور اس کو بھی بدلنے پر اصرار ہونے لگا۔

پری سنسر شپ یا اشاعت سے پہلے سنسر شپ کی ابتدائی دنوں میں یہ ہوتا تھا کہ جو حصے سنسر کی نظر ہو جاتے تھے انہیں خالی چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن کچھ عرصے بعد اس بھی پابندی لگا دی گئی کہ جہاں سے سے خبریں نکالی جائیں گی وہ حصے خالی نہیں چھوڑے جائیں گے تو باقی اخباروں نے تو متبادل خبریں لگانا شروع کر دیں لیکن ’جسارت‘ نے، جس کے مدیر اس زمانے میں صلاح الدین تھے، یہ اختراع اختیار کی کہ خالی جگہ پر قینچی کی تصویر شائع کرنا شروع کر دی۔ دوسرے ہی دن کچھ اور اخباروں نے بھی اس کی پیروی کی تو اس پر بھی پابندی لگ گئی۔ اس پر صلاح الدین نے سنسر کی زد میں آنے والی خبروں کی جگہ گدھے کی تصویر لگانا شروع کی۔ اس پر بھی پابندی لگ گئی اور حکم دیا گیا کہ جب کاپیاں سنسر کے لیے آئیں گی تو ان کے ساتھ تیار متبادل خبریں بھی لائی جائیں اور جو خبریں سنسر ہوں ان کی جگہ متبادل خبریں لگائی جائیں اور جب تک سنسر افسر مطمئن نہ ہو جائے اخبار پریس نہیں جائے گا۔

یہ دور تو آیا اور گزر گیا لیکن کسی نے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی کہ اس کا ان لوگوں پر کیا اثر پڑا جو اس زمانے میں سب ایڈیٹر، پیج انچارج یا نیوز ایڈیٹر یا ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔

اس سطح پر دو طرح کی آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ادب و صحافت پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے اور ہر بات شائع ہونی چاہیے اور درست اور غلط کا فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیا جانا چاہیے کیونکہ صحافت کا فریضہ اطلاعات کی ایسی غیر جانبدارانہ فراہمی ہے جو فراہم کرنے والوں کی پسند و ناپسند اور قدر کے کسی بھی معیار سے آلودہ نہ ہو۔

ان سے اختلاف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ادب و صحافت کو ’مادر پدر آزاد‘ نہیں چھوڑا جا سکتا۔ صحافت کو رہنمائی بھی کرنی چاہیے اور زبان، ثقافت اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قوم اور ملک کی سلامتی کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور محتسب کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔

دونوں موقف بحث طلب ہیں اور پاکستان میں یا اردو میں اس پر سیر حاصل بحث نہیں کی گئی۔ میرے خیال میں یہ بحث ہونی چاہیے کیونکہ اطلاعات کی ترسیل ہی ہے جو لوگوں میں ان کی آزادی کے ممکن ہونے کو امید بندھا سکتی ہے۔

لیکن انٹر نیٹ نے اس صورتِ حال کو بڑی حد تک تبدیل کردیا ہے لیکن کیا اس تبدیلی کو کسی بات سے کوئی خطرہ نہیں ہے؟

66فحش یا شہوت انگیز
ملیسا پی کے شہوانی ناول نے تہلکہ مچا دیا ہے
66آنکھیں ترستیاں ہیں
اشفاق احمد سمیت کئی ادیب نہ رہے: سین رائے
66متن کے التوا کے معنی
ژاک دریدا کے انتقال پر انور سِن رائے کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد