اپنےگم شدہ خدا کے لیے ایک دعا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن پر بم حملوں کی خبر سنتے ہی جیسے کمرے کی دیواریں اچانک سمٹنے لگی ہیں اور میرا دم کسی بھی لمحے گھٹ جائےگا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے لرزتے ہوئے جسم کو کرسی پر اور سمیٹ لیا۔ مجھے نہیں پتا یہ کیفیت کتنی دیر رہی لیکن جب میری بیٹی نے کہا : ’ابا! چائے‘ تو میں نے آنکھیں کھول دیں۔ مجھے دفتر کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن کوئی چیز تھی جو مجھے باہر جانے سے روک رہی تھی۔ رہ رہ کر دل چاہ رہا تھا کہ پوری طاقت کے ساتھ کسی ایسی چیز سے ٹکرا کر ایسے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں کہ سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی طاقت ہی نہ رہے۔ بالکل ایسا ہو جاؤں کہ مجھے یہ بھی پتہ نہ چلے میں کون ہوں، کہاں ہوں، کیوں ہوں اور میرے ارد گرد کیا ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے، کیسے ہو رہا ہے اور کون کر رہا، کیوں کر رہا ہے، ایسا کرنے سے اسے کیا ملے گا اور ایسا کرنے سے کس کس کا کیا جائے گا اور جس کا جائے گا اس سے اس کا کیا رشتہ جس نے اس سے یہ چھینا ہے یا ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ وہ ان سے محروم ہو جائے۔ بم حملوں یا دھماکوں میں دس انسان مارے گئے بیس یا پچاس یا اس سے بھی زیادہ اور سینکڑوں زخمی ہوئے، بات تعداد کی نہیں ہے بات یہ ہے کہ وہ میں ہوں جو مرا ہوں اور میں ہوں جو زخمی ہوا ہوں اور اسی بات سے شروع ہوتی ہے شاید میری تکلیف اور اذّیت۔ میں نے ٹی وی پر وہ تصویریں دیکھیں۔ میں نے خود کو اور اپنی بیٹیوں کو اور بہنوں اور بیٹوں اور ان کے بچوں کو خون میں لت پت اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا۔ ان سب کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا، میں نے یہ ان کے ساتھ کیوں کیا؟
میں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مجھے شکایت ہے۔ مجھے شکایت تھی۔ کس سے تھی۔کیا اس کا کوئی چہرہ نہیں ہے۔ کیا اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیا وہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیا بم حملہ کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا جا سکتا تھا کہ جس سے شکایت ہے حساب بھی اسی سے چکایا جائے۔ کیوں سوچ لیا گیا کہ وہ کنگس کراس کے انڈر گراؤنڈ سٹیشن سے گزرنے والی ٹیوب میں سوار ہوگا۔ وہ اس مسافر بس میں سفر کر رہا ہو گا جو ٹیوس سٹاک سے گزر رہی تھی۔ یا وہ آلڈ گیٹ ایسٹ، رسل سکوائر، مور گیٹ یا ایجوئر روڈ پر ہی ہوگا؟ کیوں سوچ لیا گیا ہے کہ وہ حاضر بھی ہوتا ہے اور غائب بھی اور کہیں بھی ہو سکتا ہے اور اگر ایساہی ہے تو اسے لندن کے ٹرانسپورٹ نظام ہی میں تلاش کرنے اور نشانہ بنانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ نہیں نہیں نہیں، یہ کسی انسان کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا اور جنہوں نے بم حملے کیے ہیں وہ، شرم آتی ہے مگر کہنا پڑے، وہ شکلاً انسان ہی ہوں گے اور اس سے قطع نظر کہ انہیں کس بات نے غیر انسان میں تبدیل کیا ہو گا، کس دکھ یا دیوانگی نے، ان کا ہدف، انہیں بالکل پتہ تھا انسان ہی ہوں گے لیکن وہ انسان نہیں جن سے انہیں کوئی نامعلوم شکایت ہوگی۔ مجھے بچپن سے ہی یہ سبق پڑھایا جاتا رہا ہے کہ وہ جو شہہ رگ سے قریب ہے اور وہ جو کہیں بھی ہو سکتا اور وہ جو کچھ بھی کر سکتا ہے اور جس کی مرضی کے بغیر پتہ تک حرکت نہیں کر سکتا اور وہ جو زندگی اور موت کا مالک ہے، جو دکھ دیتا ہے اور خوشیاں چھین لینے کی قدرت رکھتا ہے صرف اور صرف ایک ہے نہ اس میں سے کوئی ہے اور نہ وہ کسی میں سے ہے اور وہ ایک اور واحد خدا ہے۔ میں اس پر ایسا یقین کیا یا مجھے اس پر ایسا یقین دلایا گیا جو میری تمام تر تردید کے باوجود مجھ میں جاری و ساری رہتا ہے۔ میں بہت بھاگتا ہوں لیکن اس سے باہر نہیں نکل پاتا۔ حالانکہ اس کے بعد مجھے یہ بھی پتا چل چکا ہے کہ ’وہ ایک لمبے سفر پر جا چکا ہے، اب وہ ویسا نہیں رہا، پھر یہ بھی کہ وہ مر چکا ہے‘۔لیکن میں نے ان باتوں پر یقین نہیں کیا حالانکہ اس کے ان گنت ثبوت میرے سامنے آتے رہے اور اب بھی ہیں۔
اب میں کہاں جاؤں؟ انسان بہت کمزور ہیں میرا خدا مر چکا ہے یا نئے خداؤں کے ڈر سے کہیں چھپ گیاہے یا ان خداؤں نے اس کی طاقتیں چھین لی ہیں۔ کیا میں بھی ان شیطانوں میں شامل ہو جاؤں جو کل تک ایسے فرشتے تھے کہ خداؤں کے خدا کے آباء انہیں اپنے آباؤ اجداد کی مثل قرار دیتے تھے اور انہیں خداؤں کے خدا کی اور اس کے اتحادی خداؤں کی حمایت حاصل تھی یا ان خداؤں کے سربسجود ہو جاؤں جن کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا کہ کل وہ کس بات پر مجھے مردود کہہ کر نکال سکتے اور شیطان قرار دے سکتے ہیں۔ میں کل جب دفتر جا رہا تھا تو بس کے ڈرائیور نے مجھ سے پوچھا ’کہاں تک جاؤ گے؟‘ میں نے پورا کوکنی انداز اپناتے ہوئے جواب دیا: ’آلوچ۔ ۔ ۔ کیوں؟‘میں نے ایک وقفے کے بعد پوچھا۔ اس کی آنکھوں میں سوال کے علاوہ بھی کچھ تھا۔ کچھ ایسا جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہ تو دیکھا تھااور نہ محسوس کیا تھا۔ اس کے آنکھوں میں وہ دوستی بھی نہیں تھی جو میں اس سے پہلے محسوس کرتا اور حیران و خوش ہوا کرتا تھا۔ اس نے مجھے کہا ’جاؤ، جا کر بیٹھو‘۔ میں بس کی سب سے پچھلی نششت پر جا کر بیٹھ گیا لیکن میں انتہائی عجیب سے کیفیت محسوس کر رہا تھا انتہائی تذلیل، انتہائی شدید بےگانگی، اجنبیت، شدید ترین احساسِ کمتری مجھے رہ رہ کر کسی بات پر غصہ آ رہا تھا اور میں کانپ رہا تھا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں کسی چیز سے جا کر ٹکرا جاؤں اور خود کو ختم کر لوں۔ اس طرح کہ کوئی بات ، کوئی چیز اور کوئی احساس کچھ، کچھ بھی باقی نہ رہے۔
لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔ اس لیے میں سر بسجود ہوتا ہوں ان تمام خداؤں کے حضور جو میرے مرحوم خدا کی جگہ سنبھال چکے ہیں۔ جنہوں نے آج مجھے اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ میں ان کی پناہ مانگوں، ان سے اور ان شیطان مردودوں سے جنہیں انہوں نے اب اپنے حضور سے دھتکار دیا ہے اور جو مجھ ایسے انسانوں کو نشانہ بناتے پھر رہے ہیں اور ان شیطان مردودوں سے بھی جو کل دھتکارے جائیں گے۔ اے خدا وندِ خدا! ان خداؤں سے ہر وقت چھپ چھپ کر میں تیرے لیے بھی دعا کرتا ہوں کہ تجھے ایک بار پھر اس دنیا کا اختیار حاصل ہو جائے اور ایک بار پھر تجھے وہ قدرت حاصل ہو جائے جو خیر و شر کا آخری فیصلہ کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||