BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 July, 2005, 03:51 GMT 08:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی مسلمانوں کی امن کی دعا
News image
لندن میں نفرت آمیز کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں
لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد عام مسلمانوں میں تو ایک حد تک خوف کا عالم ہے ہی لیکن برسوں تک اس شہر کے باسیوں کا علاج معالجہ کرنے والے ایک مسلمان سرجن کی حالت بھی ان سے مختلف نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلمان سرجن نے کہا کہ حالیہ بم دھماکوں کے بعد ’انہیں اچانک خوف محسوس ہوا تھا کہ کہیں لندن کے مقامی شہری اپنے پڑوسی مسلمانوں سے آنکھیں نہ پھیر لیں، باوجود اس کے کہ مسلمان بھی ان ہی کی طرح معصوم شہری ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ کوئی بھی یہ تسلیم کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرے گا کہ یہ دھماکے اسلام کے نام پر ہی کیے گئے۔

دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرنے والے سرجن کا ظاہر کردہ خوف جمعہ کی نماز ادا کرنے والوں نے بھی محسوس کیا۔

ایک مسلمان تنظیم نے تو اس خدشے کے پیش نظر خواتین کو باہر نہ آنے کی اپیل کی ہے کہ کہیں وہ حجاب اور دوپٹہ کی وجہ سے نفرت کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔

بیشتر مسلمان رہنماؤں کا خیال ہے کہ احتیاط برتنا اپنی جگہ لیکن ان کی برادری کو معاشرے کا حصہ ہی سمجھنا چاہیے۔

لندن میں نفرت آمیز کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد جس طرح مسلمانوں کو نفرت کی بنا پر حملوں کا سامنا کرنا پڑاچاہے یہ مساجد کی توڑ پھوڑ ہو اور زبانی تلخ کلامی کے واقعات۔۔

حال ہی میں سر کے خطاب سے نوازے جانے والے اقبال سکرانی نے جو برطانوی مسلم کونسل کے سربراہ بھی ہیں، صورتحال کے بارے میں بات چیت کے لیے جمعہ کے روز ہوم سیکریٹری چارلس کلارک سے ملاقات کی۔

انہوں نے جب یہ ملاقات کی تو ا س وقت مسلمانوں نے نماز جمعہ کے موقع پر آپس میں مشاورت کی۔

خدشات کے پیش نظر مسلم کونسل نے اپنی برادری کو جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تجاویز دی ہیں ان میں انہیں کہا گیا ہے کہ سفر کے وقت ایسی نشستوں کا انتخاب کیا جائے کہ وہ حملے کی صورت میں پھنس کر نہ رہ جائیں۔

کونسل نے مسلمانوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پراعتماد رہیں تاکہ کوئی بھی ان پر حملہ کرنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہو۔

مشرقی لندن کی بڑی مسجد جہاں ہر جمعہ کو ہزاروں لوگ عبادت کے لیے آتے ہیں الگیٹ سٹیشن سے صرف دو سو گز کے فاصلے پر ہے۔ اس علاقے میں اکثریت بنگلہ دیشی نژاد لوگوں کی ہے۔

اس برادری کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عبدالباری کا کہنا ہے کہ اس مسجد کی انتظامیہ کو جہاں ای میل کے ذریعے توہیں آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں وہاں کچھ حوصلہ افزا خط بھی ملے ہیں۔

گیارہ ستمبر کے واقعات اور باالخصوص سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد لندن کے مسلمان اور عیسائیوں کے رہنماؤں نے پس پردہ مشاورت کی تھی کہ اگر یہاں دہشت گردی ہوجائے تو کس طرح کے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔

ان کی اس تیاری کا نتیجہ ایک مشترکہ بیان کی صورت میں سامنے آیا جس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور ’انٹر فیتھ‘ نامی تنظیم کے رہنماؤں نے ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔

جمعہ کے روز لندن کی اس جامع مسجد کے امام نے اپنے خطبے میں لندن بم دھماکوں کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا وہاں اس علاقے میں واقع کیتھولک چرچ کے سربراہ جان آرمیٹیج نے بھی مسلمانوں کے خیالات کی حمایت کی۔

امامِ مسجد شیخ عبدالقیوم نے خطبے میں کہا کہ بم دھماکے کرنے والے مجرموں کو کوئی مذہب قبول نہیں کرسکتا۔

چرچ کے رہنما نے کہا کہ ’آئرش لبریشن آرمی‘ نے کافی عرصے تک بم حملے کیے اور جب برمنگھم پر حملہ کیا تھا تو اس وقت وہ طالبعلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ’آئی آر اے‘ کے بارے میں لوگ بات کرتے تھے تو کیا انہیں کیتھولک دہشت گرد کہتے تھے۔

’نہیں ایسا نہیں کیونکہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ عقیدہ رکھنے والے اور اس کے برعکس سوچ والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں‘۔

جان آرمیٹیج نے واضح طور پر کہا کہ مذہب کے بارے میں تھوڑی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے کو یہ یاد کرلینا چاہیے کہ مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

حالیہ بم دھماکوں کے بعد کئی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ جب میڈیا میں دھماکے کرنے والوں کی شناخت کے بارے میں قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں شائع ہوں گی تو انہیں بچانے میں مشکلات پیش آئیں گی۔

66لندن دھماکوں کے بعد
بہت کچھ بدلا ہوا تھا لیکن تقریباً معمول پر
نفرت کے بم
لندن کے باسیوں کے لیے عارف شمیم کا کالم
6611 / 9 کے بعد 7 / 7
لندن دھماکے: پاکستانی اخبار کیا کہتے ہیں؟
66میں نے کیا دیکھا۔۔
دھماکوں میں بچنے والے لوگوں کے تاثرات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد