ایک نئے محمد علی جناح کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسا لگتا ہے برصغیر کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ ایک نئے محمد علی جناح کی تلاش بھی شروع ہو گئی ہے۔ اس جناح کو کیونکہ جذبات کی بجائے حقائق کے سہارے تلاش کیا جا رہا ہے اس لیے حقیقت پسندوں کو ایک نئے جناح کا خیر مقدم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان کے دورے میں محمد علی جناح پر خیال آرائی نتیجے میں جناب لعل کرشن اڈوانی کے خلاف خود ان کی اپنی ہی جماعت کے اندر اٹھنے والا طوفان اب بیٹھ چکا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس طوفان نے بیٹھتے بیٹھتے بھی بہت سی باتوں کے اشارے دیے ہیں جو تاریخ اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یقیناً بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ بعض مبصرین کا یہ خیال بھی ہے کہ اس طوفان کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی، بی جے پی ہی کے ان انتہائی سرکردہ رہنماؤں نے راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وشو ہندو پریشد، وی ایچ پی کے ان رہنماؤں کو استعمال کیا جو بی جے پی کی قیادت سنبھالنے کے لیے بے چین ہیں لیکن کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔ لیکن سیاست کے طالب علموں کے لیے یہ طوفان حیران کن نہیں ہو گا کیونکہ یہ طوفان انہیں جماعتوں میں اٹھتے ہیں جن میں تھوڑی بہت جمہوریت بھی ہوتی ہے۔ اگر یہی صورتِ حال پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کو پیش آتی تو یہ مظاہرہ کرنے والے اور ان کے حامی اب تک پارٹی سے نکالے جانے کے بعد اسی نام کی ایک اور جماعت یا گروپ بنا چکے ہوتے یا اڈوانی جی گھر جاتے ہوئے مڑ مڑ کر ان دوستوں کو دیکھ رہے ہوتے جن کے دیے ہوئے زخم انہیں تا دمِ آخر یاد رہتے۔
لیکن بی جے پی میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اڈوانی کو تنبیہ ہو گئی کہ کیکر کا جو بیج انہوں نے بویا ہے اس پر انگور کی بیل نہیں چڑھائی جا سکتی اور اس کی کوشش کی گئی تو ہر گچھے کے زخمی ہونے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا اور بی جے پی کے ’جلد باز‘ حلقوں کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ انہوں نے غلط وقت میں غلط پتے پر داؤ لگایا تھا اور یہ بھی کہ اڈوانی زیادہ دور اندیش اور سیاسی طور پر درست ہیں کیونکہ وہ کسی اعلان کے بغیر شدت پسندی کے اس راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں جس پر وہ اب تک چلتے رہے اور جو انہیں آگے جا کر تنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان سے واپسی پر اپنے بیان اور محمد علی جناح کے مقبرے پر تاثراتی کتاب میں اندراج کے الفاظ سے بی جے پی کے بحران کی نوعیت اور شدت کا یقیناً اڈوانی جی کو قیاس نہیں تھا لیکن فطری سیاسی آدمی ہونے کی بنا پر انہیں اس بات کا غالباً یقین ہو گا کہ درست موقف رکھنے والے کو وقتی طور پر خسارہ ہو سکتا ہے لیکن آخری فتح اسی کی ہوتی ہے اور یہ بات برِ صغیر کے سیاست دانوں میں سب سے زیادہ محمد علی جناح پر پوری اترتی ہے۔ وہ کانگریس میں محمد علی جناح گئے اور نکل کر ایک بڑی تعداد کے لیے ’قائدِاعظم‘ بن گئے۔ شاید اسی بات کا شدید تر احساس اڈوانی جی کو اس بار کے دورے میں ہوا اور انہوں نے اس کا برملا اعتراف بھی کیا ہے لیکن ان کا سارا موقف محض ایک لفظ سکیولر میں پھنس کر رہ گیا۔ مبصرین کا خیال تھا کہ اس کے خلاف زیادہ ردِ عمل پاکستان میں ظاہر کیا جائے گا اور مبصرین کی رائے کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں محمد علی جناح کے لیے جو تعظیم اور احترام پیدا کیا گیا ہے اس نے ان کی حقیقی سیاسی شخصیت تک رسائی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں لیکن پاکستان میں اڈوانی جی کے خیالات پر ایسی خاموشی رہی جیسے کسی کو پتہ ہی نہ چلا ہو۔ پاکستان میں کسی کو 1939 سے پہلے والے اس جناح سے کوئی دلچسپی نہیں جس نے 12 ستمبر 1929 کو ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس وقت بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کا دفاع کیا تھا جب پورے ہندوستان کے تمام حریت پسند سیاستداں اس معاملے پر مصلحتاً خاموشی اور چشم پوشی اختیار کیے ہوئے تھے اور ان میں نامی گرامی حریت پسندوں ساتھ گاندھی جی بھی شامل تھے۔
محمد علی جناح کا یہ دفاع آج ایک بار پھر بڑی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے کیونکہ اس سے دہشتگردی اور مزاحمت و سرکشی کے درمیان فرق کو مٹانے کی ان کوششوں اور پروپیگنڈے کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کو جائز بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جناح صاحب نے اس تقریر میں ہندوستان میں برطانوی حکمرانوں پر دوہرے معیار اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی قیدیوں کو دہشت گرد قرار دے کر انتہائی غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے۔‘ یہ وہ جناح تھے جنہوں نے کانگریس کی قیادت کی وجہ سے ’ہندو مسلمان اتحاد کی سفارت‘ چھوڑ کر مسلم لیگ کی قیادت قبول کی لیکن اس سے یہ تصور قائم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مسلم لیگ کی قیادت لے کر سیاسی طور پر تبدیل ہو گئے تھے کیونکہ وہ مسلم لیگ کی طرف نہیں آئے تھے مسلم لیگ ان کی طرف گئی تھی اور وقت نے ثابت کیا کہ وہ مسلم لیگ سے بڑے تھے۔ مسلم لیگ کے کسی اجلاس کی کارروائی دیکھ لیجیے کہیں نہیں ملے گا کہ دوسرے رہنما ان کے موقف میں کوئی تبدیلی لا سکے ہوں۔ یہاں یہ ذکر دلچسپی سےخالی نہ ہو گا کہ بھارت کے سابق وزیرخارجہ جسونت سنگھ محمد علی جناح کی سیاست پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس میں وہ اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ کس طرح کانگریسی قیادت نے جناح کو پاکستان کے مطالبے کی طرف دھکیلا کیونکہ ابتداً وہ پاکستان کے قیام اور تقسیم کے حق میں نہیں تھے۔ اگر جسونت سنگھ ایسا مواد سامنے لانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ بات ان لوگوں کے انتہائی دکھ کا باعث ہو گی جو اب تک تقسیم اور اس میں ہونے والے خون خرابے کی ساری ذمہ داری جناح پر ڈالتے رہے ہیں۔ جہاں تک جناح کے سکیولر ہونے کا تعلق تو انہیں مذہبی قرار دیا جانا بھی کسی طرح سے درست نہیں اسی بنا پر تحریک پاکستان کے دوران مولانا مودودی سمیت کئی علماء کا یہ کہنا تھا کہ جس جماعت کی قیادت ’جناح جیسے آدمی‘ کے ہاتھوں میں ہے اس سے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ لطف کی بات یہ ہے کہ بعد میں انہی کے پیرو کار یہ ثابت کرنے پر تل گئے کے جناح پاکستان کو ایک ایسی مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے جیسی وہ چاہتے ہیں۔
اس کے حق میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ تحریکِ پاکستان میں ’پاکستان کا مطلب کیا؟ کے نعرے بھی لگتے تھے اور محمد علی جناح نے کبھی ان نعروں پر اعتراض نہیں کیا اور دوسری جانب سے اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خود کبھی یہ نعرے نہیں لگوائے۔ پاکستان میں انیس سو ستر کے انتخابات میں سوشلزم اور اسلام کے نعروں کے کشا کش کے دوران پہلی بار جناح کو دائیں بازو نے مسلمان اور بائیں بازو نے سوشلسٹ ثابت کرنے کی کوشش کی جب کہ شاید جناح صاحب کے نہ تو اسلام کی گہرائی اور راسخ العقیدہ مسلمان ہونے سے کوئی دلچسپی اب تک ثابت ہوئی ہے اور نہ ہی سوشلسٹ ہونے سے۔ اب تک کوئی ایسی دستاویز سامنے نہیں آئی جس سے اتنا اشارہ ہی ملتا ہو کہ جناح صاحب کو اسلام سے اس سے زیادہ بھی دلچسپی تھی کہ انہیں جس جماعت کی قیادت دی گئی ہے وہ ایسے لوگوں کے نام پر ایک ملک حاصل کرنا چاہتی ہے جو اسلام کے ماننے والے ہیں اور اسلام کے ماننے والے جہاں اور طرح کے ہوتے ہیں ان کی یعنی خود جناح کی طرح کے بھی ہوتے ہیں۔ محمد علی جناح کے بارے میں جاری تلاش جہاں کہیں بھی ختم ہو گی یقیناً وہاں ہماری ملاقات ایک نئے محمد علی جناح ہوگی اور نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جناح پاکستان کے ان حلقوں کو قابلِ قبول ہوگا یا نہیں جو ہر آدمی پر مرنے کے بعد فرشتہ یا شیطان کا لیبل لگانے کے سوا کوئی کام نہیں جانتے لیکن حقیقت پسندوں کو ایک نئے جناح کے خیر مقدم کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||