BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2003, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جناح پچھلی سیٹ پر

عبدالحئی کا بنگلہ
شاہ عبدالحئی کہتے ہیں کہ محمد علی جناح وعدے اور بات کے بہت پکے تھے اور گفگتو کسی لگی لپٹی کے بغیر کرتے تھے

جنوبی بھارت کے خوبصورت ساحلی شہر اڑپی کے ایک پرسکون بنگلے میں آرام کرسی پر بیٹھے ہوئے نوے برس کے سید شاہ عبدالحئی کو دیکھ کر شاید ہی یہ گمان ہو کہ یہ ضیعف شخص بانئ پاکستان محد علی جناح کی زندگی کے ایک ہنگامہ خیز دور کا چشم دید گواہ ہے۔

محمد علی جناح کے ذاتی ڈرائیور کی حیثیت سے شاہ عبدالحئی نے ان کی سیاسی اٹھان اور بحیثیت ایک کامیاب وکیل ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے عروج کے دور کا قریبی مشاہدہ کیا ہے۔

شاہ عبدالحئی کا تعلق ریاست کرناٹک کے کاپ نامی شہر سے ہے جہاں وہ انیس سو تیرہ میں پیدا ہوئے۔ آج نوے برس بعد وہ اڑپی میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے ہیں۔ مگر درمیانی زندگی کی طویل مدت انہوں نے آج کے ممبئی، خلیج کے ممالک اور لندن میں گزارے ہیں۔

اسی دوران انیس سو جھتیس سے انیس سو چالیس کے درمیان انہوں نے محمد علی جناح کے ڈرائیور کے فرائض انجام دیئے۔ یہی وہ دور تھا جب ماؤنٹ پلیزینٹ رود پر واقع کوٹھی ’ساؤتھ کورٹ‘ میں مقیم محمد علی جناح کو ایک قابل ڈرائیور کی ضرورت تھی۔

عبدالحئی نے ماہانہ مشاہرہ اسی روپے طلب کیا لیکن فاطمہ جناح نے جو اپنے بھائی کی زندگی میں بہت عمل دخل رکھتی تھیں، پینتیس روپے سے زیادہ دینے سے انکار کر دیا۔ عبدالحئی بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ وہیں ختم ہوگیا مگر چند روز بعد محمد علی جناح نے انہیں بلوا بھیجا اور اسی روپے کی شرط مان لی۔

محمد علی جناح کی عادات

 بانئ پاکستان راتوں میں کھانے کے بعد کبھی کبھار ایک آدھ پیگ وائن پی لیا کرتے تھے۔میں نے ان کو کبھی شراب خانے جاتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ وہ مجمع میں شراب نوشی کرتے ہوئے نظر آئے۔ وہ ہمیشہ سوٹ بوٹ اور ٹائی پہنتے تھے، سگار سے ان کو بہت رغبت تھی اور ان کے کپڑے بمبئی کے مشہور درزی لفان کے پاس سلتے تھے

سید شاہ عبدالحئی

عبدالحئی نے بانئ پاکستان اور ان کی بہن کو کچھ سال تک بہت قریب سے دیکھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ ملازم تو بطور ڈرائیور ہوئے تھے لیکن بعد میں محمد علی جناح کے اعتماد کے آدمی بن گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے فرائض میں فون آپریٹر، ریسیپشنسٹ اور کلرک بننا سبھی کچھ شامل ہوگیا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ صرف انہیں اور محمد علی جناح کے متعمدِ خاص مبین الاسلام کو ان سے براہِ راست گفتگو کی اجازت تھی۔ ورنہ ان کی کوٹھی کے بیس رکنی عملے کے دیگر تمام افراد کو فاطمہ جناح کے ذریعے ہی سے جناح صاحب تک رسائی ہوتی تھی۔

عبدالحئی کا کہنا ہے کہ جناح صاحب کے پاس شیور لیٹ، پیکارڈ، لاسالے گراہم پیج اور سن بیم جیسی پانچ قیمتی گاڑیاں تھیں۔ لاسالے جام نگر کے راجہ نے اور پیکارڈ نظام حیدرآباد نے تحفتہً دی تھی۔

محمد علی جناح کی عادات، اطوار اور طبیعت کے بارے میں عبدالحئی بتاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سوٹ بوٹ اور ٹائی پہنتے تھے، سگار سے ان کو بہت رغبت تھی اور ان کے کپڑے بمبئی کے مشہور درزی لفان کے پاس سلتے تھے۔

محمد علی جناح کے مذہبی شعار کے متعلق بتاتے ہوئے ان کے سابق ڈرائیور کہتے ہیں کہ انہوں نے بانئ پاکستان کو عیدین کے علاوہ کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ کبھی کبھار وہ بلیئرڈ بھی کھیلتے تھے۔ وہ ایک بار دہلی کے قیام کے دوران سنیما دیکھنے گئے مگر آدھی فلم دیکھ کر واپس چلنے کو کہا۔

عبدالحئی کے بقول بانئ پاکستان راتوں میں کھانے کے بعد کبھی کبھار ایک آدھ پیگ وائن پی لیا کرتے تھے۔ مگر وہ کہتے ہیں: ’میں نے ان کو کبھی شراب خانے جاتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ وہ مجمع میں شراب نوشی کرتے ہوئے نظر آئے۔‘

تاہم عبدالحئی کو امریکی مصنف سٹینلی وولپرٹ کی اس بات سے انکار ہے کہ بانئ پاکستان سؤر کا گوشت کھاتے تھے۔ ان کے بقول ’یہ سب غلط باتیں ہیں جو ان سے منسوب ہیں۔ میں نے انہیں کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ وہ مغلائی کھانوں کو زیادہ پسند کرتے تھے مگر مغربی طرز کے پکوان بھی شوق سے کھاتے تھے۔ البتہ انہیں زمین کی بجائے کرسی پر بیٹھ کر کھانے کی عادت تھی۔‘

بانئ پاکستان ہر جگہ انگریزی کو ترجیح دیتے تھے اور اردو نہیں پڑھ سکتے تھے۔ انیس سو چالیس تک انہوں نے کبھی مسلم لیگ کا پرچم اپنی کار پر لگانا پسند نہیں کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وہ پاکستان حاصل نہیں کر لیتے پرچم نہیں لگائیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ جناح صاحب بہت متوازن مزاج، سلیقہ مند اور صاف گو انسان تھے۔ وہ بات چیت بے لاگ و لپیٹ کیا کرتے تھے۔ ان کی کوٹھی میں بیس ملازم تھے جن میں ہندو اور مسلم دونوں ہی شامل تھے لیکن انہوں نے کسی کے ساتھ کبھی کوئی امتیاز نہیں برتا۔ وہ وقت اور وعدے کی پابندی کا بڑا لحاظ رکھتے تھےہ۔

شاہ عبدالحئی اور بانئ پاکستان
محمد علی جناح کے ذاتی ڈرائیور کی حیثیت سے شاہ عبدالحئی نے ان کی سیاسی اٹھان اور بحیثیت ایک کامیاب وکیل ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے عروج کے دور کا قریبی مشاہدہ کیا ہے

ان کے دوستوں کے بارے میں عبدالحئی بتاتے ہیں کہ بمبئی میں ان کی کوٹھی میں آنے جانے والوں میں بہادر یار جنگ، لیاقت علی خان، راجہ صاحب آف محمود آباد، نواب اسماعیل خان اور عبدالرب نشتر شامل تھے۔ کئی بار مولانا شوکت علی خان بھی ان سے ملنے آئے۔ اور اپنی ملازمت کے چار سال میں عبدالحئی نے دیکھا کہ گاندھی جی دو مرتبہ محمد علی جناح سے ملنے آئے اور دونوں کی ملاقات بند کمرے میں ہوئی۔

بانئ پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کے بارے میں عبدالحئی بتاتے ہیں کہ وہ متلون مزاج خاتون تھیں۔ بنیادی طور پر بمبئی میں ڈینٹل سرجن تھیں۔ کوئی خادم چار ماہ سے زیادہ عرصہ ان کے پاس نہیں رہا کیونکہ وہ برخواست کردیا کرتا تھا۔

عبدالحئی کے کہنا ہے ’فاطمہ جناح ہمیشہ دینا (جناح صاحب کی صاحبزادی) پر نظر رکھتی تھیں جو دینا کو ناگوار گزرتا تھا۔ ایک بار میں فاطمہ جناح کو کسی کام کے لئے باہر لے جا رہا تھا تو دینا بھی اسی کار میں بیٹھ گئیں۔ ہم کوٹھی سے باہر نکلے تو فاطمہ جناح نے دینا کو کار سے اتروا دیا اور ٹیکسی لینے کو کہا۔ میرا خیال ہے کہ دینا نے فاطمہ جناح کے سلوک سے بے زار ہو کر دوبارہ اپنے آبائی پارسی مذہب اور اپنے طبقے میں لوٹنے کو ترجیح دی۔ دینا کی شادی بیرسٹر علی اکبر سے طے ہوئی تھی لیکن میرے خیال میں یہ فاطمہ جناح کی وجہ سے ٹوٹی گئی۔‘

ان کے بقول فاطمہ اکثر نو پارکنگ زون میں کار رکوا دیتیں اور انہیں اس وجہ سے پولیس کی ڈانٹ سننی پڑتی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد