جناح: بھارت کی نظرمیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیادہ تر لوگوں کی نظر میں محمد علی جناح ملک کی مذہبی بنیادوں پر خونریز تقسیم کے معمار ہیں۔ اسی لیے جب مرکزی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے اڈوانی نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کے بانی کو ایک ’سیکولر‘ لیڈر کے طور پر سراہا تو اس سے اڈوانی صاحب کے ہندو قوم پرست ساتھیوں اور حکمران کانگریس پارٹی، دونوں نے آستینیں چڑھانا شروع کر دیں۔ سخت ہندؤانہ خیالات رکھنے والے ایک لیڈر نےتوجناح کی تعریف کرنے پر اڈوانی صاحب پر بغاوت کا الزام بھی لگادیا ہے۔’ مسٹر جناح غدار تھے، غدار ہیں اور غدار رہیں گے اور جوان کی تعریف کرتا ہے وہ بھی غدار ہے‘ وشوا ہندو پریشاد کے پراوین توگڈیا نے پرزور طریقے سے کہا۔ بھارت کی قدیم جماعت کانگریس نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جناح کے سیکولرازم کا مقابلہ انڈیا کی تحریک آزادی کے سیکولرازم سے نہیں کیا جا سکتا۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشک سِنگھوی کے بقول ’یہ بات سر تا سر مضحکہ خیز اور حیرت انگیز ہے کہ مسٹر اڈوانی ، مسٹر جناح کو سیکولر سمجھتے ہیں۔‘ جناح کی زبردست تعریف سے شروع ہونے والے غبار کے درمیان اڈوانی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈرشپ سے بھی استعفٰی دے دیا ہے۔ مسٹر جناح، جنہیں عقیدت سے پاکستان میں قائد اعظم (عظیم رہنما) کہا جاتا ہے، کے بارے میں بھارت میں جو رویہ پایا جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ پاکستان کے بانی اور اس کے بنائے ہوئے ملک کو ماننے کے بارے میں ہچکچاہٹ ہے۔ ابھی اس بات کو ایک سال ہی ہوا ہے کہ ان دو جوہری ہمسایوں نے امن کی جانب قدم بڑھائے ہیں اور وہ بھی تین جنگوں کے بعد۔ بھارت میں اس خیال کو تقویت حاصل ہے کہ مسٹرجناح وہ سازشی کردار تھے جنہوں نے برطانیہ کے ساتھ مل کر تقسیم ہند کرائی۔ سیاسیات کے فلاسفر پرتاپ بھانو مہتا کے بقول ’ہم جناح کو ایک اہم تاریخی شخصیت ماننے کے لیے بالکل تیارنہیں ہیں۔‘
انڈیامیں آزادی کی جدوجہد کے مشہور تذکرات میں جناح کے کردار کو مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو کے مقابلےمیں کم تر دکھایا جاتا ہے۔ مسٹر جناح کوایک ضدی ولن کے طور پر دکھایا جاتا ہے جبکہ مسٹر گاندھی اور مسٹر نہرو کو سچے رہنما کے طور پر۔ تاریخ دان اکبراحمد اپنی کتاب ’جناح، پاکستان اور اسلامی شناخت‘ میں لکھتے ہیں ’مسٹر جناح کو یا تو نظرانداز کیا جاتا ہے (جیسا کے فلم گاندھی میں) اور یا ایک ایسے خود پسند مہم جُو کے روپ میں دکھایا جاتا ہے جو انڈیا کی تقسیم پر تُلا ہوا تھا۔‘ لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے لیکن یہ بات ماننے کے لیے بھارتی لوگ تیار نہیں۔ 1913 میں مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد وکٹورین آداب کے حامل اورمغرب زدہ مسلمان مسٹر جناح نے خود کو ایک پکے لبرل کے طور پر پیش کیا، ایک ایسا لبرل جو تعلیم،قانون کی پاسداری اور جمہوریت میں یقین رکھتا ہو۔ اپنی سیاسی زندگی کے پہلے بیس سالوں میں انہیں ایک سیکولر سیاست دان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 1925 کے بعد جناح، مہاتما گاندھی سے ان کی تحریک آزادی کی حکمت عملی سے اختلافات کے باعث الگ ہوتے گئے۔ اور اس کے بہت عرصہ بعد، یعنی 1940 میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبہ کا اعلان کیا۔ برطانوی تاریخ دان پیٹرک فرنچ کہتے ہیں کہ مسٹر جناح ’اپنی وفات تک ایک قسم کے سیکولر شخص رہے ہیں، لیکن بعض اوقات انہوں نے مذہبی منافرت کو سیاسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا تھا۔‘ مسٹر فرنچ کے خیال میں تقسیم ہند کے بعد جناح نےایک ایسے لبرل اور جمہوری ملک کا تصور دیا جو کہ مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہو۔ ’ان کا تصور پاکستان مسلمانوں کےایک ایسے ملک کا تھاکہ جہاں مسلمان آزادی سے آ جا سکیں۔ وہ اسے کبھی بھی ایک مذہبی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے اور وہ پر امید تھے کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ زندہ رہے گا۔‘ لیکن نوآزاد پاکستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد جناح نے لبرل لوگوں کوحیرت میں ضرور ڈال دیا تھا۔ مثلاً ملک کی بڑی بنگالی آبادی کی خواہشات کے برعکس انہوں نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1947 میں قبائلیوں کے کشمیر میں گھس جانے کی بھی حمایت کی جس کے نتیجہ میں کشمیر پر پہلی جنگ ہوئی۔ تجزیہ نگار مہیش رنگراجن کے مطابق ’جناح گاندھی کے لبرل ازم سے پہلے والے لبرل تھے۔ وہ کبھی بھی عوامی جدوجہد کے ایک جمہوری رہنما نہیں تھے۔‘ بھارت میں جناح کی ایک ولن کی شہرت ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ برصغیر کی تقسیم کا واحد ذمہ دار جناح اور ان کی جماعت کوسمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں جس بات کو جان بوجھ کر بھلا دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی راج کی پالیسی ہی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی رہی ہے اور یہ کہ برطانوی راج نےمذہبی تفرقات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔ اس کے علاوہ آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں ملک کی تقسیم میں بیجا تیزی بھی دکھائی تھی جس کی قیمت لوگوں میں ہم آہنگی کے خاتمہ کی صورت میں ادا کرنا پڑی تھی۔ مسلمان سکالر مولانا آزاد نے تقسیم ہند کی مخالفت کی تھی جبکہ مولانا حسین احمد مدنی نے ’دو قومی نظریے‘ کی مخالفت خالص مذہبی بنیادوں پر کی تھی۔ اس بارے میں انڈین تاریخ دان اصغرعلی انجینئر کا کہنا ہے ’علیحدگی پسندی کی تحریک کی رہنمائی آخر کار ایک مغرب زدہ جناح کے ہاتھ آئی۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ تقسیم کا ذمہ دار مذہب نہیں بلکہ سیاست تھی۔‘ اصغر علی نے مزید کہا ’ یہ سچ ہے کہ جناح نے ہی تحریک میں جان ڈالی اور مسلمانوں کے اشرافیہ، خاص طور پر اقلیتی علاقوں میں مسلمان اشرافیہ کی خواہشات کو زبان دی۔‘ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ مسٹرجناح کی تعریف کرنے میں مسٹراڈوانی کی سیاسی حکمت عملی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ وہ ایک علاقائی لیڈر کی بجائے ملکی سطح کا ایک لیڈر بننا چاہتے ہیں اور تاریخ میں اپنے بارے میں بہت اچھا تاثر چھوڑنا چاہتے ہیں۔
ایک طرح سے مسٹر اڈوانی وہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے قدرے کامیابی سے کر لیا تھا۔۔یعنی انڈیا کےغیر ہندو حلقوں کی حمایت حاصل کرنا۔ لیکن مہیش رنگراجن کہتے ہیں کہ’ مسٹر اڈوانی کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوگا کیونکہ وہ اپنے ماضی سے اتنی آسانی سےدامن نہیں چھڑا سکتے۔‘ مہیش رنگراجن کا اشارہ 1990 کی دھائی کے شروع میں مسٹر اڈوانی کی اس ’رتھ یاترا‘ سے ہے جس کے دوران انہوں نے لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا جس کا نتیجہ بابری مسجد کے انہدام کی صورت میں نکلا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||