اڈوانی نے استعفیٰ دے دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا دورہ مکمل کر کے بھارت پہنچنے کے ایک دن بعد بی جے پی کےصدر لال کرش اڈوانی نے پارٹی میں شدید اختلافات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ مسٹر اڈوانی نے اپنے پاکستان دورے پر بابری مسجد اور بانی پاکستان محمد علی جناح کے متعلق جو بیانات دیے تھے اس کے سبب کافی تنازعہ ہوا ہے ۔ بی جے پی کے علاوہ اسکی حلیف تنظیمیں آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد ان سے وہ بیان واپس لینے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ منگل کے روز مسٹر اڈوانی نے پارٹی کے جنرل سکریٹری سنجے جوشی کو اپنے گھر پر بلا کر انہیں اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جسے واپس لیا جائے۔ بعض خبروں کے مطابق مسٹر اڈوانی نے پاکستان میں ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ دلی میں بی جے پی کے تمام سینئر رہنماء انہیں منانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اس سے قبل سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے مسٹر اڈوانی کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کہی ہے۔ بی جے پی کے صدر نے حال ہی میں اپنے پاکستان دورے کے دوران کہا تھا کہ انہیں بابری مسجد کے انہدام پر افسوس ہے اور یہ کہ بانیِ پاکستان محمد علی جناح سیکولر ذہنیت کے مالک تھے۔ روایتی طور پر بی جے پی ملک کی تقسیم کا ذمہ دار مسٹر جناح کو بتاتی آئی ہے۔ اسی بیان کے حوالے سے بی جے پی کی حلیف ہندو تنظیمیں اور کچھ بی جے پی لیڈر اڈوانی پر کڑی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||