اڈوانی خاندان ماضی کی گلیوں میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ ایل کے اڈوانی کے پاکستان کے دورے کے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں لیکن ان کے بچوں اپنے والد اور والدہ کے بچپن کا دیس دیکھنا چاہتے تھے۔ والدین کے جائے پیدائش اور دیگر مقامات میں ان کی زیادہ دلچسپی نظر آئی۔ ان کے اہل خانہ ایک بار پھر پاکستان آنا چاہتے ہیں۔
بیگم اڈوانی کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔ بیگم کملا اڈوانی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سولہ برس کی تھیں جب یہاں سےگئیں۔ وہ ہندوگرلز اسکول میں پڑھتی تھیں۔ کملا اڈوانی کا کہنا تھا کہ وہ بٹوارے کی وجہ سے یہاں سےگئے تھےاور ان کا جانے کا فیصلہ درست تھا۔ بیگم اڈوانی نے بتایا کہ حیدرآباد، سکھر، روہڑی دیکھا ہوا ہے۔ لیکن انہیں دوبارہ دیکھنے کی خواہش ہے۔ اسکول کے زمانے میں ان کی مسلمان سہیلیاں بھی تھیں مگر اب ان کو ان کے نام یاد نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ جائے پیدایش پر واپس آنا اچھا لگ رہا ہے اور دونوں ممالک میں تعلقات مزید بہتر ہونے چاہیں۔
جئے انت نے کہا کہ وہ اس سے قبل بھی آنا چاہتےتھے مگر حالات کی وجہ سے نہیں آسکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ عرصہ قبل کراچی میں پاک بھارت کرکٹ میچ کے موقع پر بھی آنا چاہتے تھے۔ ’اب صورتحال بہتر ہے اور حالات بھی بہتر ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ اڈوانی کی بیٹی پرتیبیا بھارتی ٹی وی چینلز گھومتا آئینہ اور دوسرے پروگراموں کی میزبان ہیں۔ وہ اپنے والد کے ہر پروگرام کی ریکارڈنگ میں مصروف تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آکر بہت اچھا محسوس ہورہا ہے۔ وہ کوشش کرینگی کہ ان مقامات پر جائیں جہاں ان کے والد کا بچپن اور جوانی گذرے ہیں۔
ایل کے اڈوانی خود بھی دوبارہ پاکستان آنے کے خواہشمند ہیں۔ اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے کہا کہ جب بھی دوبارہ آئیں گے تو ہالہ ضرور جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||