BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 June, 2005, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے بس اڈوانی

ایل کے اڈوانی
ایل کے اڈوانی کراچی میں محمد علی جناح کے مزار پر۔
لال کرشن اڈوانی کے استعفی کے معاملے کا اگر جائزہ لیا جائے تو نظروں کے سامنے مستقبل میں ہندوستانی سیاست کی ایک بگڑی ہوئی تصویر آتی ہے۔

دنیا کا بڑے سے بڑا ماہر بھی آج سے ایک ہفتے قبل یہ پیشین گوئی نہیں کر سکتا تھا کہ اڈوانی کا دورہِ پاکستان انکی پارٹی کے صدر کےعہدے سے روانگی کی وجہ بنےگا۔ اڈوانی نے اپنے دورہِ پاکستان کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کی تعریف کی تھی اور ساتھ ہی موجودہ سیاسی جماعتوں کے سامنے ایک ’لبرل‘ رہنما کے طور پر آکر اپنی شبیہ یا امیج بدلنے کی کوشش کی تھی۔

یہ بات سبھی کی سوچ سے باہر تھی کا دائیں بازو کی جماعت اور سخت گیر ہندو مذہب کی حمایت کرنے والے لال کرشن اڈوانی کو ایک روز مسلمانوں کے حق میں نہ صحیح لیکن ان کو خوش کرنے کے لئے بی جے پی صدر کی کرسی چھوڑنی پڑےگی۔

یہ وہی شخص ہے جو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں رام رتھ پر سوار ہوا تھا اور وہاں رام مندر کی تعمیرکے حق میں ایک مہم چلائی تھی۔ اسی کے بعد 6دسمبر 1992 کے روز جب بابری مسجد کو منہدم کیا گیاتھا تو اس وقت لال کرشن اڈوانی وہاں موجود تھے۔

بحث اس بات پر نہیں ہے کہ اڈوانی کا محمد علی جناح کو ایک سکیولر رہنما کہنا صحیح ہے یا غلط۔ لیکن خاص بات یہ ہے کہ انکے اس بیان نے ہندوستان کی سیاسی جماعتوں ميں ایک زبردست ہلچل پیدا کر دی ہے ۔ انکے بیان کے سبب آر ایس ایس ، وی ایچ پی ، بجرنگ دل جیسی تنظیموں میں ہی نہیں بلکہ کانگریس بھی انکو کوسنے سے پیچھے نہیں رہی۔

ان تمام حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ہندوستان کی سیاسی جماعتیں ایسی غیر معتدل ہو گئی ہیں کہ انہیں زرا سی نا اتفافی برداشت نہیں ہے؟

اس کا جواب ہے۔ بالکل نہیں۔ آر ایس ایس اور ان سے جڑی ہوئی تنظیمیں پہلے ہی سے اڈوانی سے تنگ آچکی تھیں۔ انکا ماننا تھا کہ وزير ا‏عظم کے عہدے کی خاطر اڈوانی ’ہنددتوا‘ کے فلسفے سے پیچھے ہٹ رہے ہيں۔ ان خیالات کا پتہ اسی وقت چل گیا تھا جب چند مہینے قبل آر ایس ايس کے صدر کے سدرشن نے بی جے پی میں نوجوانوں کی ’لیڈرشپ‘ کی حمایت کی تھی۔ اور اب اڈوانی کے اس بیان نے انہیں اپنی مہم تیز کرنے کا ایک نیا بہانہ دے دیا۔

دوسری جانب اڈوانی بھی موقع کی نزاکت سمجھ رہے تھے اور انکے سامنے تصویر تب بالکل صاف ہوگئی جب انہوں نے دیکھا کہ جناح کے معاملے میں ہوئے شور شرابے پر بی جے پی کا ایک بھی رہنما انکی وکالت میں کھڑا نہیں ہوا۔

لہٰذا اڈوانی جی کے سامنے دو ہی راستے تھے۔ یا تو وہ معافی مانگتے اور اپنا بیان واپس لیتے یا پھر ایک اعتدال پسندی کی شبیہ کی خاطر اور تاریخ میں اپنی ایک خاص جگہ بنانے کے لیے ’شہادت‘ قبول کرتے۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

جہاں تک کانگریس کا سوال ہے اس نے اس معاملے سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ اڈوانی پر نکتہ چینی بھی کی اور ایسے ہندو راۓ دہندگان تک اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں کامیاب بھی ہوئی جو اڈوانی کے خیال سے اتفاق نہیں رکھتے۔

کل ملا کر اڈوانی جی کی آج کی حالت پر اور ان پر ترس آرہا ہے۔ لیکن کچھ حد تک موجودہ حالات کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ نا وہ سخت گیر ہندوتوا کی سیاست کرتے اور نا انہیں اپنی شبیہ بدلنے کی ضرورت پڑتی۔ اور نا ہی انکی یہ حالت ہوتی۔

66آپ کی رائے
ایل کے اڈوانی کا بیان اور استعفیٰ
66اڈوانی: دورۂ پاکستان
’یہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش ہفتہ تھا‘
66تاریخی جبر کا اسیر
جنکاجانابھی تاریخ کاجبر تھااورآنابھی: حسن مجتبیٰ
66بابری مسجد تا کٹاس
اڈوانی’ڈیمولیشن مین‘ سے تعمیرکی سمت
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد