’میری زندگی کا ناقابلِ فراموش ہفتہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کے رہنما اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر لعل کرشن اڈوانی نے پاکستان کے دورے سے واپسی کے بعد پھر کہا ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح سیکولرزم پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان کے کافی تذکرے ہو رہے ہیں اوراس پر بحث ہونی چاہیے۔ لیکن کئی سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیموں نے مسٹر اڈوانی کے اس بیان پر شدید اعتراض کیا ہے۔ ایک ہفتے کے پاکستان دورے کی واپسی پر اڈوانی کے استقبال کے لیے ائر پورٹ پر پارٹی کے کئی سینئر رہنماجمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مسٹر اڈوانی نے کہا ’میں نے کوئی تحریری بیان نہیں دیا تھا۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ اس بیان پر بحث چھڑ گئي ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔ یہ تو اچھی بات ہے اس پر بحث ہونی چاہیے‘۔ مسٹر اڈوانی نے ائر پور پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستا اور بھارت کا الگ خودمختار اقوام بننا تاریخ کی پلٹائی نے جا سکنے والی حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیش اور حکومت کے مابین اختلاف جیسے بھی ہوں پاکستان اور بھارت کے عوام کے حق میں یہی بہتر ہے کہ لڑائی اور کشیدگی کے دنوں کو ماضی کا باب بنا دیا جائے۔ کراچی کے پیدائشی اڈوانی نے جو اس دورے کو ماضی پرستی کہتے تھے اب ’جذباتیت کی پُرحرارت محسوسات‘ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ میری زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش ہفتہ تھا‘ مسٹر اڈوانی نے اپنے پاکستانی دورے پر ایک بیان میں بابری مسجد کے انہدام پر بھی افسوس ظاہر کیا تھا۔ لیکن اس پورے معاملے پر بی جے پی کی نظریاتی تنظمیں وشو ہندو پرشید اور آر ایس ایس نے اڈوانی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ ائرپورٹ پر مسٹر اڈوانی کی مخالفت میں ہندو جاگرن منچ نامی ایک تنظیم نے ایک پوسٹر لگا رکھا تھا جس میں لکھا تھا’جناح کے سمرتھک (حامی) پاکستان کے پریمی (ہمدرد) اڈوانی پاکستان واپس جاؤ‘۔ گزشتہ روز اسی معاملے پر وشوہندو پریشد کے سکریٹری پروین توگڑیا نے اڈوانی کو غدار کہا تھا۔ مسٹر اڈوانی کا تشخص ایک سخت گیر ہندو رہنما کا ہے لیکن پاکستان کے دورے کے دوران انہوں نے خود کو ایک اعتدال پسند لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس پر ہندوستان میں ان کی پارٹی اور دیگر نظریاتی تنظیمیں پاکستان میں ان کے بیانات کے حوالے سے شدید ناراض ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اڈوانی اپنے آپ کو ایک اعتدال پسند رہنما اس لیے پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ این ڈی اے کی دیگر حلیف جماعتوں میں مسٹر واجپئی کی طرح مقبول ہوجائیں۔ نئی دلی میں بعض سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب بی جے پی کے پاس اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ میانہ روی اخیار کرے لیکن مسٹر ادوانی کے لیے یہ راستہ ایک بڑا چيلنج ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||