پاکستان کھجور سے کب اترے گا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں جا بسی، عورتوں اور گے حقوق کی علم بردار ہماری ایک دوست نے کل رات میری طرف سے پاکستان کے یوم آزادی پر مبارکباد کے پیغام کے جواب میں کہا: ’یہ تمہارا پاکستان کھجور سے کب اترے گا؟‘ میں نے پوچھا کیا مطلب؟ کہنے لگیں ’اب تمہاری اردو اتنی گئی گزری بھی نہیں ہے کہ میری بات نہ سمجھ سکو۔ انگریزوں اور ہندوؤں سے تو آزادی مل گئی، اب ان فوجیوں سے کب ملے گی اور ان سے مل گئی تو سیاسی چوروں اور اچکوں سے کب ملے گی‘ ۔ سچ پوچھیں تو سوچتا تو میں بھی یہی ہوں لیکن جب کوئی ملک سے باہر بیٹھ کر یہ بات کہتا ہے تو پتہ نہیں کیوں دل چاہتا ہے کہ اس بات کی مزاحمت کی جائے۔ میں نے فوراً جوابی حملہ کیا’یہ سارے فتنے تمہارے ہی ثانوی وطن کے پالتو ہیں۔ہم تو لینےمیں نہ دینے میں، صرف فصل کاٹنے میں ہیں۔ جیسے کہ انور شعور نے کہا ہے: ’جرم آدم نے کیا اور نسلِ آدم کو سزا انہوں نے فوراً اعتراف کر لیا اور اس کے ساتھ وجودی فکر کا سہارا لیتے ہوئے کہا ’ تم اس کے ذمہ دار تو نہیں ہو؟‘ ’میں یہ کب کہہ رہا ہوں، میں ہی ہوں لیکن اس میں بہت سارے اگر مگر ہیں‘۔
’خیر جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو یہ سمجھتی ہوں پاکستان میں عورتوں کی آزادی کا دن ابھی بہت دور ہے جس دن وہ آیا اور تم زندہ ہوئے اور تم نے مبارکباد دینا پسند کی تو قبول کر لوں گی۔‘ ’ کیا عورتوں کی آزادی مردوں کی آزادی سے کوئی الگ چیز ہے؟‘ میں فوراً پوچھتا ہوں۔ انہوں نے فوراً پھٹکارا اور بولیں ’پہلے پاکستان کو فوجیوں سے آزادی ملے گی پھر جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ سیاست آئے گی اور اگر لوگ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارنہ سیاست ختم کرانے میں کامیاب ہوئے تو جمہوریت آئے گی اور اس کے بعد مردوں کی آزادی شروع ہو گی اور پھر صدیوں کی ماری ہوئی عورت اپنی آزادی کی بات شروع کرنے کی کوشش کرے گی‘۔ ان کے کہنے کے مطابق ’پاکستانی، ہندوستانی، افغانی، بنگالی اور یہاں تک کہ ایرانی عورت کی آزادی کی منزل بہت دور ہے‘۔ اس کے ساتھ ہی میری دوست کا پُرجوش خطاب شروع ہو گیا’ کیا کرتی ہے آپ کے ملک میں عورت؟ میری ماں ایک پڑھی لکھی عورت تھی۔ اس نے ساری عمر نوکری بھی کی، میرے باپ کی جنسی خواہش بھی پوری کرتی رہی۔ جب تک معاشی حالات ملازمہ رکھنے کے قابل نہیں ہوئے گھر کی نوکرانی بھی وہی تھی۔ اس کے بعد اس نے بیٹے اور اس کے بچوں کی نوکرانی کا بھی کام کیا اور جب بھی میں ان سے پوچھا کہ انہوں نے بھی کبھی ابّا سے جنسی خواہش کا اظہار کیا ہے؟ یا انہیں بھی برابری سے جنسی عمل کا لطف محسوس ہوا ہے؟ یا ان کے بھی شادی سے پہلے یا شادی کے بعد کسی سے جنسی تعلقات رہے ہیں، جیسے میرے اباّ کے تھے اور شاید اب بھی ہیں تو انہوں نے مجھے گالیوں سے نواز کر پھٹکار دیا اور کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ مجھے پتہ ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہو گا۔ وہ تو شاید کبھی بھرپور انزال سے بھی آشنا نہیں ہوئی ہو گی۔ وہ بے وقوف عورت ایک مشین کی طرح استعمال ہوتی رہی۔ جب میرا باپ کہیں جنسی خواہش پوری نہ کر سکتا تو مفت کی عورت کو جگا لیا۔ اسے تو کپڑوں لتوں میں بھی بھائیوں اور بیٹوں کا دھیان رکھنا پڑتا تھا۔ ہر وقت یہ کیا سوچے گا، وہ کیا سوچے گا، میرا تو یاد کر کے بھی دم گھٹتا ہے۔ لیکن مجھے پتہ ہے وہاں یہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ میں اب پینتیس کی ہونے والی ہوں اور پاکستان پچاس سے اوپر کا ہو گیا ہے لیکن آگے کی بجائے پیچھے گیا ہے۔‘ ’کیا بکواس ہے۔ کیا تم نے میرے زخم کریدنے کے لیے بات شروع کی تھی‘۔ ’نہیں، نہیں، میں معافی چاہتا ہوں۔ میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ میں تمہاری ، نہیں آپ کی، بہت سی باتوں سے متفق ہوں ‘۔
اس کے بعد دوسری باتیں شروع ہوئیں اور ختم ہو گئیں۔ اور میں سوچتا رہ گیا۔ گزری تو میری ماں کے ساتھ بھی یہی تھی اور شاید میری بیوی بھی اسی سے گزر رہی ہے۔ خدا میری بیٹیوں پر رحم کرے اور انہیں کسی چودہ اگست پر اس طرح کے خیالوں اور یادوں سے نہ گزرنا پڑے جن سے میری دوست شاید ہر سال گزرتی ہے۔ آئیے دعا کریں کہ خدا پاکستان کو ایک انسانی معاشرہ بنائے۔ ایک ایسا انسانی معاشرہ جو نہ صرف امریکہ، مغربی استعمار اور فوج سے آزاد ہو بلکہ طبقاتی اور صنفی امتیاز سے بھی آزاد ہو۔ مجھے پتہ ہے کہ بہت سے لوگ کہیں گے کہ یہ کام بھی میں خدا پر ڈال رہا ہوں اور اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہوں لیکن کیا کریں جب تک خدادار ہیں خدا سے کہیں گے جس دن اس سے بھی آزاد ہوگئے تو پھر، پھر تو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||