BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 April, 2005, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساٹھ سال کی شاعری

News image
ابھی اردو کانفرنس کے اور موضوعات کا حال باقی ہے لیکن اس دوران ہمارے علی احمد خان صاحب نے ادیب سہیل کی کتاب ’کچھ ایسی نظمیں ہوتی ہیں‘ فراہم کر دی اور میں سب بھول کر اسے پڑھنے میں لگ گیا۔ یہ کتاب ختم کی ہی تھی کہ سرمد صہبائی لندن وارد ہو گئے لیکن پہلے ادیب سہیل کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ذہن میں ان کی کتاب پڑھنے سے پیدا ہونے اور اب تک کلبلاتے رہنے والے سوال دب جائیں۔

آپ میں سے بہت سے ادیب سہیل کو جانتے ہوں گے لیکن بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو انہیں نہ جانتے ہوں، ان کی سہولت کے لیے ان کا تھوڑا سا تعارف کرادوں۔

وہ 22 جون 1927 کو بہار میں ضلع مونگیرکے موضع چوار کے حکیم سید عبدالرشید کے ہاں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم انگریزی اور فارسی کی بہار ہی میں حاصل کی اور پھر کلکتہ چلے گئے۔ شاعری کلکتہ جانے سے پہلے ہی شروع کر دی اور اب شعر گوئی کو چھ دہائیاں یعنی ساٹھ سال ہونے کو آ رہے ہیں۔

یہ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے ایک مجموعہ ’بکھراؤ کا حرفِ آخر‘ کے نام سے آ چکا ہے۔انہوں نے اپنی ایک خود نوشت ’غمِ زمانہ بھی سہل گزرا‘ کے نام سے لکھی ہے۔

ریلوے میں ان کے ملازمت اور انجمن ترقی اردو سے وابستگی روزگار کا وسیلہ بھی رہیں۔ انہیں موسیقی کے رموز پر ہی نہیں ستار پر بھی دسترس ہے اور یہ دسترس بمعنی شوق نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نےایک طویل عرصہ ناظم حکمت نظموں کے ساتھ گزارا، نیرودا، بیکٹ، لورکا، اوکتاویو پاز اور نجیب محفوظ کے تراجم کیے اور ایرن کریمر اور گریگوری کورسو سے اردو کو متعارف کرایا۔

News image
ادیب سہیل
انہوں نے اردو میں موسیقی پر وہ مضمون لکھے ہیں جو کسی اور نے نہیں لکھے۔ سازوں کے ماضی اور حال کے بارے میں ان کے لکھے ہوئے پروگرام سال بھر تک پاکستان ٹی وی سے چلتے رہے وہ برصغیر میں موسیقی کے اساتذہ کے بارے میں بھی ایسی ہی جانتے ہیں جیسے اپنے بارے میں۔

ان کا جن لوگوں سے ملنا ملانا رہا ہے ان کے تفصیل میں گیا تو پچھلے ساٹھ سال میں اردو کی ادبی تاریخ کا پورا حال آ جائے گا۔

اب آپ کسی حد تک ادیب سہیل کو جان گئے ہوں گے لیکن ان سب باتوں کے ساتھ مجھے دلچسپی اس بات سے زیادہ ہے کہ میں نے اس آدمی سے ملاقات کی ہے جسے میں بھی ایک عرصے سے جانتا ہوں، آمنا سامنا بھی ہوا ہے لیکن کبھی بحث مباحثے اور دو بدو ہونے کی کیفیت نہیں ہوئی۔ اب جو ملاقات ہوئی ہے تو وہ بھی یک طرفہ وہ شعر سنا رہے تھے اور میں سن رہا تھا۔ جو میں کہتا وہ انہیں سنائی نہ دیتا۔میں نہ تو بات اٹھا سکتا تھا اور نہ ہی سوال کر سکتا تھا۔ پورا ہفتہ اسی میں گزرا۔ کتاب پر اتنے نشان لگ گئے اور نوٹ لکھ ڈالے کہ خان صاحب سے کہہ دیا کہ اب یہ کتاب آپ کے کسی کام کی نہیں اسے بھول جائیے اور انہوں نے بھی اس کی اجازت دے دی۔

لیکن بات یہ نہیں ہے۔ میں سوچتا ہوں جس آدمی نے وہ دن دیکھے ہوں جب برصغیر پر کمپنی کی حکومت اور گورا شاہی تھی، جس نے وہ وقت دیکھا ہو، جس میں لوگ ان جگہوں کو چھوڑ کر ادھر سے ادھر ہو رہے تھے جنہیں انہوں نے اور ان کے پُرکھوں نے انگریز نوآبادیاتی دور میں بھی نہیں چھوڑا تھا، جو مشرقی پاکستان میں بسا ہو،اسے اپنا کرنے کی کوشش کی ہو اور پھر ایک ترقی پسند ہوتے ہوئے اسے بنگلہ دیش بنتے ہوئے دیکھا ہو اور پھر مغربی پاکستان نقلِ مکانی کی ہو اور دونوں بار اپنے پیاروں اور یاروں کو مرتے کٹتے اور بچھڑتے ہوئے دیکھا ہو، اس آدمی، اس ادمی کا وژن کیسا ہو گا؟ اسے دنیا کیسی لگتی ہو گی؟

ایک ہی زمین کے کئی خطوں کا، بنگال کے ادھر اور اُدھر کے دانشوروں اور شاعروں کے ساتھ رہنے کا تجربہ اور اس سارے عرصے میں کسی نہ کسی طرح ادب ہی سے وابستگی، ان باتوں نے مجھے بہت اکسایا اور میں ان کی ہر نظم کو غور سے پڑھتا رہا۔

ان کی کئی نظموں کو پڑھتے ہوئے مجھے ایک نظم بار بار یاد آتی رہی جس کا عنوان ’میری مختصر نظم‘ تھا۔ یہ نظم کس کی تھی؟ بہت یاد کیا، یانس رتسوس کی یا پولش شاعر تادیوش روزے وچ کی۔ ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی لیکن بے سود، نہ اپنا کیا ہوا اردو ترجمہ ہاتھ آیا نہ انگریزی متن ملا لیکن یہ یاد ہے وہ مختصر نظم کہنے کی کوشش پر تھی اور اس میں پھیلاؤ پر قابو نہ پا سکنے کی بے بسی تھی۔

دیکھئے میں اس سے پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ مجھے اس بات پر ایمان سا یقین ہے کہ ادب میں صرف اچھا ہی نہیں بہت اچھا ہی باقی رہتا ہے، خراب اور ناکام تو خود بخود چھٹ جاتا ہے۔ کسی بھی زبان کی تاریخ پر نظر ڈال لیں ادبی تاریخ مخروطی شکل میں اوپر اٹھتی ہے۔ بہترین اوپر سے اوپر سے اوپر آتا جاتا ہے اور چھٹ تل میں جاتا رہتا ہے۔ کسی بھی نقاد کی زور آور یا مبصر کی محبت اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی ورنہ ہمارے محترم فراق گورکھپوری صاحب نے اپنے پیارے والد کو شاعر منوانے میں کیا زور نہیں مارا لیکن پتہ چلا کہ فیض صاحب، فراق ہی کو کھا گئے اور اردو کی تکونی مخروط پر ایک رخ سے میر، ایک رخ سے غالب اور ایک رخ سے اقبال سب سے اوپر دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ کہیں کہ غالب سب سے اوپر ہیں تو اس سے میر یا اقبال نیچے نہیں ہوتے بلکہ یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ مخروط کو کس رخ سے دیکھ رہیں۔ ان تین بڑوں سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو فیض ہی دکھائی دیں گے اور اس کے بعد اب منیر نیازی اور یہ منیر نیازی کے بارے میں میرا دعویٰ ہے۔ باقی منتظر حضرات سے معذرت کے ساتھ۔ اس میں تبدیلی لانے کا وقت اب ان کے پاس نہیں رہا کیونکہ فی الحال اردو میں دور دور تک اور کوئی مکمل شاعر دکھائی نہیں دیتا۔ ظفر اقبال نے صرف غزل کا ہو کر اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے ورنہ ان میں جو قوت کی بلا ہے وہ منیر کو ایسے ہی کھا جاتی جیسے فیض فراق اور ان تمام ترقی پسندوں کو کھاگئے جن کے آگے کسی کا چراغ نہیں جلتا تھا۔

ادیب سہیل کی نظمیں معنی کی تشکیل کا معجزہ ہیں اور ان کا یہ معجزہ شاید ان کے منطقی ذہن کا وہ کرشمہ جو معنی کے ساتھ جذبے کو ہم آہنگ نہیں ہونے دیتا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ شعری باطن تخلیق نہیں ہو پاتا جو ذاتی اسلوب سے مشروط ہوتا ہے۔

خود ادیب سہیل اس کے حق میں ہیں:

ہمارے اندر کھلے ہیں تخلیق کے دریچے
جو ہم ہیں، اس کے ظہور کا ہے، ہماری تخلیق بھی ذریعہ
ہمارے ہم کی، مثالِ شبنم
نمود ہوتی ہے، قطرہ قطرہ

ادیب سہیل کی ہر نظم سوچ کو تحریک دیتی ہے، سوال اٹھاتی ہے اور ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کیا پتہ نہیں ہے۔ ہماری لا علمی کا احساس ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

ایک سو اٹھہتر صفحات پر پھیلی ہوئی ان ایک سو پندرہ نظموں نے خود مجھے، اپنے بارے میں ایک غیر یقینی صورتِ حال میں پہنچا دیا ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ شاعری کے لیے محض شعر و ادب سے عشق کافی نہیں، شعر بنانے سے نہیں ہوتا اور بنائے بغیر بھی نہیں ہوتا کیونکہ جب تک بنایا نہیں جاتا اس وقت تک یہ نہیں کھلتا کہ ہوا یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد