BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 March, 2005, 06:02 GMT 11:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمیلا کی شادی پر ڈائی یانا کا سایہ

 شہزادہ چارلس اور کمیلا پارکر بولس
ڈائیینا کی حادثاتی موت سے لے کر اب تک آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ اٹھتا رہتا ہے
وارثِ تاج و تختِ برطانیۂ عُظمیٰ ، شہزادہ چارلس اور کمیلا پارکر بولس کی شادی میں گنے چنے دن رہ گئے ہیں۔لیکن نہ کہیں غبارے ہیں، نہ جھنڈے جھنڈیاں۔ بقول فیض:

کہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

اسی پر بس نہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ اٹھتا رہتا ہے جواس موقعے کے احترام کو کم یا چھوٹے اخباروں کے بقول، اس کے گھٹیا پن کو زیادہ کردیتا ہے۔

تازہ شوشہ یہ ہے کہ اگر شہزادہ چارلس ایک دن کے لیے بھی بادشاہ بن گئے تو قانونی نکتہ یہ ہے کہ کمیلا پارکر بولس از خود ملکہ کا منصب حاصل ہو جائے گا۔

آپ نے وقت کی کمی کی وجہ سےاگر پہلے کی خبریں نہیں پڑھی تھیں تو ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فروری میں جب شادی کا اعلان ہوا تھا تو ساتھ ہی عوام کی تسلی کے لیے یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ چارلس بادشاہ بنیں گے تو کمیلا ملکہ نہیں کہلائیں گی بلکہ پرنسس کونسورٹ (شریکِ حیات شہزادی ) کہلائیں گی۔

اب پتہ چلا ہے کہ قانون کہتا ہے کہ کمیلا کو ملکہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر روکنا ہے تو قانون بدلنا ہوگا۔ نہ صرف برطانیہ میں بلکہ ان سترہ ملکوں میں بھی جن کا برطانوی تاجدار سربراہ سمجھا جاتا ہے یعنی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا وغیرہ کی طرح کے ملک۔

برطانیہ کے بارے میں ایک بات مانی ہوئی ہے کہ شاہی تقریبات کا اہتمام اس نفاست اور ہنر مندی سے کیا جاتا ہے کہ طبیعت باغ باغ ہو جاتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں یہ کیوں ہو رہا ہے کہ چارلس اور کمیلا کی شادی کے انتظام کی کوئی چول اپنی جگہ نہیں بیٹھ رہی ہے۔

پہلے تو یہی کہ یہ نکاح چرچ میں نہیں ہو سکتا۔ بھلا کیوں نہیں ہوسکتا؟۔ اس لیے کہ پروٹسٹنٹ عقیدے کے مطابق دونوں نے اپنے اپنے شریک حیات کی موجودگی میں آپس میں ناجائز تعلقات قائم کر لیے تھے۔ مذہبی لغت میں اسے زنا کہا جاتا ہے۔

کمیلا اور ڈیانا
کمیلا ڈیانا کے شادی کے بعد بھی چارلس کے قریب تھیں اور ڈیانا کا نام حادثاتی موت کے بعد کمیلا کے نام کے ساتھ ساتھ آتا ہے

طے کیا گیا کہ ایجاب و قبول تو ونزر کاسل میں رجسٹرار کرا دے گا اور بعد میں خیر و برکت کے لیے مذہبی تقریب کردی جائے گی۔

رجسٹری کی تفصیلات طے کی جانے لگیں تو انکشاف ہوا کہ ونزر کاسل نے اگر لائسنس حاصل کرلیا تو تین سال تک ہر شہری کو یہ حق مل جائے گا کہ وہ قلعے میں اپنی شادی کی رجسٹری کا انتظام کرا لے۔

یہ بات نہ تو ملکہ کو پسند آئی اور نہ دربایوں کو۔ اب قلعے کے نزدیک ایک مناسب جگہ تلاش کی گئی جہاں سِول میرج کی تقریبات ہوتی رہتی ہیں۔ اس میں ایک چھوٹا سا اسمبلی ہال ہے جس میں تیس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور ایک سو چھپن پونڈ فی گھنٹہ کرایہ ہے۔ برطانیہ کی تاریخ میں کسی جانشین کی شادی کی تقریب اتنی سستی نہیں ہوئی ہوگی۔

ملکہ نے یہ سب دیکھا تو بیٹے کو کہلوا دیا میں سول میرج کی تقریب میں نہیں آؤں گی۔ اخباروں میں طنز و مزاح کےجو پھول کھلے ان کی تفصیل میں نہ پڑیے تو اچھا ہے۔

اس کے بعدیہ شوشہ اٹھا کہ یہ شادی غیر قانونی ہوگی۔ ماہرین نے شاہی بندھنوں کے دو قوانین کی اپنے اپنے انداز میں تشریح شروع کردی۔ دونوں کے دلائیل میں وزن تھا۔ آخر میں حکومت بیچ میں پڑی اور اعلان ہوا کہ اس کی نگاہ میں یہ سِوِل میرج قانونی سمجھی جائے گی۔اس پر آوازیں اٹھیں کہ حکومت کا کیا ہے اس نے تو عراق پر حملے کو بھی قانونی قرار دے دیا تھا۔

سِوِل میرج کے قواعد کے مطابق رجسٹرار نے اس کا نوٹس جاری کیا کہ لوگ اپنے اعتراض جمع کرائیں۔ گیارہ اعتراضات میں کہا گیا کہ یہ غیر قانونی بندھن ہوگا۔ غنیمت ہوا کہ رجسٹرار جنرل نے ان سب کو رد کر دیا۔

اب بھی ایک آدھ پادری کی طرف سے دھمکیاں ملتی ہیں کہ رجسٹری کے وقت اعتراض اٹھایا جائے گا۔

نکاح کی تقریب میں نہ کسی صحافی کو مدعو کیا جارہا ہے نہ ٹیلیوژن کیمروں کو۔1981 میں ڈیانا والی شادی کو دنیا بھر کےساڑھے سات کروڑ باشندوں نے اپنے ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔

لوگ یہ کہنے سے باز نہیں آرہے کہ اس شادی پر شہزادی ڈایانا کی روح کا سایہ پڑ گیا ہے۔ ایک حسین، مہ جبین کی جگہ اب ایک ’بدصورت‘ بوڑھی عورت کو لوگوں کے دل اپنی ملکہ کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے شادی میں کسی کو دلچسپی نہیں حتیٰ کہ جاپانیوں کو بھی نہیں جو برطانوی شاہی خاندان کے عاشق ہیں اور اسی لیے شادی کے انتظامات میں وہ زندہ دلی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے جو برطانیہ والوں کا طرۂ امتیاز رہی ہے۔

چارلس کے بادشاہ بننے میں ابھی بہت عرصہ ہے۔ جب اس کا کبھی موقع آیا تو نئی پود ہوگی، نئے لوگ ہونگے۔ زمانہ آگے بڑھ چکا ہوگا۔ اور ممکن ہے کہ پھر لوگوں کو اس بات پر اعتراض نہ ہو کہ کمیلا پارکر بولس کو ملکہ کمیلا کیوں کہا جا رہا ہے۔

کیمیلا پارکر بولزکیمیلا پارکر بؤلز
شہزادہ چارلز کی ہونے والی اہلیہ کون ہیں؟
شہزادہ چارلسشہزادہ بھی کام نہ آئے
شہزادہ چارلس بھی ویزہ نہیں لگوا سکتے۔
شہزادہ چارلزچارلز اور کیمیلا
شہزادہ چارلز دوسری شادی کر رہے ہیں
ڈیانا کی یادگار
شہزادی کی یاد میں مخالف سمتوں میں بہتے دھارے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد