شہزادی ڈیانا کی یاد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارالحکومت لندن میں اپنی بہو کی یادگار کا افتتاح کرتے ہوئے ملکۂ برطانیہ الزبتھ نے شہزادی ڈیانا کو عظیم انسان قرار دیا ہے۔ ملکہ نے شہزادی کی زندگی میں آنے والی مشکلات کا اعتراف کیا مگر کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یادوں کی تلخی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یادگار کی افتتاحی تقریب میں ڈیانا کے بھائی ارل سپینسر، سابق شوہر ولی عہد شہزادہ چارلس اور بیٹوں ولیم اور ہیری نے بھی شرکت کی۔ لندن کے ہائیڈپارک میں قائم فوارہ چھتیس لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے تعمیر ہوا ہے۔ اس کی شکل بیضوی ہے اور اس میں پتھر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا ڈیزائن امریکی آرکیٹیکٹ کیتھرین گسٹافسن نے بنایا ہے۔ سن ستانوے میں ڈیانا کی تدفین کے بعد اس تقریب کے موقع پر پہلی بار شہزادی کا میکہ اور سسرال، وِنڈسرز اور سپینسرز، یکجا ہوئے۔ ملکہ کا کہنا تھا کہ شہزادی کی المناک موت نے دنیا کی توجہ مبذول کروالی تھی۔ اس یادگار کے اطراف پانی کا بہاؤ دھیمی اور تیر رفتار کے ساتھ مخالف سمتوں میں ہے۔ دور سے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہار رکھا ہوا ہے۔ ڈیانا اور چارلس پندرہ برس تک ساتھ رہے لیکن انیس سو چھیانوے میں دونوں نے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ ستانوے میں پیرس میں پیش آنے والے کار کے ایک حادثے میں شہزادی ڈیانا ہلاک ہوگئی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے مصری نژاد دوست دودی الفائد بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||