| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’شہزادی ڈیانا امید سے نہیں تھیں‘
برطانیہ کے ایک سابق سرکاری تفتیش کار ڈاکٹر جان برٹن نے کہا ہے کہ یہ افواہیں درست نہیں ہیں کہ شہزادی ڈیانا اپنی موت سے قبل حاملہ تھیں۔ انیس سو ستانوے میں ڈیانا اور ان کے مصری نژاد دوست دودی الفائد کے ہلاک ہونے کے بعد ڈیانا کا پوسٹ مارٹم ڈاکٹر جان برٹن کی موجودگی میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’ میں درحقیقت شہزادی کے پوسٹ مارٹم کے وقت وہاں موجود تھا اور مجھے معلوم ہے کہ وہ حاملہ نہیں تھیں‘۔ شہزادی کے امید سے ہونے کی افواہیں گزشتہ ماہ اس وقت سے گردش میں تھیں جب سے دودی کے والد محمد الفائد نے سکاٹ لینڈ کی ایک عدالت میں اس حادثے کی تحقیقات کروائے جانے کی درخواست دی تھی۔ کچھ کا یہ خیال بھی تھا کہ دراصل ڈیانا کا امید سے ہونا ہی ان کے حادثے کی سازش کا سبب بنا تھا۔ تاہم برٹن نے ان نظریات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ڈیانا کے پوست مارٹم کے وقت برٹن کے علاوہ صرف ایک اور تفتیش کار وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر برٹن کا کہنا ہے کہ ڈیانا صرف چھ ہفتے قبل ہی دودی سے ملی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا ’اگر وہ دودی سے پہلی ملاقات ہی میں حاملہ ہوگئی تھیں اور دودی نے محض ان سے ہاتھ ملا کر ہی انہیں حاملہ کردیا تھا تو بچہ صرف چھ ہفتے ہی کا ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ کا نہیں‘۔ شہزادی ڈیانا اور دودی الفائد کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقیات منگل سے شروع کی گئی ہیں۔ منگل کے روز عدالتی تحقیقات کرنے والے شاہی تفتیش کار مائیکل برگس نے اعلان کیا تھا کہ وہ برطانیہ کے سب سے تجربہ کار پولیس افسر سر جان سٹیون کو اس افواہ کی تحقیق کرنے کے لیے تعینات کر رہے ہیں۔ تاہم مائیکل برگس نے ڈیانا کے اس خط کا کوئی ذکر نہیں کیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ شہزادہ چارلس انہیں جان سے مارنے کی سازش کر رہے ہیں۔ڈیانا کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کا اور کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ حادثے کے چھ برس بعد شروع کی جانے والی یہ قانونی کارروائی برطانیہ میں اس معاملے کی پہلی سرکاری کارروائی ہے۔ توقع ہے کہ اس سے شہزادی ڈیانا اور دودی الفائد کے حادثے کے اصل حقائق سامنے آسکیں گے۔ اس سے قبل فرانس میں کی جانے والی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ شہزادی ڈیانا کا ڈرائیور شراب کے نشے میں تھا اور گاڑی بہت تیز چلا رہا تھا۔ لندن میں منگل کو شروع ہونے والی یہ کارروائی اگلی سماعت تک موخر ہوگئی۔ اگلی کارروائی سے ہی اس حادثے کی بھر پور تحقیقات کا آغاز ممکن ہوسکے گا۔ امکان ہے کہ یہ تحقیقات اس سال کے اختتام تک ہی مکمل ہوسکیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||