| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیانا،دودی حادثے کی تحقیقات
برطانیہ میں شہزادی ڈیانا اور ان کے مصری نژاد دوست دودی الفائد کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقیات شروع ہو گئی ہیں۔ عدالتی تحقیقات کرنے والے شاھی تفتیش کار مائیکل برگس نے اعلان کیا کہ وہ برطانیہ کے سب سے تجربہ کار پولیس افسر سر جان سٹیون کو اس افواہ کی تحقیق کرنے کے لیے تعینات کر رہے ہیں کہ ڈیانا اور ان کے ساتھی دودی الفائد کا حادثہ ایک عام ٹریفک کا حادثہ نہیں تھا۔ تاہم مائیکل برگس نے ڈیانا کی طرف سے لکھے گئے اس خط کا کوئی ذکر نہیں کیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ پرنس چارلس انہیں جان سے مارنے کی سازش کر رہے ہیں۔ڈیانا کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کا اور کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ حادثے کے چھ برس بعد شروع کی جانے والی یہ قانونی کارروائی برطانیہ میں اس معاملے کی پہلی سرکاری کارروائی ہے۔ توقع ہے کہ اس سے شہزادی ڈیانا اور دودی الفائد کے حادثے کے اصل حقائق سامنے آسکیں گے۔ اس سے قبل فرانس میں کی جانے والی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ شہزادی ڈیانا کا ڈرائیور شراب کے نشے میں تھا اور گاڑی بہت تیز چلا رہا تھا۔ لندن میں منگل کو شروع ہونے والی یہ کارروائی اگلی سماعت تک موخر ہوگی تاہم اگلی سماعت کی تاریخ کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ اگلی کارروائی سے ہی اس حادثے کی بھر پور تحقیقات کا آغاز ممکن ہوسکے گا۔ یہ تحقیقات برطانیہ کے شاہی تفتیش کار مائیکل برگس کی زیر نگرانی کی جارہی ہیں۔ اپنے بیان میں وہ بتائیں گے کہ ان کا دائرہ اختیار کتنا وسیع ہے اور وہ اس سلسلے میں کیا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد منگل کی کارروائی ختم ہوجائے گی۔ مائیکل برگس پہلے لندن کی عدالت میں شہزادی کی موت کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کریں گے جس کے بعد وہ سرے جائیں گے جہاں ایک عدالت میں دودی کی موت سے متعلق تحقیقات شروع کی جائیں گی۔ ڈیانا اور دودی پیرس میں اگست انیس سو ستانوے میں کار کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ امکان ہے کہ یہ تحقیقات اس سال کے اختتام تک ہی مکمل ہوسکیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||