معمہ حل کریں گے: سکارٹ لینڈ یارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکاٹ لینڈ یارڈ کے کمشنر سر جان سٹیونز نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شہزادی ڈیانہ کے موت کے معمہ کو حل کر کے رہیں گے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے کمشنر سر جان سٹیونز شہزادی ڈیانہ کے وفات کے مقام پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے فرانسیسی حکام نے ڈرائیور ہنری پال کو اس ایکسیڈنٹ کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ لیکن ابھی تک برطانوی پولیس نے ان تحقیقات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ سر جان کو برطانوی شاہی تفتیش کار مائیکل برجس نے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں اور پھیلی ہوئی مختلف افواہوں کو ختم کرنے میں مدد کریں۔ سر جان نے کہا کہ اس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے گا اور اس انکوائری کو دسمبر کے آخر تک مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سر جان نے مزید کہا کہ وہ ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس کے افسران سے بھی حادثے کے موقع پر کئے جانے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے الزامات پر پوچھ گچھ کریں گے۔
سر جان، مسٹر برجس اور سکارٹ لینڈ یارڈ کے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر، مسٹر الین براؤن کے ہمراہ یوروسٹار میں پیرس پہنچے۔ پہلے انہوں نے رٹز ہوٹل کا دورہ کیا جہاں سے ڈیانہ کی کار روانہ ہوئی تھی، پھر انہوں نے اس راستے کا بھی معائینہ کیا جہاں حادثے سے پہلے ڈیانہ کی کار گذری۔ اس موقع پر فرانسیسی حکام نے سرنگ میں جانے والی سڑک بند کر دی تھی اور فرانسیسی تحقیقات کی قیادت کرنے والے مسٹر مارٹن مونٹل بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سر جان نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ ان کا یہ دورہ محض ایک نمائشی دورہ ہے۔ سر جان کے بقول دو سراغ رساں ہمہ وقت اس انکوائری پر کام کریں گے۔ یہ انکوائری اگلے سال تک جا سکتی ہے اور اس پر دو ملین پاؤنڈ کی لاگت آئے گی۔ یاد رہے کہ ایک فرانسیسی جج نے اپنے چھ ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا تھا کہ ڈرائیور ہنری پال نشے میں دھت بہت تیز کار چلا رہا تھا۔
شاہی تفتیش کار مسٹر برجس نے ڈیانہ کی موت کے بارے میں اپنی تحقیقات اس سال جنوری میں موخر کر دی تھی۔ اس انکوائری کا حکم دودی کے والد اور ہیرڈز کے مالک محمد الفائد کے ان مسلسل دعوؤں کے جواب میں دیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں کو قتل کیا گیا تھا۔ بی بی سی کی نمائندہ کیرولین وائیٹ کا کہنا ہے فرانسیسی تحقیقات اور فوٹو گرافروں کے خلاف قتل کے الزامات کے خاتمے تک برطانوی اہلکاروں کے لئے تفتیش میں حصہ لینا ممکن نہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||