BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن اور برطانوی ماؤں کا دکھ

سر آئین بلیئر
سر آئین بلیئر کا کہنا ہے کہ پولیس کو کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا
لندن میں 7/7 کی دہشت گردی اور 7/21 کے ناکام حملوں کے بعد سے اب تک بیس کے لگ بھگ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں دو عورتیں بھی شامل ہیں اور ایک گرفتار وہ ہے جس کی ایکسٹراڈیشن کے لیے سرسری کارروائی اٹلی میں مکمل ہوتے ہی اسے برطانیہ کے حوالےکر دیا جائے گا اور ممکن ہے کہ جب آپ یہ پڑھ رہے ہوں یہ مرحلہ بھی سر ہو چکا ہو ۔

ان گرفتاروں میں تین وہ ہیں جو مبینہ طور پر ناکام حملوں میں ملوث تھے۔ ان میں سے ایک کو برمنگھم سے اور دو کو مغربی لندن کے علاقے نوٹنگ ہل سے گرفتار کیا گیا۔

نوٹنگ ہل سے گرفتار کیے جانے والے دونوں افراد کو اپنے محاصرے اور گرفتار کیے جانے کا علم تھا۔اگر وہ، وہی لوگ تھے جنہوں نے 21 جولائی کو خود کش حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تو بھی ان کے بارے میں کم از کم پولیس کو یا ان کی گرفتاری کی کارروائی کرنے والوں کو پورا یقین تھا کہ انہوں نے صرف ایک ہفتے پہلے خود مرتے ہوئے دوسروں کو مارنے کا منصوبہ بنایا تھا جو خوش قسمتی سے ناکام ہو گیا۔

جیسا کہ اب تک ذرائع ابلاغ نے کہا ہے یہ کارروائی کرنے والے پولیس کے اہلکار تھے جنہیں یہ یقین تھا کہ گرفتار ہو نے والوں کے پاس دھماکہ خیز مادہ ہے یا ہو سکتا ہے۔ جو مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے اور اب بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔ جنہیں یہ بھی پتہ گا کہ ’پولیس کو شوٹ ٹو کل‘ کی اجازت مل چکی ہے اور اس اختیار کا ایک مظاہرہ وہ سٹاک ول سٹیشن پر کر بھی چکی ہے لیکن اس کے باوجود پولیس نے جس طرح کارروائی کی اس کے نتیجے میں کسی بھی جانی نقصان کے بغیر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

یہ کارروائی کئی گھنٹے تک جاری رہی اور نہ صرف علاقے کے لوگوں نے بلکہ ساری دنیا نے ٹی وی کے ذریعے اس کارروائی کو ہوتے ہوئے دیکھا اور میرا خیال ہے اس ساری کارروائی کو دیکھنے سے ساری دنیا میں اس رائے نے تقویت حاصل کی ہو گی جو روایتی طور پر برطانوی پولیس کی خوش اسلوبی کے بارے میں پائی جاتا ہے۔

لیکن جو کچھ سٹاک ول میں ہوا وہ اب تک ناقابلِ فہم ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سٹاک ول کی کارروائی نے ساری ماؤں کو دہلا دیا ہے۔

مائیں بے چاری کیا کریں انہیں پہلا صدمہ تو 7/7 کے واقعات سے پہنچا۔ ایک طرف وہ مائیں تھیں جن کے بچے یہاں پیدا ہوئے یا پلے بڑھے۔ ان کے بارے میں ماؤں کو پورا یقین ہو گا کہ اس معاشرے میں پلنے بڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان پر یہاں کا رنگ روپ چڑھے گا اور وہ مختلف یعنی ’اچھے‘ انسان ثابت ہوں گے۔

اگر وہ ایسا سوچتی تھیں تو کیا غلط کرتی تھیں۔انہوں نے اپنے بزرگوں سے بھی یہی سنا ہو گا جو ولایت جاتا ہے اس کی اور اس کے گھر والوں کی زندگی ہی بدل جاتی ہے لیکن 7/7 کے واقعات نے اس مِتھ اور تصور کو تبدیل کر دیا۔اب ایسا محسوس ہوتا ہے کے اس معاشرے میں بھی کہیں کوئی خلاء یا کوئی امتیاز ہے جسے صرف نقل مکانی کر کے آنے والوں کی وہ نسل محسوس کرتی ہے جو یہاں پیدا ہوتی ہے یا ابتدائی بچپن سے جوانی تک کا عرصہ یہاں گزارتی ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق لندن کے حملے ماؤں کے ’اچھے‘ بچوں نے کیے۔ یہ مائیں کس کو دوش دیں اور ان حملوں کے نتیجے میں جو مارے گئے یا زخمی ہوئے یا اب تک اس خوف سے باہر نہیں آ سکے، ان کی مائیں کیوں نہ حملے کرنے والوں کی ماؤں کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟

یاسمین علی بھائی براؤن بھی ایک ماں ہیں اور انہیں فکر ہے کہ ان کا بیٹا جوان ہے اس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور اب عملی زندگی شروع کرنے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی جلد کی رنگت ان سے بھی گہری ہے اور اس کا قد کاٹھ بھی نکلتا ہوا ہے اور وہ ’بظاہر‘ بھی وہی دکھائی دیتا ہے جو اس وقت نشانہ بنے دکھائی دیتے ہیں۔

انہیں فکر ہے کہ کسی دن اگر ان کا بیٹا بھاگتا ہوا کسی انڈر گراؤ نڈ کی طرف گیا اور اس نے سادہ لباس میں ملبوس پولیس والے کی آواز نہ سنی تو کیا ہوگا؟
جب وہ ٹیوب میں بیٹھے گا اور اس کے آس پاس کے لوگوں کی تشویش بھری نظریں اس پر بار بار اٹھیں گی تو وہ کیا کرے گا؟ اور جب ڈبے میں اسے چڑھتا دیکھ کر کچھ مسافر ڈبے کے اس حصے سے اٹھ کر دور جا بیٹھیں گے، تو اس کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ یا راستے میں آتے جاتے ہوئے وہ صرف خود کو یا صرف اپنے جیسوں ہی کو شناختی دستاویز کے بارے میں جواب دہی کرتے ہوئے دیکھے گا، تو کیا محسوس کرے گا؟

ایک اور خاتون جو اپنے بچپن سے یہاں ہیں اور ان کے بچے بھی جوان ہو چکے ہیں میرے ایک سوال کے جواب میں بتاتی ہیں کہ آج تک ان کے خاندان میں کسی کے بھی ذہن میں یہ سوال نہیں آیا تھا کہ پولیس غلط بھی کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان جیسے سب لوگ چاہتے ہیں کہ پولیس پر ان کا اعتبار قائم رہے اور انہیں اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ پولیس اور اس کے افسران کو کیسی ذمہ داری اور خطرے کا سامنا ہے لیکن کیا پولیس کو اس بات کا اندازہ ہے کہ برطانوی یا دنیا بھر میں دوسرے مسلمان کے علم میں جب یہ بات آئے گی کہ ’شوٹ ٹو کِل‘ کی پالیسی اسرائیل کی پیروی میں اپنائی گئی ہے تو وہ کیا سوچیں گے؟

اور اس پر وزیراعظم بلیئر نے اسرائیل اور برطانیہ کو ایک صف میں کھڑا کر دیا ہے ۔ جب کہ برطانیہ کو تو امریکہ کے ساتھ بھی نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ برطانیہ اور دوسرے ملکوں کا فرق یہ ہے کہ یہاں اظہار کی آزادی ہے اور طاقت وہاں استعمال کی جاتی ہے جہاں بات کرنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہوتا یا نا انصافی پر نا انصافی ہوتی چلی جاتی ہے۔

یاسمین علی بھائی براؤن برطانیہ کے طبقۂ اشرافیہ میں اٹھنے بیٹھنے والی خاتون ہیں۔ وہ سر آئین بلیئر کی قریبی شناسا ہیں اور مداح بھی۔ ان کی رائے میں سر آئین بلیئر ایک دانشور اور انتہائی عمدہ انسان ہیں۔ لیکن ان کا کہنا کہ ’شوٹ ٹو کِل‘ کی پالیسی نے انہیں اور سرآئین بلیئر کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا ہے کیونکہ سر آئین بلیئر یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ وہ کیا بات ہے جو برطانیہ اور غزہ کو الگ کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جتنے بھی ایشیائی اور عرب خاندانوں کو وہ جانتی ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بموں سے زیادہ یہ ’شوٹ ٹو کِل پالیسی‘ زیادہ ہولناک ہے۔ دونوں بلیئر انہیں غلط کہہ سکتے ہیں لیکن انہیں ایک بار یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ ایسا کیوں سمجھتے ہیں اور یہ بھی کہ دونوں بلیئر مرنے اور مارنے والوں کی ماؤں میں کس بنا پر امتیاز قائم کریں گے اور کن کے دکھ کی ذمہ داری قبول کریں گے۔

66انٹیلیجنس کی ناکامی
اسامہ نے برطانوی اداروں کو پردہ فراہم کر دیا
667/7 کےحملے اور میں
’میں طاقت کے خلاف ناکامی اعتراف کرتا ہوں‘
66اپنے خدا کیلیے دعا
’اے خدا تجھے پھر خیر و شر پر اختیار حاصل ہو‘
66نئے جناح کی تلاش
پاکستان کو کس جناح سے زیادہ دلچسپی ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد