لندن: بڑے پیمانے پر پولیس آپریشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکیس جولائی کے ناکام بم دھماکوں کی کوشش کے دو ہفتے پورے ہونے پر لندن میں بڑے پیمانے پر پولیس آپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس آپریشن کے تحت چھ ہزار سے زیادہ پولیس افسران جن میں مسلح اہلکار بھی شامل ہیں ریلوے سٹیشنوں اور اہم مقامات پر گشت کریں گے۔ پولیس کے اس گشت کا مقصد برطانوی عوام کو تحفظ کا احساس دینا ہے جبکہ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس افسران بسوں اور زیرِ زمین ٹرینوں پر عوام کے ہمراہ مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے سفر کریں گے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے نائب کمشنر طارق غفور کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے خصوصی سراغ رسانوں کی تعیناتی سے قتل کے بہت سے اہم مقدمات کی تفتیش میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کے لیے لندن کے باہر سے بھی پولیس اہلکاروں کو لایا گیا ہے جبکہ ریٹائر شدہ پولیس افسران سے بھی کام پر واپس آنے کے لیے بات چیت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم جہاں سے بھی مدد لے سکتے ہیں وہاں سے لیں گے‘۔ علاوہ ازیں لندن انڈرگراؤنڈ کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ٹیوب نیٹ ورک کے تمام سٹیشن کھول دیے گئے ہیں۔ سات جولائی کے دھماکوں کے بعد سے جزوی طور پر معطل پکاڈلی لائن بھی مکمل طور پر رواں ہوگئی ہے۔ اس سے قبل ہیمر سمتھ اینڈ سٹی لائن نے بھی منگل کو مکمل طور پر دوبارہ کام شروع کر دیا تھا اور اب سرکل لائن کے علاوہ تمام ٹرینیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||