برطانوی اقدار اپنانا ہوں گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خزب اختلاف ٹوری پارٹی کے رہنما اور ’شیڈو‘ وزیر داخلہ ڈیوڈ ڈیوس نے برطانیہ کی کثیرالاقومی تقافت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اس کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو برطانیہ میں مقامی ثقافت کو اپنائے بغیر رہنے کی اجازت دینے سے ڈیوڈ ڈیوس نےجن کے مستقبل قریب میں ٹوری پارٹی کی قیادت سبھالنے کے امکانات بہت روشن ہیں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک برطانوی قوم بنانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے برطانوی طرز زندگی کے فروغ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں برطانیہ میں آکر آباد ہونے والوں سے جو توقعات ہونی چاہیں ان کا کھل کر اظہار کیا جانا چاہیے۔ ڈیوڈ ڈیوس کا یہ بیان ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب وزیر داخلہ ہیزل بیئر اولڈہم میں مسلمان رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ لندن بم حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور تشویش پر بات چیت کے سلسلے کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف میں ایک کالم میں انہوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو ان علماء کو رد کرنا ہوگا جو برطانوی طرز معاشرت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ کچھ اچھے امام ہوتے ہیں اور کچھ برے۔ انہوں نے برمنگھم کی مرکزی مسجد کے چیئرمین محمد نسیم کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے لندن بم حملوں کے بعد خود کش حملہ آووروں کے بجائے سکیورٹی سروسز پر اعتراضات کیے تھے جنہوں نے برمنگھم شہر سے ایک مشتبہ دہشت گرد کوگرفتار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے اندر کے حالات پر ہمیں سوالات کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکام مختلف یا کثیرالاقوامی ثقافت کے فروغ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں بجائے اس کے کہ وہ برطانوی قوم کی ثقافتی اقدار کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہ برطانیہ کی سرحدوں کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے اور برطانوی شہریت دینے کی پالیسی پر بھی فوری طور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||