مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پولیس نے بتایا ہے کہ سات جولائی کو ٹیوب ٹرینوں اور ایک بس پر حملوں کے بعد عام مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر حملوں میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ سات جولائی کے ان حملوں میں پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ مسلمانوں پر حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور پولیس کے مطابق دو سو ستر وارداتیں ہو چکی ہیں جن میں گالی گلوچ کے علاوہ معمولی مار پیٹ اور گھروں اور مسجدوں کو نقصان پہنچانے تک سبھی باتیں شامل ہیں۔ لندن کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر طارق غفور نے بتایا ہے کہ سات جولائی کے حملوں کے بعد صرف پہلے تین روز میں مسلمانوں کے خلاف اڑسٹھ ایسے حملے ہوئے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے مسلمان کہیں پسپائی نہ اختیار کرلیں اور پولیس کے ساتھ اس وقت تعاون نہ کریں جب کہ ان کے تعاون کی سخت ضرورت ہے۔ طارق غفور کو اس بارے میں بھی تشویش ہے کہ مسلمان نوجوان پولیس کے حفاظتی انتظامات ، مثلاً راہ چلتے تلاشیوں سے سخت ناخوش ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||