چالیس سال پر بھاری اکیس دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات اٹھائیس جولائی کو ہونے والے خود کش حملوں کے بعد لندن تین ہفتے گزار چکا ہے۔ اس اکیس دن میں اس شہر کے رہنے والوں میں جو انقلابی تبدیلی آئ ہے وہ میں نے اپنے چالیس سال قیام کے دوران نہیں دیکھی تھی۔ وہ چالیس سال جن میں آئی آر اے نے شہر بھر میں جگہ جگہ بموں کے حملے کیے تھے۔ پلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، وزیر اعظم کے مکان ڈاؤننگ سٹریٹ پر راکٹ سے حملہ کیا، نئے تجارتی اور مالی مرکز کنیری وہارف کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارت کو تباہ کیا، ہمارے بش ہاؤس کے نزدیک ایک بس میں دھماکہ کیا۔ ان کے علاوہ کہیں نہ کہیں بم چھپا کر پولیس کو اطلاع کردی۔ سارا علاقہ خالی کرا لیا گیا اور عام لوگوں نے سخت پریشانی اٹھائی۔ لندن نے سختیوں کے ان گنت دن اور ہفتے گزارے۔ دو چار دن لوگوں نے تھوڑی سی احتیاط کی ۔ لاوارث تھیلوں کو شبہے کی نگاہ سے دیکھا، ریلوے سٹیشنوں سے کوڑے کے ڈرم ہٹا دیے گئے کیونکہ ایک سٹیشن پر وہیں بم پھٹا تھا۔ آج تک یہ ڈرم یا بِن واپس نہیں آئے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوا تھا۔ لیکن اب کی بار حالت کچھ اور ہے۔ لوگوں کی نگاہیں بدل گئی ہیں۔ جسموں میں اک تناؤ کی سی کیفیت ہے، ایسی جیسے سپرنگ میں ہوتی ہے کہ ذرا سا دباؤ کم ہوا نہیں اور اس نے چھلانگ بھر لی۔ میری اس بات سے یہ نتجہ نہ نکائے گا کہ پورا لندن خوف و ہراس میں مبتلا ہے یا مجھ جیسی کالی رنگت کے لوگوں کو گھور گھور کے دیکھا جا رہا ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ اس مہذب معاشرے کو اس حد تک بدلنے کے لیے کچھ اور حملے درکار ہونگے۔ تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہم جیسے لوگوں سے ایک بے رخی، غیریت کا برتاؤ شروع ہوگیا ہے۔ ہاں جن علاقوں میں پہلے سے گوروں اور ’رنگدار‘ لوگوں میں کھنچاؤ پایا جاتا تھا ان میں نسلی نہیں بلکہ مذہبی حملے ہوئے جن کی تعداد تین سو بتائی جاتی ہے۔ ایک شخں کی جان بھی گئی ہے۔ ایک جائزے کا کہنا ہے کہ دو تہائی مسلمانوں نے سوچنا شروع کردیا ہے، بہت رہ لیے اب واپس اپنے وطن چلو۔ یہ تو ہم جیسے لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے جن میں سے، کہا جاتا ہے کہ حملہ آور نکلے تھے۔ لندن والوں کی معمول کی زندگی میں بھی فرق آگیا ہے۔ لندن کی ’معمول کی زندگی‘ دوسرے بہت سے شہروں کی زندگی سے مختلف ہے۔ شہر بسوں، زیر زمین ریلوں یعنی ٹیوب اور عام ٹرینوں کا غلام ہے۔ ان میں اگر گڑ بڑ ہوگی تو معمول کی زندگی جاری نہیں رہ سکتی۔ سڑکوں پر موٹریں بھی چلتی ہیں، لاریاں اور ٹرک بھی لیکن اگر سڑک ایک جگہ سے بند ہوجائے گی تو ٹریفک دوسری کسی سڑک سے جا سکتا ہے۔ اسی لیے حملہ آوروں نے ٹیوب اور بسوں کو اپنے حملوں کے لیے چنا تھا۔ سات جولائی والے پہلے چار حملوں کے بعد لوگ سہم سے گۓ۔ شہر کے تھیٹر اور سنیما بند ہوگۓ۔ شہر میں شام ڈھلے سناٹا سا چھا گیا۔ لیکن اگلی رات سے پھر وہی چہل پہل تھی۔ تھیٹر بھی بھر گۓ تھے، کلب، سنیما اور پب بھی ہمیشہ کی طرح چل رہے تھے۔ ہفتے اور اتوار کو لندن کی مشہور سڑک آکسفورڈ سٹریٹ میں دکانداروں کا کہنا تھا کہ خریدار کم تھے لیکن فکر مندی کی حد تک کم نہیں۔ دوسرے چار ناکام حملے اکیس جولائی کو ہوئے۔ اگلے دن پولیس والوں نے ایک برازیلین نوجوان کو ٹیوب ٹرین میں گولیاں مار کر مسافروں کے سامنے ماردیا۔ اس کے بعد دنیا بدل گئی۔ ایک اخبار کے سروے میں لوگوں نے کہا کہ اب ٹیوب اور بسوں میں سوار ہونے پر انہیں جھرجھری آتی ہے۔ سائکلوں کی فروخت دو گنی ہو گئی۔ ایک دکاندار کا بیان ہے کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اس کی دکان میں کوئی بائیسکل باقی نہیں رہی تھی۔ تو کیا حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب رہے؟ ایسا لگتا تو نہیں ہے کیونکہ جہاں ایک جانب لوگوں کو اپنا جسم اور جان بچانے کی فکر ہے وہیں ان کے خیالات اور رائے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ برطانیہ کے عوام نے عراق پر حملے کی جس شدت سے مخالفت کی تھی وہ اب بھی آپ کو یاد ہو گی۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر عوام میں اپنی مقبولیت کھو رہے تھے اور مئی کے الیکشن کے تک یہ انتظار شروع ہو گیا تھا کہ وہ کب عہدے سے دستبردار ہوتے ہیں، کب وزیر خزانہ گورڈن براؤن ان کی جگہ لیتے ہیں۔ عوام اب بھی عراق کی جنگ کے خلاف ہیں۔ لیکن 26 جولائی کے ایک جائزے کا کہنا ہے کہ اگرچہ عراق پر فوج کشی کو عوام کی اکثریت برطانیہ میں دہشت گردی کا ذمہ دار سمجھتی ہے لیکن ٹونی بلیئر کی طرفداری میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ گویا ایک قوم کی حیثیت سے لوگ دہشت گردی کے خلاف محاذ بنانے پر مائل ہیں۔امریکہ میں بھی گیارہ ستمبر کے بعد عوام نے اسی طرح جارج بش کو سیاہ سفید کا مالک بنادیا تھا۔ کیا حملے کرانے والے اس سے یہ سبق نہیں سیکھ سکیں گے کہ جس طرح مغرب کی زیادتیوں نے مسلمانوں میں مجموعی طور پر ایک رائے کو ہموار کیا ہے اسی طرح آپ کے حملے بھی مغرب میں آپ کے خلاف رائے ہموار کرنے میں مدد کریں گے اور حالات کو رائے عامہ کے زور پر بدلنے کی جو اک معمولی سی امید تھی وہ بھی ختم ہوجائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||