’شوٹ ٹو کِل پالیسی صحیح ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے سابق سربراہ لارڈ سٹیونز نے خودکش بمباروں کے خلاف لندن پولیس کی’شوٹ ٹو کِل‘پالیسی کا دفاع کیا ہے۔ لارڈ سٹیونز نے برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو بتایا کہ اس غلطی کے باوجود اس حرکت کے پیچھے کارفرما اصول درست تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ جب پولیس افسران کی اپنی زندگی یا عوام کی جان کو خطرہ ہو تو وہ اپنے ہتھیار کا استعمال کر سکتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب جب کہ ہمیں غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور خود کش حملوں جیسے نئے عوامل سامنے آرہے ہیں اور ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ نہ اپنی فکر کرتے ہیں نہ کسی اور کی۔ تو ایسے حالات میں پولیس پر بے انتہا دباؤ ہوتا ہے۔ وہ ہماری حفاظت کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے‘۔ لندن پولیس کے سابق سربراہ لارڈ سٹیونز نے اپنے دور میں پولیس افسران کو اسرائیل سمیت خود کش حملوں سے متاثر دیگر ممالک میں بھیجا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ان افراد نے وہاں ایک خوفناک حقیقت جانی کہ ایک خود کش بمبار کو روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کے دماغ کو تباہ کر دیا جائے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو خود کش بمبار اپنے جسم کے کسی بھی حصے سے بم چلانے کی کوشش کر سکتا ہے‘۔ لارڈ سٹیونز کا کہنا تھا کہ ’ ہم ایک انوکھے حالات میں ایک انوکھی برائی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے دشمن سے جنگ کر رہے ہیں جس کے سفاکانہ عزائم کی کوئی انتہا نہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ’ شوٹ ٹو کل‘ کا اصول غلطی کے امکان کے باوجود درست ہے اور اس پر دوبارہ غور کرنا ایک بڑی غلطی ہو گی‘۔ لارڈ سٹیونز نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا بھی افسوس ہے کہ انہیں پولیس کی روایات سے انحراف کرتے ہوئے خود کش بمباروں کے خلاف’شوٹ ٹو کل‘ کا اصول لاگو کرنا پڑا۔ جمعہ کو پولیس افسران نے سٹاک ویل سٹیشن پر ایک برازیلی ژان چارلس مینیز کو خود کش حملہ آور کے شبہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ستائیس سالہ یان چارلس مینیز کے قتل کے تفتیش سکاٹ لینڈ یارڈ کے ڈائریکٹوریٹ آف پروفیشنل سٹینڈرڈ کے افسران کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||