ہلاک ہونے والا برازیلی شہری تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے کہا ہے کہ سٹاک ویل میں مارے جانے والے کا لندن حملوں کی تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سٹاک ویل سٹیشن پر پولیس کے ہاتھوں مارا جانے والا شخص برازیل کا شہری ستائیس سالہ یان چارلز دے مینیزیس تھا۔ برازیل کی حکومت نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ برازیل کے وزیر خارجہ برطانیہ کے پہلے سے طے شدہ دورے پر آ رہے ہیں جس میں وہ اپنے شہری کی ہلاکت کے بارے میں تفصیلات معلوم کریں گے۔ لندن پولیس نے اب سے کچھ دیر پہلے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے تسلی کر لی ہے کہ گزشتہ روز جنوبی لندن کے علاقے میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شخص کا لندن میں ہونے والے ناکام بم حملوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ میٹروپولیٹن پولیس کے حکام نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جب کے سکاٹ لینڈ یارڈ نے گولی مارے جانے کو ’سانحہ‘ قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں جو بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کے اب ہم اس شخص کی شناخت کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں جسے جمعہ 22 جولائی 2005 کو لندن کے زیر زمین سٹاک ویل سٹیشن گولیاں ماری گئیں‘۔ ’ہم اب مطمئن ہیں کہ اس کا 21 جولائی کے واقعات سے تعلق نہیں تھا۔ اس طرح کے حالات میں کسی کا اس طرح جان سے جانا ایک سانحہ ہے اور میٹروپولیٹن پولیس کو اس واقعے پر افسوس ہے‘۔ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ مذکورہ شخص اسی عمارت سے نکلا تھا جو زیر نگرانی تھی اور اسی لیے پولیس نے اس کا تعاقب کیا۔ کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی پولیس ڈائریکٹریٹ کے افسر پیشہ ورانہ انداز پر کر رہے ہیں۔ جس کے بعد اسے پولیس کے شکایات کمیشن کے حوالے کیا جائے گا۔
1: عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ بیس کے لگ بھگ افراد جو عام کپڑے پہنے ہوئے تھے نمبر ایک پر دکھائے گئے داخلی راستے سے داخل ہوئے ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پولیس والے تھے۔ 2: ایک آدمی کا کہنا ہے کہ ٹکٹ چیک کرنے کے خودکار راستے کو پھلانگ کر دوسری طرف گیا اور پلیٹ فارم کی جانے لگا۔ 3: پلیٹ فار تک جانے کا زیادہ سیدھا راستہ وہ خود کار زینے ہیں جو تین نمبر کے ذریعے دکھائے گئے ہیں 4: پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اسے رکنے کے لیے کہا لیکن اس نے ان کے کہے پر کوئی توجہ نہیں دی اور شمال کی طرف جانے والی ٹرین کی طرف بھاگا اور ان ڈبوں میں ایک پر چڑھنے کی کوشش کی جو پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||